سنن النسائي حدیث نمبر: 3187
Sunan an-Nasa'i 3187
کتاب #29: کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
45: بَابُ : فَضْلِ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ، قَالَ: قُلْتُ حَدِّثْنِي، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لَهُ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ كُلُّهُمْ يَدْعُوهُ إِلَى مَا عِنْدَهُ" , قُلْتُ: وَكَيْفَ ذَلِكَ؟ قَالَ: " إِنْ كَانَتْ إِبِلًا فَبَعِيرَيْنِ وَإِنْ كَانَتْ بَقَرًا فَبَقَرَتَيْنِ".
صعصہ بن معاویہ کہتے ہیں کہ میری ملاقات ابوذر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، تو میں نے ان سے کہا : مجھ سے آپ کوئی حدیث بیان کیجئے ، تو انہوں نے کہا : اچھا ( پھر کہا : ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی مسلمان اللہ کے راستے میں اپنا ہر مال جوڑا جوڑا کر کے خرچ کرتا ہے تو جنت کے سبھی دربان اس کا استقبال کریں گے اور ہر ایک کے پاس جو کچھ ہو گا انہیں دینے کے لیے اسے بلائیں گے “ ، ( صعصعہ کہتے ہیں ) میں نے کہا : یہ کیسے ہو گا ؟ تو انہوں نے کہا : اگر اونٹ رکھتا ہو تو دو اونٹ دیئے ہوں ، اور گائیں رکھتا ہو تو دو گائیں دی ہوں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3187]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کی کچھ وضاحت فرمائیے کہ ہر قسم کے مال سے جوڑا دینے کا کیا مطلب ہے؟
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11924)، مسند احمد (5/151، 159153، 164)، سنن الدارمی/الجہاد 13 (2447) (صحیح)