سنن النسائي حدیث نمبر: 3190
Sunan an-Nasa'i 3190
کتاب #29: کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
46: بَابُ : فَضْلِ الصَّدَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں صدقہ و خیرات کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " الْغَزْوُ غَزْوَانِ: فَأَمَّا مَنِ ابْتَغَى وَجْهَ اللَّهِ، وَأَطَاعَ الْإِمَامَ، وَأَنْفَقَ الْكَرِيمَةَ، وَيَاسَرَ الشَّرِيكَ، وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ، كَانَ نَوْمُهُ وَنُبْهُهُ أَجْرًا كُلُّهُ، وَأَمَّا مَنْ غَزَا رِيَاءً وَسُمْعَةً وَعَصَى الْإِمَامَ، وَأَفْسَدَ فِي الْأَرْضِ، فَإِنَّهُ لَا يَرْجِعُ بِالْكَفَافِ".
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہاد دو طرح کے ہیں : ایک جہاد وہ ہے جس میں جہاد کرنے والا اللہ کی رضا و خوشنودی کا طالب ہو ، امام ( سردار ) کی اطاعت کرے ، اپنی پسندیدہ چیز اللہ کے راستے میں خرچ کرے ، اپنے شریک کو سہولت پہنچائے ، اور فساد سے بچے تو اس کا سونا ، و جاگنا سب کچھ باعث اجر ہو گا ۔ دوسرا جہاد وہ ہے جس میں جہاد کرنے والا ریاکاری اور شہرت کے لیے جہاد کرے ، امیر ( سردار و سپہ سالار ) کی نافرمانی کرے اور زمین میں فساد پھیلائے تو وہ برابر سرابر نہیں لوٹے گا ۱؎ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3190]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اسے کچھ ثواب نہیں ملے گا، بلکہ ہو سکتا ہے الٹا اسے عذاب ہو۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الجہاد25 (2515)، (تحفة الأشراف: 11329)، موطا امام مالک/الحج 18 (43) (موقوفا) مسند احمد (5/234)، سنن الدارمی/الجہاد 25 (2461)، ویأتي عند المؤلف برقم: 4200 (حسن)