سنن النسائي حدیث نمبر: 3146
Sunan an-Nasa'i 3146
کتاب #29: کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
26: بَابُ : ثَوَابِ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں تیر اندازی کرنے والے کے ثواب کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، قَالَ لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ: يَا كَعْبُ حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ لَهُ: حَدِّثْنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " ارْمُوا، مَنْ بَلَغَ الْعَدُوَّ بِسَهْمٍ رَفَعَهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً" , قَالَ ابْنُ النَّحَّامِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الدَّرَجَةُ؟ قَالَ: " أَمَا إِنَّهَا لَيْسَتْ بِعَتَبَةِ أُمِّكَ، وَلَكِنْ مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ مِائَةُ عَامٍ".
شرحبیل بن سمط سے روایت ہے کہ انہوں نے کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے کہا : کعب ! ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کیجئے ، لیکن دیکھئیے اس میں کوئی کمی و بیشی اور فرق نہ ہونے پائے ۔ انہوں نے کہا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو مسلمان اسلام پر قائم رہتے ہوئے اللہ کے راستے میں بوڑھا ہوا تو قیامت کے دن یہی چیز اس کے لیے نور بن جائے گی “ ، انہوں نے ( پھر ) ان سے کہا : ہم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ( کوئی اور ) حدیث بیان کیجئے ، لیکن ( ڈر کر اور بچ کر ) بے کم و کاست ( سنائیے ) ۔ انہوں نے کہا : میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ( دشمن کو ) تیر مارو ، جس کا تیر دشمن کو لگ گیا تو اس کے سبب اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا “ ، ( یہ سن کر ) ابن النحام نے کہا : اللہ کے رسول ! وہ درجہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ( سن ) وہ تمہاری ماں کی چوکھٹ نہیں ہے ( جس کا فاصلہ بہت کم ہے ) بلکہ ایک درجہ سے لے کر دوسرے درجہ کے درمیان سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3146]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (1634) قال أبو داود: سالم لم يسمع من شرحبيل،مات شرحبيل بصفين (سنن أبى داود: 3967 طرفه الآخر) ولأصل الحديث شواهد عند مسلم (1509) والحميدي (767) وغيرهما. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 345
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/العتق 14 (3967)، سنن ابن ماجہ/العتق 4 (2522)، (تحفة الأشراف: 11163)، مسند احمد (4/235-236) (صحیح)