سنن النسائي حدیث نمبر: 3192
Sunan an-Nasa'i 3192
کتاب #29: کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
48: بَابُ : مَنْ خَانَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ
باب: غازی کی بیوی کے ساتھ خیانت کرنے والے کا بیان۔
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ، وَإِذَا خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ فَخَانَهُ قِيلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ هَذَا خَانَكَ فِي أَهْلِكَ، فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ مَا شِئْتَ فَمَا ظَنُّكُمْ".
بریدہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجاہدین کی بیویاں گھروں پر بیٹھ رہنے والوں کے لیے ویسی ہی حرام ہیں جیسی ان کی مائیں ان کے حق میں حرام ہیں ۔ اگر وہ ( مجاہد ) کسی کو گھر پر ( دیکھ بھال کے لیے ) چھوڑ گیا اور اس نے اس کی ( امانت میں ) خیانت کی ۔ تو قیامت کے دن اس ( مجاہد ) سے کہا جائے گا ( یہ ہے تیرا مجرم ) یہ ہے جس نے تیری بیوی کے تعلق سے تیرے ساتھ خیانت کی ہے ۔ تو تو اس کی جتنی نیکیاں چاہے لے لے ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تمہارا کیا گمان ہے “ ( کیا وہ کچھ باقی چھوڑے گا ؟ ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3192]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 3191 (صحیح)