كتاب التجارات
کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
|
10: بَابُ : كَسْبِ الْحَجَّامِ
باب: حجام (پچھنا لگانے والے) کی کمائی کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ أَبُو حَفْصٍ الصَّيْرَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَنِي فَأَعْطَيْتُ الْحَجَّامَ أَجْرَهُ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا ، اور مجھے حکم دیا تو میں نے حجام ( پچھنا لگانے والے ) کو اس کی اجرت دی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2163]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10284، ومصباح الزجاجة: 766)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/90، 134، 135) (صحیح) (عبدالاعلی بن عامر متکلم فیہ راوی ہیں، لیکن باب کی احادیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور حجام ( پچھنا لگانے والے ) کو اس کی اجرت دی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2164]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1471)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطب 13 (5696)، صحیح مسلم/المسا قاة 11 (1577)، سنن ابی داود/البیوع 39 (3424)، سنن الترمذی/البیوع 48 (1278)، موطا امام مالک/الإستئذان 10 (26) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ".
ابومسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجام ( پچھنا لگانے والے ) کی کمائی سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2165]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10011، ومصباح الزجاجة: 767) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ؟ فَنَهَاهُ عَنْهُ فَذَكَرَ لَهُ الْحَاجَةَ، فَقَالَ: " اعْلِفْهُ نَوَاضِحَكَ".
محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حجام ( پچھنا لگانے والے ) کی کمائی کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس سے منع فرمایا ، انہوں نے اس کی ضرورت بیان کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے پانی لانے والے اونٹوں کو اسے کھلا دو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2166]
💡 وضاحت:
۱؎: محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پچھنا لگانے کی اجرت حرام ہے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ جب کہ انس اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کی حدیثیں صحیحین میں موجود ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طیبہ کے ہاتھ سے پچھنا لگوایا اور اس کو گیہوں کے دو صاع (پانچ کلو) دیئے، واضح رہے کہ پچھنا لگانے والے کی اجرت کلی طور پر حرام نہیں ہے، بلکہ اس میں ا یک نوع کی کراہت ہے، اور اس کا صرف کرنا اپنے کھانے پینے یا دوسروں کے کھلانے پلانے یا صدقہ میں مناسب نہیں بلکہ جانوروں کی خوراک میں صرف کرنا بہتر ہے جیسا کہ گذشتہ حدیث میں مذکور ہے، یا جو اس کی مثل ہو، جیسے چراغ کی روشنی یا پاخانہ کی مرمت میں، اور اس طریق سے دونوں کی حدیثیں مطابق ہو جاتی ہیں، اور تعارض نہیں رہتا۔ (ملاحظہ ہو: الروضہ الندیہ)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 39 (3422)، سنن الترمذی/البیوع 47 (1276، 1277)، (تحفة الأشراف: 11238)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الإستئذان 10 (28)، مسند احمد (5/435، 436) (صحیح)
|
|
|
11: بَابُ : مَا لاَ يَحِلُّ بَيْعُهُ
باب: حرام اور ناجائز چیزوں کی خرید و فروخت حلال نہیں ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالْأَصْنَامِ"، فَقِيلَ لَهُ: عِنْدَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ، فَإِنَّهُ يُدْهَنُ بِهَا السُّفُنُ وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ، قَالَ: " لَا هُنَّ حَرَامٌ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ، فَأَجْمَلُوهُ ثُمَّ بَاعُوهُ، فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ".
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال جب کہ آپ مکہ میں تھے فرمایا : ” اللہ اور اس کے رسول نے شراب ، مردار ، سور اور بتوں کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا ہے ، اس وقت آپ سے عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! مردار کی چربی کے بارے میں ہمیں بتائیے اس کا کیا حکم ہے ؟ اس سے کشتیوں اور کھالوں کو چکنا کیا جاتا ہے ، اور اس سے لوگ چراغ جلاتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ( یہ بھی جائز نہیں ) یہ سب چیزیں حرام ہیں “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک کرے ، اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی حرام کی تو انہوں نے ( حیلہ یہ کیا کہ ) پگھلا کر اس کی شکل بدل دی ، پھر اس کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2167]
💡 وضاحت:
۱؎: ظاہر میں انہوں نے شرعی حیلہ کیا کہ چربی نہیں کھائی، لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ دلوں کی بات کو جانتا ہے، اور اس کے سامنے کوئی حیلہ نہیں چل سکتا، بلکہ کیا عجب ہے کہ حیلہ کرنے والے کو اصل گناہ کرنے والے سے زیادہ عذاب ہو، کیونکہ اصل گناہ کرنے والا نادم اور شرمسار ہوتا ہے، اور اپنے گناہ پر اپنے آپ کو قصوروار سمجھتا ہے، لیکن شرعی حیلے کرنے والے تو خوب غراتے اور گردن کی رگیں پھلاتے ہیں، اور بحث کرنے پر مستعد ہوتے ہیں کہ ہم نے کوئی گناہ کی بات نہیں کی، دوسری حدیث میں ہے کہ شراب کی وجہ سے اللہ تعالی نے دس آدمیوں پر لعنت کی، نچوڑنے والے، نچڑوانے والے پر، پینے والے اور اٹھانے والے پر، جس کے لئے اٹھایا جائے، پلانے والے پر، بیچنے والے پر، اس کی قیمت کھانے والے پر، خریدنے والے پر، جس کے لئے خریدا اس پر، بڑے افسوس کی بات ہے کہ اکثر مسلم ممالک میں اعلانیہ شراب اور سور کے گوشت کی خریدوفروخت ہوتی ہے، اور اس سے بڑھ کر افسوس اس پر ہے کہ مسلمان خود شراب پیتے اور دوسروں کو پلاتے ہیں، اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں شرماتے، اور یہ نہیں جانتے کہ شراب کا پلانے والا بھی ملعون ہے، جیسے پینے والا، اور شراب کا خریدنے والا بھی ملعون ہے، اور جس دستر خوان یا میز پر شراب پی جائے وہاں پر کھانا حرام ہے گو خود نہ پئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 112 (2236)، المغازي 51 (4296)، سورة الأنعام 6 (4633)، صحیح مسلم/المساقاة 13 (1581)، سنن ابی داود/البیوع 66 (3486، 3487)، سنن الترمذی/البیوع 61 (1297)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 7 (4261)، البیوع 91 (4673)، (تحفة الأشراف: 2494)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/334، 370) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْإِفْرِيقِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمُغَنِّيَاتِ، وَعَنْ شِرَائِهِنَّ، وَعَنْ كَسْبِهِنَّ، وَعَنْ أَكْلِ أَثْمَانِهِنَّ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغنیہ ( گانے والی عورتوں ) کی خرید و فروخت ، ان کی کمائی اور ان کی قیمت کھانے سے منع کیا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2168]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ فيه علل منھا ضعف عبيد اللّٰه (بن زحر) الإفريقي (ضعيف / د 3293) وھو رواه عن علي بن يزيد ضعيف عند الترمذي (1282) ¤ وللحديث شواهد ضعيفة عند الطبراني (212/8 ح 7749) وغيره ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 457
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/البیوع 15 (1282)، (تحفة الأشراف: 4898) (حسن) (سند میں ابو المہلب ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2922)
|
|
|
12: بَابُ : مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ الْمُنَابَذَةِ وَالْمُلاَمَسَةِ
باب: بیع منابذہ اور ملامسہ کی ممانعت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ عَنِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بیع سے منع کیا ہے : ایک بیع ملامسہ سے ، دوسری بیع منابذہ سے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2169]
💡 وضاحت:
