سنن النسائي حدیث نمبر: 3099
Sunan an-Nasa'i 3099
کتاب #29: کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
2: بَابُ : التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجِهَادِ
باب: جہاد چھوڑ دینے پر وارد وعید کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وُهَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ الْوَرْدِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ، وَلَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهُ بِغَزْوٍ، مَاتَ عَلَى شُعْبَةِ نِفَاقٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص مر گیا ، اور اس نے جہاد نہیں کیا ، اور نہ ہی جہاد کے بارے میں اس نے اپنے دل میں سوچا و ارادہ کیا ۱؎ ، تو وہ ایک طرح سے نفاق پر مرا ۲؎ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3099]
💡 وضاحت:
۱؎: دل میں سوچنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے دل میں مجاہد بننے کی تمنا کرے، اور ارادہ کا مطلب یہ ہے کہ جہاد سے متعلق ساز و سامان کے حصول کی کوشش اور اس کے لیے تیاری کرے۔ ۲؎: گویا وہ جہاد سے پیچھے رہ جانے والے منافقین کے مشابہ ہو گیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإمارة (910)، سنن ابی داود/الجہاد 18 (2502)، (تحفة الأشراف: 12567)، مسند احمد (2/374) (صحیح)