سنن النسائي حدیث نمبر: 3161
Sunan an-Nasa'i 3161
کتاب #29: کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
33: بَابُ : مَا يُتَمَنَّى فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں شہید ہونے والے کی تمنا کا بیان۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ بْنِ سُمَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ حَدَّثَهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ وَلَهَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ، تُحِبُّ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْكُمْ وَلَهَا الدُّنْيَا، إِلَّا الْقَتِيلُ، فَإِنَّهُ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ، فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى".
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شہید کے سوا دنیا میں کوئی بھی فرد ایسا نہیں ہے جسے مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے یہاں خیر ملا ہوا ہو ( اچھا مقام و مرتبہ حاصل ہو ) پھر وہ لوٹ کر تم میں آنے کے لیے تیار ہو اگرچہ اسے پوری دنیا مل رہی ہو ۔ ( صرف شہید ہے ) جو لوٹ کر دنیا میں آنا اور دوبارہ قتل ہو کر اللہ تعالیٰ کے پاس جانا پسند کرتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3161]
💡 وضاحت:
۱؎: تاکہ اسے اپنی شہادت کی وجہ سے جو عزت و مرتبہ اور بلند مقام حاصل ہوا ہے وہ دوبارہ کی شہادت سے اور بھی بڑھ جائے اور بلند ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5108)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/في الإمارة 29 (1877) مسند احمد (5/318، 322) (حسن صحیح)