۱؎: منابذہ: یہ ہے کہ بائع (بیچنے والا) اپنا کپڑا مشتری (خریدنے والے) کی طرف پھینک دے، اور مشتری بائع کی طرف، اور ہر ایک یہ کہے کہ یہ کپڑا اس کپڑے کا بدل ہے، اور بعضوں نے کہا کہ منابذہ یہ ہے کہ کپڑا پھینکنے سے بیع پوری ہو جائے نہ اس چیز کو دیکھیں نہ راضی ہوں۔ ملامسہ: یہ ہے کہ کپڑے کو چھو لیں نہ اس کو کھولیں نہ اندر سے دیکھیں، یا رات کو صرف چھو کر بیچیں، ان دونوں بیعوں سے منع کیا، کیونکہ ان میں دھوکہ ہے اور یہ شرعاً فاسد ہے کہ دیکھنے پر کسی کو بیع کے فسخ کا اختیار نہ ہو گا۔ (الروضہ الندیہ)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 10 (368)، المواقیت 30 (584)، الصوم 67 (1993)، البیوع 63 (2146)، اللباس 20 (5819)، 21 (5821)، صحیح مسلم/البیوع 1 (1511)، سنن النسائی/البیوع 24 (4521)، (تحفة الأشراف: 12265)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 69 (1310)، موطا امام مالک/البیوع 35 (76)، مسند احمد (2/279، 319، 419، 464) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " نَهَى عَنِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ". زَادَ سَهْلٌ، قَالَ سُفْيَانُ: الْمُلَامَسَةُ: أَنْ يَلْمِسَ الرَّجُلُ بِيَدِهِ الشَّيْءَ وَلَا يَرَاهُ وَالْمُنَابَذَةُ، أَنْ يَقُولَ: أَلْقِ إِلَيَّ مَا مَعَكَ وَأُلْقِي إِلَيْكَ مَا مَعِي.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسہ و منابذہ سے منع کیا ہے ۔ سہل نے اتنا مزید کہا ہے کہ سفیان نے کہا کہ ملامسہ یہ ہے کہ آدمی ایک چیز کو ہاتھ سے چھوئے اور اسے دیکھے نہیں ، ( اور بیع ہو جائے ) اور منابذہ یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے سے کہے کہ جو تیرے پاس ہے میری طرف پھینک دے ، اور جو میرے پاس ہے وہ میں تیری طرف پھینکتا ہوں ( اور بیع ہو جائے ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2170]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 62 (2144)، 63 (2147)، اللباس 20 (5820)، الاستئذان 42 (6284)، صحیح مسلم/البیوع 1 (1512)، سنن ابی داود/البیوع 24 (4519)، سنن النسائی/البیوع 24 (4524)، 25 (4527)، (تحفة الأشراف: 4154)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/6، 59، 66، 67، 71، 95)، سنن الدارمی/البیوع 28 (2604) (صحیح)
|
|
|
13: بَابُ : لاَ يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلاَ يَسُومُ عَلَى سَوْمِهِ
باب: نہ اپنے بھائی کے سودے پر سودا لگائے اور نہ اس کے دام پر دام لگائے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَبِيعُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی کسی کے سودے پر سودہ نہ کرے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2171]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/النکاح 45 (5142)، صحیح مسلم/النکاح 6 (1412)، البیوع 8 (1412)، سنن ابی داود/النکاح 18 (2081)، سنن النسائی/النکاح 20 (3240)، البیوع 18 (4508)، (تحفة الأشراف: 8329)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 57 (1134)، موطا امام مالک/البیوع 45 (95)، مسند احمد (2/ 122، 124، 126، 130، 142، 153)، سنن الدارمی/البیوع 33 (2609) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَسُومُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودہ نہ کرے ، اور نہ اپنے بھائی کے دام پر دام لگائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2172]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 58 (2140)، الشروط 8 (2723)، النکاح 45 (5142)، صحیح مسلم/النکاح 6 (1412)، سنن ابی داود/النکاح 18 (2080)، سنن الترمذی/النکاح 38 (1134)، سنن النسائی/النکاح 20 (3241)، (تحفة الأشراف: 13123)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 45 (96)، مسند احمد (20/238، 273، 318، 394، 411، 427)، سنن الدارمی/النکاح 7 (2221) (صحیح)
|
|
|
14: بَابُ : مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ النَّجْشِ
باب: بیع نجش کی ممانعت۔
|
|
|
قَرَأْتُ عَلَى مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيِّ ، عَنْ مَالِكٍ ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو حُذَافَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ النَّجْشِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع نجش سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2173]
💡 وضاحت:
۱؎: بیع نجش یہ ہے کہ آدمی بیچنے والے سے سازش کر کے مال کی قیمت بڑھا دے اور خریدنا منظور نہ ہو، تاکہ دوسرے خریدار دھوکہ کھائیں اور قیمت بڑھا کر اس مال کو خرید لیں، اس زمانہ میں نیلام میں اکثر لوگ ایسا کیا کرتے ہیں اور اس فعل کو گناہ نہیں سمجھتے، جب کہ یہ کام حرام اور ناجائز ہے، اور ایسی سازش کے نتیجے میں اگر خریدار اس مال کی اتنی قیمت دیدے جتنی حقیقت میں اس مال کی نہیں بنتی تو اس کو اختیار ہے کہ وہ اس بیع کو فسخ کر دے، اور سامان واپس کر کے اپنا پیسہ لے لے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 69 (2142)، الحیل 6 (6963)، صحیح مسلم/البیوع 4 (1516)، سنن النسائی/البیوع 19 (4509)، (تحفة الأشراف: 8348)، وقدأخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 45 (97)، مسند احمد (2 /7، 42، 63)، سنن الدارمی/البیوع 33 (2609) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَنَاجَشُوا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آپس میں بیع نجش نہ کرو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2174]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث (رقم: 1867، 2172) (صحیح)
|
|
|
15: بَابُ : النَّهْيِ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ
باب: شہری باہر سے آنے والے دیہاتی کا مال (مہنگا کرنے کے ارادے سے) نہ بیچے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شہری باہر سے آنے والے دیہاتی کا مال نہ بیچے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2175]
💡 وضاحت:
۱؎: مثلاً باہر والا غلہ شہر لائے اور اس کی نیت یہ ہو کہ آج کے نرخ سے بیچ ڈالے اس میں شہر والوں کو فائدہ ہو، ان کو غلہ کی ضرورت ہو لیکن ایک شہر والا اس کو کہے کہ تم اپنا مال ابھی نہ بیچو، مجھ کو دے دو، میں مہنگی قیمت سے بیچ دوں گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا کیونکہ اس میں عام لوگوں کا نقصان ہے گو صرف ایک شخص کا فائدہ ہے، مگر یہ قاعدہ ہے کہ ایک شخص کے فائدہ کے لئے عام نقصان جائز نہیں ہو سکتا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث (رقم: 1867، 2172) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شہری باہر سے آنے والے دیہاتی کا مال نہ بیچے ، لوگوں کو چھوڑ دو ، ( خود بیچیں ) اللہ تعالیٰ بعض کو بعض سے روزی دیتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2176]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/البیوع 6 (1522)، سنن الترمذی/البیوع 13 (1223)، (تحفة الأشراف: 2764)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/البیوع 45 (3436)، مسند احمد3/307) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ" قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا قَوْلُهُ حَاضِرٌ لِبَادٍ، قَالَ: لَا يَكُونُ سِمْسَارًا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہری کو دیہاتی کا مال بیچنے سے منع فرمایا ہے ۔ طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول : «حاضر لباد» کا کیا مفہوم ہے ؟ تو انہوں نے کہا : بستی والا باہر والے کا دلال نہ بنے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2177]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 68 (2158)، 71 (2163)، الإجارة 14 (2274)، صحیح مسلم/البیوع 6 (1521)، سنن ابی داود/البیوع 47 (3439)، سنن النسائی/البیوع 16 (4504)، (تحفة الأشراف: 5706)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/368) (صحیح)
|
|
|
16: بَابُ : النَّهْيِ عَنْ تَلَقِّي الْجَلَبِ
باب: بازار میں پہنچنے سے پہلے تاجروں سے جا کر ملنا اور ان سے سامان تجارت خریدنا منع ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَلَقَّوْا الْأَجْلَابَ فَمَنْ تَلَقَّى مِنْهُ شَيْئًا، فَاشْتَرَى، فَصَاحِبُهُ بِالْخِيَارِ إِذَا أَتَى السُّوقَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” باہر سے آنے والے سامان تجارت کو بازار میں پہنچنے سے پہلے نہ لیا کرو ، اگر کوئی اس طرح خریداری کر لے ، تو بازار میں آنے کے بعد صاحب مال کو اختیار ہو گا ، چاہے تو اس بیع کو باقی رکھے اور چاہے تو فسخ ( منسوخ ) کر دے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2178]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14565)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 71 (2162)، صحیح مسلم/البیوع 5 (1519)، سنن النسائی/البیوع 16 (4505)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/284، 403)، سنن الدارمی/البیوع 32 (2608) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَلَقِّي الْجَلَبِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر سے آنے والے سامان تجارت کو بازار میں پہنچنے سے پہلے آگے جا کر خرید لینے سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2179]
💡 وضاحت:
