📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل (كتاب الجهاد) 🏷️ باب: باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں جوڑا دینے والے کی فضیلت کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 3137 Sunan an-Nasa'i 3137
کتاب #29: کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
20: بَابُ : فَضْلِ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں جوڑا دینے والے کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يُحَدِّثُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ , يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَذَا خَيْرٌ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَاب: الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَاب: الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَاب: الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَاب: الرَّيَّانِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا عَلَى الَّذِي يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا مِنْ ضَرُورَةٍ هَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اللہ کے راستے میں جوڑا دے ۱؎ ، جنت میں ( اسے مخاطب کر کے ) کہا جائے گا : اللہ کے بندے یہ ہے ( تیری ) بہتر چیز ۔ تو جو کوئی نمازی ہو گا اسے باب صلاۃ ( صلاۃ کے دروازہ ) سے بلایا جائے گا ، اور جو کوئی مجاہد ہو گا اسے باب جہاد ( جہاد کے دروازہ ) سے بلایا جائے گا ، اور جو کوئی صدقہ و خیرات دینے والا ہو گا اسے باب صدقہ ( صدقہ و خیرات والے دروازہ ) سے پکارا جائے گا ، اور جو کوئی اہل صیام میں سے ہو گا اسے باب ریان ( سیراب و شاداب دروازہ ) سے بلایا جائے گا “ ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! اس کی کوئی ضرورت و حاجت نہیں کہ کسی کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے ۲؎ کیا کوئی ان تمام دروازوں سے بھی بلایا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں لوگوں میں سے ہو گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3137]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جو چیز بھی اللہ کے راستے میں دیتا ہے تو دینے والے کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ جوڑا کی شکل میں دے، یا جوڑا سے مراد نیک عمل کی تکرار ہے۔ ۲؎: کیونکہ جنت میں داخل ہونے کا مقصد تو صرف ایک دروازے سے دخول کی اجازت ہی سے حاصل ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 2240 (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #3137
3135 3136 3137 3138 3139
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