سنن النسائي حدیث نمبر: 3160
Sunan an-Nasa'i 3160
کتاب #29: کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
32: بَابُ : مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى وَعَلَيْهِ دَيْنٌ
باب: مقروض شخص کا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ ضَرَبْتُ بِسَيْفِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا، مُحْتَسِبًا، مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، حَتَّى أُقْتَلَ، أَيُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ قَالَ: " نَعَمْ، فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ، فَقَالَ: هَذَا جِبْرِيلُ يَقُولُ: إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَلَيْكَ دَيْنٌ".
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس وقت آپ منبر پر ( کھڑے خطاب فرما رہے ) تھے ، اس نے کہا : اللہ کے رسول ! آپ بتائیے اگر میں اپنی تلوار اللہ کے راستے میں چلاؤں ، ثابت قدمی کے ساتھ ، بہ نیت ثواب ، سینہ سپر رہوں پیچھے نہ ہٹوں یہاں تک کہ قتل کر دیا جاؤں تو کیا اللہ تعالیٰ میرے سبھی گناہوں کو مٹا دے گا ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں “ ، پھر جب وہ جانے کے لیے مڑا ، آپ نے اسے بلایا اور کہا : ” یہ جبرائیل ہیں ، کہتے ہیں : مگر یہ کہ تم پر قرض ہو “ ( تو قرض معاف نہیں ہو گا ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3160]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإمارة 32 (1885)، (تحفة الأشراف: 12104) (صحیح)