۱؎: «تلقي جلب» کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ باہر والوں کو شہر کا بھاؤ معلوم نہیں ہوتا، تو یہ شہری تاجر پہلے سے جا کر ان سے مل کر ان کا مال سستے دام سے خرید لیتا ہے، جب وہ شہر میں آتے ہیں اور دام معلوم کرتے ہیں تو ان کو افسوس ہوتا ہے، یہ اس لئے منع ہوا کہ اس میں باہر والے تاجروں کا نقصان ہے، اور شہر والوں کا بھی، باہر والوں کا تو ظاہر ہے، شہر والوں کا نقصان اس سے طرح کہ شاید وہ شہر میں آتے تو سستا بیچتے، اب اس شہر والے نے ان باہر سے آنے والوں کا مال لے لیا، جس کو وہ آہستہ آہستہ مہنگا کر کے بیچے گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: 8059)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 71 (2165)، صحیح مسلم/البیوع 5 (1518)، سنن ابی داود/البیوع 45 (3436)، سنن النسائی/البیوع 16 (4503)، مسند احمد (2/7، 22، 63، 91) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَحَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَلَقِّي الْبُيُوعِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال بیچنے والوں سے بازار میں پہنچنے سے پہلے آگے جا کر ملنے سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2180]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 64 (2149)، صحیح مسلم/البیوع 5 (1518)، سنن الترمذی/البیوع 12 (1220)، (تحفة الأشراف: 9377)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/430) (صحیح)
|
|
|
17: بَابُ : الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا
باب: بیچنے اور خریدنے والے جب تک ایک دوسرے سے الگ نہ ہو جائیں دونوں کو بیع فسخ کرنے کا اختیار ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ، فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، وَكَانَا جَمِيعًا أَوْ يُخَيِّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ، وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب دو آدمی ایک مجلس میں خرید و فروخت کریں ، تو دونوں میں سے ہر ایک کو بیع فسخ کرنے کا اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں ، یا ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو اختیار نہ دیدے ، پھر اگر ایک نے دوسرے کو اختیار دے دیا پھر بھی ان دونوں نے بیع پکی کر لی تو بیع واجب ہو گئی ، اس طرح بیع ہو جانے کے بعد اگر وہ دونوں مجلس سے جدا ہو گئے تب بھی بیع لازم ہو گئی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2181]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جدا ہونے سے بدن کا جدا ہونا مراد ہے، اور اس حدیث کے راوی ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی یہی معنی سمجھا تھا، دوسری روایت میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی بیع کو پورا کرنا چاہتے تو عقد کے بعد چند قدم چلتے تاکہ بیع پکی ہو جائے، اور اگر تفرق اقوال مراد ہوتا یعنی ایجاب و قبول کا ہو جانا تو اس حدیث کا بیان کرنے کا کیا مقصد، اس لئے جب تک ایجاب و قبول نہ ہوں بیع تمام ہی نہیں ہوئی، تو وہ کیونکر نافذ ہو گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 42 (2107)، 43 (2109)، 44 (2111)، 45 (2112)، 46 (2113)، صحیح مسلم/البیوع 10 (1531)، سنن النسائی/البیوع 8 (4476)، (تحفة الأشراف: 8272)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/البیوع 53 (3454)، سنن الترمذی/البیوع 26 (1245)، مسند احمد (2/ 4، 9، 52، 54، 73، 119، 134، 135، 183) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْوَضِيءِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا".
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بائع اور مشتری ( بیچنے اور خریدنے والے ) جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں دونوں کو ( بیع کے منسوخ کرنے کا ) اختیار ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2182]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 35 (3457)، (تحفة الأشراف: 11599)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/425) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا".
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو ( بیع منسوخ کرنے کا ) اختیار ہے ، جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2183]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/البیوع 8 (4486)، (تحفة الأشراف: 4600)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/12، 17، 21، 22) (صحیح) (حسن بصری نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے صرف حدیث عقیقہ سنی ہے، اس لئے سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
|
|
|
18: بَابُ : بَيْعِ الْخِيَارِ
باب: اختیاری خریداری کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، الْمِصْرِيَّانِ قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَعْرَابِ حِمْلَ خَبَطٍ، فَلَمَّا وَجَبَ الْبَيْعُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اخْتَرْ"، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: عَمْرَكَ اللَّهَ بَيِّعًا.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی ( دیہاتی ) سے ایک بوجھ چارا خریدا ، پھر جب بیع مکمل ہو گئی ، تو آپ نے اس سے فرمایا : ” تجھ کو اختیار ہے “ ( بیع کو باقی رکھ یا منسوخ کر دے ) تو دیہاتی نے کہا : اللہ آپ کی عمردراز کرے میں بیع کو باقی رکھتا ہوں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2184]
💡 وضاحت:
۱؎: ایسی صورت میں جب طرفین بیع کو اختیار کر لیں تو خیار مجلس باقی نہ رہے گا، جیسے اوپر کی حدیث میں گزرا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1249) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 457
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/البیوع 27 (1249)، (تحفة الأشراف: 2834) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ صَالِحٍ الْمَدنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا الْبَيْعُ عَنْ تَرَاضٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیع بیچنے والے اور خریدنے والے کی باہمی رضا مندی سے منعقد ہوتی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2185]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4076، ومصباح الزجاجة: 768) (صحیح)
|
|
|
19: بَابُ : الْبَيِّعَانِ يَخْتَلِفَانِ
باب: خریدنے والے اور بیچنے والے کے درمیان اختلاف ہو جائے تو وہ کیا کریں؟
|
|
|
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنَ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ بَاعَ مِنَ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ رَقِيقًا مِنْ رَقِيقِ الْإِمَارَةِ، فَاخْتَلَفَا فِي الثَّمَنِ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: بِعْتُكَ بِعِشْرِينَ أَلْفًا، وَقَالَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ: إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْكَ بِعَشْرَةِ آلَافٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " هَاتِهِ"، قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ وَالْبَيْعُ قَائِمٌ بِعَيْنِهِ، فَالْقَوْلُ: مَا قَالَ الْبَائِعُ أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ، قَالَ: فَإِنِّي أَرَى، أَنْ أَرُدَّ الْبَيْعَ فَرَدَّهُ".
عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے ہاتھ حکومت کے غلاموں میں سے ایک غلام بیچا ، پھر دونوں میں قیمت کے بارے میں اختلاف ہو گیا ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ میں نے آپ سے اسے بیس ہزار میں بیچا ہے ، اور اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اسے دس ہزار میں خریدا ہے ، اس پر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر چاہیں تو میں ایک حدیث بیان کروں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ، اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا : بیان کریں ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جب بیچنے والے اور خریدنے والے اختلاف کریں اور ان میں کسی کے پاس گواہ نہ ہوں ، اور بیچی ہوئی چیز بعینہٖ موجود ہو تو بیچنے والے ہی کی بات معتبر ہو گی ، یا دونوں بیع فسخ کر دیں “ ، انہوں نے کہا : میں مناسب یہی سمجھتا ہوں کہ بیع فسخ کر دوں ، چنانچہ انہوں نے بیع فسخ کر دی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2186]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 74 (3512)، (تحفة الأشراف: 9358)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 43 (1270)، سنن النسائی/البیوع 80 (4652)، مسند احمد (1/466) (صحیح) (نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1322 و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 789)
|
|
|
20: بَابُ : النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ وَعَنْ رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ
باب: جو چیز پاس میں نہ ہو اس کا بیچنا اور جس چیز کا ضامن نہ ہو اس میں نفع لینا منع ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ مَاهَكَ يُحَدِّثُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يَسْأَلُنِي الْبَيْعَ وَلَيْسَ عِنْدِي أَفَأَبِيعُهُ؟، قَالَ: " لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ".
