سنن النسائي حدیث نمبر: 3180
Sunan an-Nasa'i 3180
کتاب #29: کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
43: بَابُ : الاِسْتِنْصَارِ بِالضَّعِيفِ
باب: کمزور آدمی سے مدد چاہنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ ظَنَّ أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَى مَنْ دُونَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَنْصُرُ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِضَعِيفِهَا، بِدَعْوَتِهِمْ، وَصَلَاتِهِمْ، وَإِخْلَاصِهِمْ".
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہیں خیال ہوا کہ انہیں اپنے سوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر صحابہ پر فضیلت و برتری حاصل ہے ۱؎ ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس امت کی مدد اس کے کمزور لوگوں کی دعاؤں ، صلاۃ اور اخلاص کی بدولت فرماتا ہے “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3180]
💡 وضاحت:
۱؎: انہیں ایسا خیال شاید اپنی مالداری، بہادری، تیر اندازی اور زور آوری کی وجہ سے ہوا۔ ۲؎: اس لیے انہیں حقیر و کمزور نہ سمجھو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجہاد 76 (2896)، (تحفة الأشراف: 3935)، مسند احمد (1/173) (صحیح)