سنن النسائي حدیث نمبر: 3170
Sunan an-Nasa'i 3170
کتاب #29: کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
39: بَابُ : فَضْلِ الرِّبَاطِ
باب: سرحد پر پہرے کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ , عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ رَابَطَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَوْمًا وَلَيْلَةً، كَانَتْ لَهُ كَصِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ، فَإِنْ مَاتَ جَرَى عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُ، وَأَمِنَ الْفَتَّانَ، وَأُجْرِيَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ".
سلمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس نے اللہ کے راستے میں ایک دن ایک رات پہرہ دیا اسے ایک ماہ کے روزے رکھنے اور نماز پڑھنے کا ثواب ملے گا ، اور اگر وہ ( اس دوران ) مر گیا تو وہ جو کام کر رہا تھا اس کا وہ کام جاری تصور کیا جائے گا ۔ اور ( منکر و نکیر کے ) فتنوں سے محفوظ ہو جائے گا ، ( یعنی وہ اس سے سوال و جواب کرنے کے لیے اس کے پاس حاضر نہ ہوں گے ) اور اس کے لیے اس کا رزق ( جو شہداء کا رزق ہے ) جاری کر دیا جائے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3170]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 3169 (صحیح)