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! ایک آدمی مجھ سے ایک چیز خریدنا چاہتا ہے ، اور وہ میرے پاس نہیں ہے ، کیا میں اس کو بیچ دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اس کو نہ بیچو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2187]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 70 (3503)، سنن الترمذی/البیوع 19 (1232، 1233)، سنن النسائی/البیوع 58 (4617)، (تحفة الأشراف: 3436)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/402، 434) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ، وَلَا رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو چیز تمہارے پاس نہ ہو اس کا بیچنا جائز نہیں ، اور نہ اس چیز کا نفع جائز ہے جس کے تم ضامن نہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2188]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اگر وہ چیز برباد ہو جائے تو تمہارا کچھ نقصان نہ ہو، ایسی چیز کا نفع اٹھانا بھی جائز نہیں، یہ شرع کا ایک عام مسئلہ ہے کہ نفع ہمیشہ ضمانت کے ساتھ ملتا ہے، جو شخص کسی چیز کا ضامن ہو وہی اس کے نفع کا مستحق ہے، اور اس کی مثال یہ ہے کہ ابھی خریدار نے بیع پر قبضہ نہیں کیا اور وہ چیز خریدنے والے کی ضمانت میں داخل نہیں ہوئی، اب خریدنے والا اگر اس کو قبضے سے پہلے کسی اور کے ہاتھ بیچ ڈالے اور نفع کمائے، تو بیع جائز اور صحیح نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 70 (3504)، سنن الترمذی/البیوع 19 (1234)، سنن النسائی/البیوع 58 (4615)، (تحفة الأشراف: 8664)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/174، 178، 205)، سنن الدارمی/البیوع 26 (2602) (حسن صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ ، قَالَ: " لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ نَهَاهُ عَنْ شِفِّ مَا لَمْ يُضْمَنْ".
عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مکہ بھیجا ، تو اس چیز کے نفع سے منع کیا جس کے وہ ضامن نہ ہوں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2189]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الحديث ضعفه البوصيري وقال: ”وعطاء ھو ابن أبي رباح لم يدرك عتابًا“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 457
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9749) (صحیح) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں، اور عطاء کی ملاقات عتاب رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1212)
|
|
|
21: بَابُ : إِذَا بَاعَ الْمُجِيزَانِ فَهُوَ لِلأَوَّلِ
باب: جب دو بااختیار شخص کسی چیز کو بیچیں تو پہلے بیچنے والے کی بات معتبر ہو گی۔
|
|
|
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَوْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ یا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے ایک چیز دو آدمیوں کے ہاتھ بیچی ، تو جس کے ہاتھ پہلے بیچی اس کو وہ چیز ملے گی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2190]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/النکاح 22 (2088)، سنن الترمذی/النکاح 20 (1110)، سنن النسائی/البیوع 94 (4686)، (تحفة الأشراف: 4582، 9918)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/8، 11، 12، 18، 22)، سنن الدارمی/النکاح 15 (2239) (ضعیف) (سند میں حسن بصری ہیں، جن کا سماع سمرة رضی اللہ عنہ سے صرف عقیقہ کی حدیث کا ہے، دوسری احادیث کا نہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا بَاعَ الْمُجِيزَانِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ".
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب دو اختیار رکھنے والے ایک چیز کی بیع کریں تو جس نے پہلے بیع کی ، اس کا اعتبار ہو گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2191]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4582، 9918) (ضعیف) (سند میں حسن بصری ہیں جن کا سماع سمرة رضی اللہ عنہ سے صرف عقیقہ کی حدیث کا ہے، دوسری احادیث کا نہیں)
|
|
|
22: بَابُ : بَيْعِ الْعُرْبَانِ
باب: بیعانہ کا حکم۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعانہ ( عربان کی بیع ) سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2192]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 69 (3502)، (تحفة الأشراف: 8820)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 1 (1)، مسند احمد (2/183) (ضعیف) (یہ بلاغات مالک میں سے ہے، عمرو بن شعیب سے روایت میں واسطہ کا ذکر نہیں ہے، اس لئے سند میں انقطاع کی وجہ سے یہ ضعیف ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الرُّخَامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَبُو مُحَمَّدٍ كَاتِبُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ الْعُرْبَانُ: أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ دَابَّةً بِمِائَةِ دِينَارٍ، فَيُعْطِيَهُ دِينَارَيْنِ عُرْبُونًا، فَيَقُولُ: إِنْ لَمْ أَشْتَرِ الدَّابَّةَ فَالدِّينَارَانِ لَكَ، وَقِيلَ: يَعْنِي وَاللَّهُ أَعْلَمُ، أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الشَّيْءَ فَيَدْفَعَ إِلَى الْبَائِعِ دِرْهَمًا، أَوْ أَقَلَّ، أَوْ أَكْثَرَ، وَيَقُولَ: إِنْ أَخَذْتُهُ وَإِلَّا، فَالدِّرْهَمُ لَكَ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عربان کی بیع ) سے منع فرمایا ہے ۔ ابوعبداللہ ( ابن ماجہ ) کہتے ہیں کہ عربان : یہ ہے کہ آدمی ایک جانور سو دینار میں خریدے ، اور بیچنے والے کو اس میں سے دو دینار بطور بیعانہ دیدے ، اور کہے : اگر میں نے جانور نہیں لیا تو یہ دونوں دینار تمہارے ہیں ۔ بعض لوگوں نے کہا ہے واللہ اعلم : ( عربان یہ ہے کہ ) آدمی ایک چیز خریدے پھر بیچنے والے کو ایک درہم یا زیادہ یا کم دے ، اور کہے اگر میں نے یہ چیز لے لی تو بہتر ، ورنہ یہ درہم تمہارا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2193]
💡 وضاحت:
۱؎: بیع عربون: یعنی بیع کے وقت خریدار کی طرف سے بیچنے والے کو دی جانے والی ایک مخصوص رقم جس سے بیچنے والا اپنے سامان کو خریدنے والے سے بیچنے کے بدلے لیتا ہے، اور اسے عرف عام میں بیعانہ کہتے ہیں، اس سے متعلق اس باب کی حدیث ضعیف ہے، علماء کے درمیان بیعانہ کی یہ شکل کہ اگر خریدار نے سامان نہیں خریدا تو بیعانہ کی دی ہوئی رقم بیچنے والے کی ہو جائے گی جس کو وہ خریدنے والے کو واپس نہیں کرے گا، مالک، شافعی اور ابوحنیفہ کے یہاں یہ ناجائز ہے، امام احمد اس بیع کی صحت کے قائل ہیں، ان کی دلیل عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے اور عبداللہ بن عمرو بن العاص کی حدیث ضعیف ہے، اور متفقہ طور پر صحیح قیاس کی دلیل کے اعتبار سے بھی یہ صحیح ہے کہ اگر خریدار سامان کو ناپسند کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ سامان کو واپس کر دے اور اس کے ساتھ کچھ دے دے، اس صورت پر قیاس کرتے ہوئے بیعانہ نہ واپس کرنے کی یہ صورت صحیح ہو گی، امام احمد کہتے ہیں کہ یہ بیعانہ اسی کے ہم معنی ہے۔ یہ واضح رہے کہ بیعانہ کی رقم بیچنے والے کو بلاعوض نہیں مل رہی ہے، اس لیے کہ یہاں پر فروخت شدہ چیز کے انتظار کے عوض میں یہ رقم رکھی گئی ہے، اور یہ سامان خریدار کے خریدنے تک ایسے ہی پڑا رہے گا، اور اس مدت میں دوسرے شخص سے بیع و فروخت کی بات نہ ہو سکے گی، مجمع الفقہ الإسلامی، مکہ مکرمہ نے محرم (۱۴۱۴) ہجری میں اس بیع کی بابت یہ قرارداد صادر کی ہے کہ اگر خریدنے والے نے بیچنے والے سے سامان نہیں خریدا تو بیعانہ کی رقم کا مالک بیچنے والا ہو جائے گا، مجلس نے اس بیع کے جواز کی بات اس صورت میں کہی ہے کہ انتظار کا زمانہ مقرر ہو، اور یہ کہ بیعانہ کی رقم بیع کے نافذ ہونے کی صورت میں قیمت کا ایک حصہ شمار ہو گی، اور اگر خریدنے والا سامان نہ خریدے تو یہ رقم بیچنے والے کا حق ہو گی۔ (ملاحظہ ہو: توضیح الأحکام من بلوغ المرام، تالیف شیخ عبداللہ بن عبدالرحمن البسام، ۴/۲۹۳)
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8727)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 1 (1) مسند احمد (2/ 183) (ضعیف) (سند میں حبیب کاتب مالک اور عبد اللہ أسلمی دونوں ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
23: بَابُ : النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ
باب: بیع حصاۃ اور بیع غرر ممنوع ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ، وَعَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع غرر اور بیع حصاۃ سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2194]
💡 وضاحت:
۱؎: بیع غرر: معدوم و مجہول چیز کی بیع ہے یا ایسی چیز کی بیع ہے جسے خریدنے والے کے حوالہ کرنے پر بیچنے والے کو قدرت نہ ہو، جیسے بھاگے ہوئے غلام کی بیع، فضا میں اڑتے ہوئے پرندے کی بیع، یا مچھلی کی بیع جو پانی میں ہو، اور دودھ کی بیع جو جانور کے تھن میں ہو وغیرہ وغیرہ۔ بیع حصاۃ کی تین صورتیں ہیں، ایک یہ کہ بیچنے والا یہ کہے کہ میں یہ کنکری پھینکتا ہوں جس چیز پر یہ گرے اسے میں نے تمہارے ہاتھ بیچ دیا، یا جہاں تک یہ کنکری جائے اتنی دور کا سامان میں نے بیچ دیا، دوسرے یہ کہ بیچنے والا یہ شرط لگائے کہ جب تک میں کنکری پھینکوں تجھے اختیار ہے اس کے بعد اختیار نہ ہو گا، تیسرے یہ کہ خود کنکری پھینکنا ہی بیع قرار پائے مثلاً یوں کہے کہ جب میں اس کپڑے پر کنکری ماروں تو یہ اتنے میں بک جائے گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/البیوع 2 (1513)، سنن ابی داود/البیوع 25 (3376)، سنن الترمذی/البیوع 17 (1230)، سنن النسائی/البیوع 25 (4522)، (تحفة الأشراف: 13794)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/250، 376، 436)، سنن الدارمی/البیوع 20 (2596) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع غرر سے منع کیا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2195]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5967)، ومصباح الزجاجة: 771)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/302) (صحیح) (سند میں ایوب بن عتبہ ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
|
|
|
24: بَابُ : النَّهْيِ عَنْ شِرَاءِ مَا فِي بُطُونِ الأَنْعَامِ وَضُرُوعِهَا وَضَرْبَةِ الْغَائِصِ
باب: جانوروں کے پیٹ اور تھن میں جو ہو اس کی بیع یا غوطہٰ خور کے غوطہٰ کی بیع ممنوع ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا جَهْضَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَمَانِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْبَاهِلِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شِرَاءِ مَا فِي بُطُونِ الْأَنْعَامِ حَتَّى تَضَعَ وَعَمَّا فِي ضُرُوعِهَا إِلَّا بِكَيْلٍ، وَعَنْ شِرَاءِ الْعَبْدِ وَهُوَ آبِقٌ، وَعَنْ شِرَاءِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ، وَعَنْ شِرَاءِ الصَّدَقَاتِ حَتَّى تُقْبَضَ، وَعَنْ ضَرْبَةِ الْغَائِصِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے پیٹ میں جو ہو اس کے خریدنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ جن دے ، اور جو ان کے تھنوں میں ہے اس کے خریدنے سے بھی منع فرمایا ہے الا یہ کہ اسے دوھ کر اور ناپ کر خریدا جائے ، اسی طرح بھاگے ہوئے غلام کو خریدنے سے ، اور غنیمت ( لوٹ ) کا مال خریدنے سے بھی منع فرمایا یہاں تک کہ وہ تقسیم کر دیا جائے اور صدقات کو خریدنے سے ( منع کیا ) یہاں تک کہ وہ قبضے میں آ جائے ، اور غوطہٰ خور کے غوطہٰ کو خریدنے سے ( منع کیا ) ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2196]
💡 وضاحت:
۱؎:غوطہ خور کے غوطہ کو خریدنے کی صورت یہ ہے کہ غوطہ خور خریدنے والے سے کہے کہ میں غوطہ لگا رہا ہوں اس بار جو کچھ میں نکالوں گا وہ اتنی قیمت میں تیرا ہو گا یہ تمام بیعیں اس لئے ناجائز ہیں کہ ان سب میں غرر (دھوکا) اور جہالت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1563) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 457
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/السیر 14 (1563) مختصراً، (تحفة الأشراف: 4073)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/42) (ضعیف) (سند میں محمد بن ابراہیم باہلی مجہول راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1293)
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمل کے حمل کو بیچنے سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2197]
💡 وضاحت:
۱؎: حمل کے حمل کو بیچنے کی صورت یہ ہے کہ کوئی کہے کہ میں تم سے اس حاملہ اونٹنی کے پیٹ کے بچہ کے بچہ کو اتنی قیمت میں بیچتا ہوں تو یہ بیع جائز نہیں کیونکہ یہ معدوم و مجہول کی بیع ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/البیوع 66 (4629)، (تحفة الأشراف: 7062)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 61 (2143)، السلم 7 (2256)، مناقب الأنصار 26 (3843)، صحیح مسلم/البیوع 3 (1513)، سنن ابی داود/البیوع 25 (3380)، سنن الترمذی/البیوع 16 (1229)، /البیوع 26 (62)، مسند احمد (1/56، 63، 108، 140، 155) (صحیح)
|
|
|
25: بَابُ : بَيْعِ الْمُزَايَدَةِ
باب: نیلام (بولی) کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَخْضَرُ بْنُ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ، فَقَالَ: " لَكَ فِي بَيْتِكَ شَيْءٌ"، قَالَ: بَلَى، حِلْسٌ نَلْبَسُ بَعْضَهُ وَنَبْسُطُ بَعْضَهُ وَقَدَحٌ نَشْرَبُ فِيهِ الْمَاءَ، قَالَ: " ائْتِنِي بِهِمَا"، قَالَ: فَأَتَاهُ بِهِمَا، فَأَخَذَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ يَشْتَرِي هَذَيْنِ؟"، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ، قَالَ: " مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا"، قَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمَيْنِ، فَأَعْطَاهُمَا إِيَّاهُ وَأَخَذَ الدِّرْهَمَيْنِ فَأَعْطَاهُمَا الْأَنْصَارِيَّ، وَقَالَ: " اشْتَرِ بِأَحَدِهِمَا طَعَامًا، فَانْبِذْهُ إِلَى أَهْلِكَ وَاشْتَرِ بِالْآخَرِ قَدُومًا، فَأْتِنِي بِهِ"، فَفَعَلَ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَدَّ فِيهِ عُودًا بِيَدِهِ، وَقَالَ: " اذْهَبْ فَاحْتَطِبْ وَلَا أَرَاكَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا"، فَجَعَلَ يَحْتَطِبُ وَيَبِيعُ فَجَاءَ وَقَدْ أَصَابَ عَشْرَةَ دَرَاهِمَ، فَقَالَ: " اشْتَرِ بِبَعْضِهَا طَعَامًا وَبِبَعْضِهَا ثَوْبًا"، ثُمَّ قَالَ: " هَذَا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَجِيءَ وَالْمَسْأَلَةُ نُكْتَةٌ فِي وَجْهِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَصْلُحُ إِلَّا لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ أَوْ لِذِي غُرْمٍ مُفْظِعٍ، أَوْ دَمٍ مُوجِعٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا ، وہ آپ سے کوئی چیز چاہ رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” تمہارے گھر میں کوئی چیز ہے “ ؟ ، اس نے عرض کیا : جی ہاں ! ایک کمبل ہے جس کا ایک حصہ ہم اوڑھتے اور ایک حصہ بچھاتے ہیں ، اور ایک پیالہ ہے جس سے ہم پانی پیتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ دونوں چیزیں میرے پاس لے آؤ “ ، وہ گیا ، اور ان کو لے آیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ میں لیا پھر فرمایا : ” انہیں کون خریدتا ہے “ ؟ ایک شخص بولا : میں یہ دونوں چیزیں ایک درہم میں لیتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک درہم پر کون بڑھاتا ہے “ ؟ یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین بار فرمایا ، ایک شخص بولا : میں انہیں دو درہم میں لیتا ہوں ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں چیزیں اس شخص کے ہاتھ بیچ دیں ، پھر دونوں درہم انصاری کو دئیے اور فرمایا : ” ایک درہم کا اناج خرید کر اپنے گھر والوں کو دے دو ، اور دوسرے کا ایک کلہاڑا خرید کر میرے پاس لاؤ “ ، اس نے ایسا ہی کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کلہاڑے کو لیا ، اور اپنے ہاتھ سے اس میں ایک لکڑی جما دی اور فرمایا : ” جاؤ اور لکڑیاں کاٹ کر لاؤ ( اور بیچو ) اور پندرہ دن تک میرے پاس نہ آؤ “ ، چنانچہ وہ لکڑیاں کاٹ کر لانے لگا اور بیچنے لگا ، پھر وہ آپ کے پاس آیا ، اور اس وقت اس کے پاس دس درہم تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کچھ کا غلہ خرید لو ، اور کچھ کا کپڑا “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہے کہ تم قیامت کے دن اس حالت میں آؤ کہ سوال کرنے کی وجہ سے تمہارے چہرے پر داغ ہو ، یاد رکھو سوال کرنا صرف اس شخص کے لیے درست ہے جو انتہائی درجہ کا محتاج ہو ، یا سخت قرض دار ہو یا تکلیف دہ خون بہا کی ادائیگی میں گرفتار ہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2198]
💡 وضاحت:
۱؎: انتہائی درجے کی محتاجی یہ ہے کہ ایک دن اور ایک رات کی خواک اس کے پاس کھانے کے لئے نہ ہو، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ بہ قدر نصاب اس کے پاس مال نہ ہو۔ سخت قرض داری یہ ہے کہ قرضہ اس کے مال سے زیادہ ہو۔ تکلیف دہ خون کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو قتل کیا ہو، اور مقتول کے وارث دیت پر راضی ہو گئے ہوں لیکن اس کے پاس رقم نہ ہو کہ دیت ادا کر سکے، مقتول کے وارث اس کو ستا رہے ہوں اور دیت کا تقاضا کر رہے ہوں تو ایسے شخص کے لئے سوال کرنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الزکاة 26 (1641)، سنن الترمذی/البیوع 10 (1218)، سنن النسائی/البیوع 20 (4512)، (تحفة الأشراف: 978)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/100، 114، 126) (ضعیف) (سند میں ابوبکر حنفی مجہول راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1289)۔
|
|
|
26: بَابُ : الإِقَالَةِ
باب: بیع فسخ کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْخَطَّابِ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَقَالَ مُسْلِمًا، أَقَالَهُ اللَّهُ عَثْرَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کسی مسلمان کے اقالے کو مان لے ( یعنی اس کے ساتھ بیع کے فسخ پر راضی ہو جائے ) تو اللہ تعالیٰ ( اس احسان کے بدلہ میں ) قیامت کے دن اس کے گناہوں کو مٹا دے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2199]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (3460) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 457
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12457)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/البیوع 54 (3460)، مسند احمد (2/252) (صحیح)
|
|
|
27: بَابُ : مَنْ كَرِهَ أَنْ يُسَعِّرَ
باب: قیمت مقرر کرنے کی کراہت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَحُمَيْدٌ وَثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ غَلَا السِّعْرُ فَسَعِّرْ لَنَا، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ، إِنِّي لَأَرْجُو، أَنْ أَلْقَى رَبِّي وَلَيْسَ أَحَدٌ يَطْلُبُنِي بِمَظْلَمَةٍ فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک دفعہ قیمتیں چڑھ گئیں ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے لیے ایک نرخ ( بھاؤ ) مقرر کر دیجئیے ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ ہی نرخ مقرر کرنے والا ہے ، کبھی کم کر دیتا ہے اور کبھی زیادہ کر دیتا ہے ، وہی روزی دینے والا ہے ، اور مجھے امید ہے کہ میں اپنے رب سے اس حال میں ملوں کہ کوئی مجھ سے جان یا مال میں کسی ظلم کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2200]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی نہ مالی نہ جانی کسی طرح کا ظلم میں نے کسی پر نہ کیا ہو، حدیث میں اشارہ ہے کہ نرخ مقرر کرنا یعنی قیمتوں پر کنٹرول کرنا بیوپاریوں پر اور غلہ کے تاجروں پر ایک مالی ظلم ہے، یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بچنے کی آرزو کی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 51 (3451)، سنن الترمذی/البیوع 73 (1314)، (تحفة الأشراف: 318، 614، 1158)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/156)، سنن الدارمی/البیوع 13 (2587) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: لَوْ قَوَّمْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِنِّي لَأَرْجُو، أَنْ أُفَارِقَكُمْ وَلَا يَطْلُبَنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ بِمَظْلَمَةٍ ظَلَمْتُهُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مہنگائی بڑھ گئی ، تو لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگر آپ نرخ مقرر کر دیں تو اچھا رہے گا ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری خواہش ہے کہ میں تم سے اس حال میں جدا ہوں کہ کوئی مجھ سے کسی زیادتی کا جو میں نے اس پر کی ہو مطالبہ کرنے والا نہ ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2201]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں غذائی اجناس کی قیمتیں بڑھ گئی تھیں شاید اس کا سبب قحط سالی اور بارش کا نہ برسنا تھا، یا مدینہ اور شام کے درمیان راستے کا خراب ہونا جہاں سے مدینہ منورہ کو غلہ آتا تھا، لوگوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیمتوں اور منافع پر کنٹرول کی گزارش کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹا دیا کہ وہی رزاق ہے اور اسی کے ہاتھ میں روزی کو کم اور زیادہ کرنا ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نرخ پر کنٹرول اس خیال سے نہ کیا کہ اس سے خواہ مخواہ کہیں لوگ ظلم و زیادتی کا شکار نہ ہو جائیں، لیکن حاکم وقت لوگوں کی خدمت کے لیے عادلانہ اور منصفانہ نرخ پر کنٹرول کا اقدام کر سکتا ہے، عام مصلحت کے پیش نظر علماء اسلام نے اس کی اجازت دی ہے، امام ابن القیم فرماتے ہیں کہ نرخ کے کنٹرول میں بعض چیزیں حرام کے قبیل سے ہیں، اور بعض چیزیں انصاف پر مبنی اور جائز ہیں، قیمتوں پر کنٹرول سے اگر لوگ ظلم کا شکار ہوں یا ناحق ان کو ایسی بیع پر مجبور کیا جائے، جو ان کے یہاں غیر پسندیدہ ہو یا ان کو مباح چیزوں سے روکنے والی ہو تو ایسا کنٹرول حرام ہے، اور لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کا ضامن کنٹرول جیسے لوگوں کو اس بات پر مجبور کرنا کہ وہ وہی قیمت لیں جس کے وہ حقیقی طور پر حقدار ہیں، اور ان کو اس حقیقی قیمت سے زیادہ لینے سے روک دے جو ان کے لیے لینا حرام ہے، تو ایسا کنٹرول جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، خلاصہ کلام یہ کہ اگر لوگوں کی مصلحتیں قیمتوں پر کنٹرول کے بغیر نہ پوری ہو رہی ہوں تو منصفانہ طور پر ان کی قیمتوں کی تحدید کر دینی چاہئے اور اگر اس کی ضرورت نہ ہو اور اس کے بغیر کام چل رہا ہو تو قیمتوں پر کنٹرول نہ کرے۔ علامہ محمد بن ابراہیم آل الشیخ مفتی اکبر سعودی عرب فرماتے ہیں کہ ہم پر جو چیز واضح ہوئی اور جس پر ہمارے دلوں کو اطمینان ہے وہ وہی ہے جسے ابن القیم نے ذکر فرمایا ہے کہ قیمتوں کی تحدید میں سے بعض چیزیں ظلم ہیں، اور بعض چیزیں عدل و انصاف کے عین مطابق تو دوسری صورت جائز ہے، قیمتوں پر کنٹرول سے اگر لوگ ظلم کا شکار ہو رہے ہوں یا ناحق انہیں ایسی قیمت پر مجبور ہونا پڑے جس پر وہ راضی نہیں ہیں، یا اس سے وہ اللہ کی مباح کی ہوئی چیزوں سے روکے جا رہے ہوں تو ایسا کرنا حرام ہے، اور اگر قیمتوں پر کنٹرول سے لوگوں کے درمیان عدل کا تقاضا پورا ہو رہا ہے کہ حقیقی قیمت اور واجبی معاوضہ لینے پر ان کو مجبور کیا جا رہا ہو یا اس تدبیر سے ان کو اصلی قیمت سے زیادہ لینے سے روکا جا رہا ہو جس کا لینا ان کے لیے حرام ہے، تو یہ جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، پس قیمتوں پر کنٹرول دو شرطوں کے ساتھ جائز ہے، پہلی شرط یہ ہے کہ ایسی چیزوں کی قیمتوں پر کنٹرول ہو جن کے محتاج سارے لوگ ہوں، دوسری شرط یہ ہے کہ مہنگائی کا سبب بازار میں سامان کا کم ہونا ہے یا طلب کا زیادہ ہونا، تو جس چیز میں یہ دونوں شرطیں پائی جائیں اس میں قیمتوں کی تحدید عدل و انصاف اور عام مصلحتوں کی رعایت کے قبیل سے ہے، جیسے گوشت، روٹی اور دواؤں وغیرہ کی قیمتوں پر کنٹرول۔ مجمع الفقہ الإسلامی مکہ مکرمہ نے تاجروں کے منافع کے کنٹرول سے متعلق (۱۴۰۹) ہجری کی ایک قرارداد میں یہ طے کیا کہ حاکم صرف اس وقت مارکیٹ اور چیزوں کے بھاؤ کے سلسلے میں دخل اندازی کرے جب مصنوعی اسباب کی وجہ سے ان چیزوں میں واضح خلل پائے، تو ایسی صورت میں حاکم کو چاہئے کہ وہ ممکنہ عادلانہ وسائل اختیار کر کے اس مسئلے میں دخل اندازی کرے اور بگاڑ، مہنگائی اور غبن فاحش کے اسباب کا خاتمہ کرے۔ (ملاحظہ ہو: توضیح الأحکام من بلوغ المرام، تالیف عبداللہ بن عبدالرحمن البسام، ۴/۳۲۹)
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 438، ومصباح الزجاجة: 774)، مسند احمد (3/85) (صحیح)
|
|
|
28: بَابُ : السَّمَاحَةِ فِي الْبَيْعِ
باب: خرید و فروخت میں نرمی اور آسانی برتنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ فَرُّوخَ ، قَالَ: قَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَدْخَلَ اللَّهُ الْجَنَّةَ رَجُلًا كَانَ سَهْلًا بَائِعًا وَمُشْتَرِيًا".
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں لے جائے جو نرمی کرنے والا ہو ، خواہ بیچ رہا ہو یا خرید رہا ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2202]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/البیوع 102 (4700)، (تحفة الأشراف: 9830)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/58، 67، 70) (حسن) (سند میں عطاء بن فروخ اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے مابین انقطاع ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1188)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَحِمَ اللَّهُ عَبْدًا سَمْحًا، إِذَا بَاعَ سَمْحًا، إِذَا اشْتَرَى سَمْحًا، إِذَا اقْتَضَى".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم کرے ، جو نرمی کرے جب بیچے ، نرمی کرے جب خریدے ، اور نرمی کرے جب تقاضا کرے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2203]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 16 (2076)، (تحفة الأشراف: 3080)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 76 (1320) (صحیح)
|
|
|
29: بَابُ : السَّوْمِ
باب: مول بھاؤ کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ شَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ قَيْلَةَ أُمِّ بَنِي أَنْمَارٍ ، قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ عُمَرِهِ عِنْدَ الْمَرْوَةِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أَبِيعُ وَأَشْتَرِي، فَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَاعَ الشَّيْءَ سُمْتُ بِهِ أَقَلَّ مِمَّا أُرِيدُ، ثُمَّ زِدْتُ، ثُمَّ زِدْتُ حَتَّى أَبْلُغَ الَّذِي أُرِيدُ، وَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ الشَّيْءَ سُمْتُ بِهِ أَكْثَرَ مِنَ الَّذِي أُرِيدُ، ثُمَّ وَضَعْتُ حَتَّى أَبْلُغَ الَّذِي أُرِيدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَفْعَلِي يَا قَيْلَةُ، إِذَا أَرَدْتِ أَنْ تَبْتَاعِي شَيْئًا، فَاسْتَامِي بِهِ الَّذِي تُرِيدِينَ أُعْطِيتِ، أَوْ مُنِعْتِ، وَإِذَا أَرَدْتِ أَنْ تَبِيعِي شَيْئًا، فَاسْتَامِي بِهِ الَّذِي تُرِيدِينَ أَعْطَيْتِ، أَوْ مَنَعْتِ".
قیلہ ام بنی انمار رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی عمرہ کے موقع پر مروہ پہاڑی کے پاس تھے ، میں نے عرض کیا کہ میں ایک خرید و فروخت کرنے والی عورت ہوں ، جب میں کوئی چیز خریدنا چاہتی ہوں تو پہلے اس کی قیمت اس سے کم لگاتی ہوں ، جتنے میں خریدنا چاہتی ہوں ، پھر تھوڑا تھوڑا بڑھاتی ہوں یہاں تک کہ اس قیمت تک پہنچ جاتی ہوں جو میں چاہتی ہوں ، اور جب میں کسی چیز کو بیچنا چاہتی ہوں تو اس کی قیمت اس سے زیادہ لگاتی ہوں ، جتنے میں بیچنا چاہتی ہوں ، پھر تھوڑا تھوڑا کم کرتی ہوں یہاں تک کہ اس قیمت کو پہنچ جاتی ہوں جتنے میں اسے میں دینا چاہتی ہوں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیلہ ! ایسا نہ کرو جب تم کوئی چیز خریدنا چاہو تو وہی قیمت لگاؤ جو تمہارے پیش نظر ہو چاہے وہ چیز دی جائے یا نہ دی جائے ، اور جب تم کوئی چیز بیچنا چاہو تو وہی قیمت کہو جو تمہارے پیش نظر ہے ، چاہے تم دے سکو یا نہ دے سکو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2204]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ يعلي بن شبيب: لين الحديث (تقريب: 7842) ¤ لم يوثقه غير ابن حبان،و ابن خثيم عن قيلة مرسل كما قال الذھبي (الكاشف 433/3) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 457
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18048، ومصباح الزجاجة: 776) (ضعیف) (عبد اللہ بن عثمان اور قیلة رضی اللہ عنہا کے درمیان انقطاع ہے نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2156)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَقَالَ لِي: " أَتَبِيعُ نَاضِحَكَ هَذَا بِدِينَارٍ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُوَ نَاضِحُكُمْ إِذَا أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، قَالَ: " فَتَبِيعُهُ بِدِينَارَيْنِ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ"، قَالَ: فَمَا زَالَ يَزِيدُنِي دِينَارًا دِينَارًا، وَيَقُولُ: مَكَانَ كُلِّ دِينَارٍ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ حَتَّى بَلَغَ عِشْرِينَ دِينَارًا، فَلَمَّا أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ أَخَذْتُ بِرَأْسِ النَّاضِحِ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " يَا بِلَالُ أَعْطِهِ، مِنَ الْغَنِيمَةِ عِشْرِينَ دِينَارًا"، وَقَالَ: " انْطَلِقْ بِنَاضِحِكَ فَاذْهَبْ بِهِ إِلَى أَهْلِكَ"..
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھا آپ نے مجھ سے فرمایا : ” کیا تم اپنے اس پانی ڈھونے والے اونٹ کو ایک دینار میں بیچتے ہو ؟ اور اللہ تمہیں بخشے “ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جب میں مدینہ پہنچ جاؤں ، تو آپ ہی کا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا دو دینار میں بیچتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ تمہیں بخشے “ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر آپ اسی طرح ایک ایک دینار بڑھاتے گئے اور ہر دینار پر فرماتے رہے : اللہ تعالیٰ تمہیں بخشے ! یہاں تک کہ بیس دینار تک پہنچ گئے ، پھر جب میں مدینہ آیا تو اونٹ پکڑے ہوئے اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلال ! انہیں مال غنیمت میں سے بیس دینار دے دو “ اور مجھ سے فرمایا : ” اپنا اونٹ بھی لے جاؤ ، اور اسے اپنے گھر والوں میں پہنچا دو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2205]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث سے یہ معلوم ہو کہ بھاؤ تاؤ کرنا درست اور جائز ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر بیچنے والا ایک جانور کو بیچے اور کسی مقام تک اس پر سواری کرنے کی شرط کر لے تو جائز ہے، بعض روایتوں میں ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ جب لوٹ کر اپنے گھر آئے اور گھر والوں سے اونٹ کے بیچنے کا ذکر کیا تو انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ کو ملامت کی کہ گھر کے کاموں کے لئے ایک ہی اونٹ تھا اس کو بھی بیچ ڈالا، لیکن جابر رضی اللہ عنہ نے ان کی بات کا خیال نہ کیا، اور اپنے وعدے کے مطابق اونٹ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آئے، آپ نے بیس دینار دیئے اور اونٹ بھی، اور فرمایا کہ اونٹ اپنے گھر لے جاؤ، شاید وحی سے آپ کو یہ حال معلوم ہو گیا ہو کہ گھر والے اس خرید و فروخت کے حق میں نہیں ہیں اور شاید محض حسن اخلاق ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الشروط 4 (2718) تعلیقا، ً صحیح مسلم/الرضاع 16 (715)، سنن النسائی/البیوع 75 (4645)، سنن الترمذی/البیوع 30 (1253)، (تحفة الأشراف: 3101)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/373) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَنْبَأَنَا الرَّبِيعُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّوْمِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَعَنْ ذَبْحِ ذَوَاتِ الدَّرِّ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج نکلنے سے پہلے مول بھاؤ کرنے سے ، اور دودھ والے جانور کو ذبح کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2206]
💡 وضاحت:
۱؎: اس لئے کہ دودھ سے زیادہ فائدہ ہے، ہمیشہ غذا ملے گی اور گوشت اس کا دو تین روز ہی کام آئے گا، البتہ اگر دودھ والا جانور بوڑھا ہو گیا اور اس کا دودھ بند ہو گیا ہو تو ذبح کرنے میں مضائقہ نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف لكن جملة الدر عند م نحوه
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ نوفل بن عبدالملك: مستور (تقريب: 7215) ¤ والحديث ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 457
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10226، ومصباح الزجاجة: 777) (ضعیف) (سند میں ربیع بن حبیب منکر الحدیث اور نوفل مستور راوی ہیں، لیکن دوسرا جملہ کے ہم معنی صحیح مسلم میں موجود ہے)
|
|
|
30: بَابُ : مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الأَيْمَانِ فِي الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ
باب: خرید و فروخت میں حلف اٹھانے اور قسمیں کھانے کی کراہت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالْفَلَاةِ يَمْنَعُهُ ابْنَ السَّبِيلِ، وَرَجُلٌ بَايَعَ، رَجُلًا سِلْعَةً بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ بِاللَّهِ لَأَخَذَهَا بِكَذَا وَكَذَا، فَصَدَّقَهُ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَا، فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا وَفَى لَهُ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ مِنْهَا لَمْ يَفِ لَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تین آدمیوں سے اس قدر ناراض ہو گا کہ نہ تو ان سے بات کرے گا ، نہ ان کی طرف دیکھے گا ، نہ ہی انہیں پاک کرے گا ، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا : ایک وہ شخص جس کے پاس چٹیل میدان میں ضرورت سے زیادہ پانی ہو اور وہ اسے مسافر کو نہ دے ، دوسرے وہ شخص جو اپنا مال نماز عصر کے بعد بیچے اور اللہ کی قسم کھائے کہ اسے اس نے اتنے اتنے میں خریدا ہے ، اور خریدار اسے سچا جانے حالانکہ وہ اس کے برعکس تھا ، تیسرے وہ شخص جس نے کسی امام سے بیعت کی ، اور اس نے صرف دنیا کے لیے بیعت کی ، اگر اس نے اس کو کچھ دیا تو بیعت پوری کی ، اور اگر نہیں دیا تو نہیں پوری کی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2207]
💡 وضاحت:
۱؎: بلکہ امام کے مخالف ہو بیٹھا، اور اس کے خلاف بغاوت کی، جھوٹی قسم کھانا ہر وقت گناہ ہے، لیکن اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عصر کے بعد اور بھی سخت گناہ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإیمان 46 (108)، (تحفة الأشراف: 12522)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المساقاة 10 (2369)، الشہادات 22 (2672)، الأحکام 48 (7212)، التوحید 24 (7446)، سنن الترمذی/السیر 35 (1595)، سنن النسائی/البیوع 5 (4463)، مسند احمد (2/253، 480) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ"، فَقُلْتُ: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا؟، قَالَ: " الْمُسْبِلُ إِزَارَهُ وَالْمَنَّانُ عَطَاءَهُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا ، نہ ان کی طرف دیکھے گا ، نہ انہیں پاک کرے گا ، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ کون لوگ ہیں ؟ وہ نامراد ہوئے اور بڑے نقصان میں پڑے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اپنا تہمد ( لنگی ) ٹخنے سے نیچے لٹکائے ، اور جو دے کر احسان جتائے ، اور جو اپنے سامان کو جھوٹی قسم کے ذریعہ رواج دے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2208]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإیمان 46 (106)، سنن ابی داود/اللباس 28 (4087)، سنن الترمذی/البیوع 5 (1211)، سنن النسائی/الزکاة 69 (2564)، البیوع 5 (4463)، الزینة من المجتبیٰ 50 (5335)، (تحفة الأشراف: 11909)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/148، 158، 162، 168، 178)، سنن الدارمی/البیوع 63 (2647) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكُمْ وَالْحَلِفَ فِي الْبَيْعِ، فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ ثُمَّ يَمْحَقُ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیع ( خرید و فروخت ) میں قسمیں کھانے سے بچو ، کیونکہ اس سے گرم بازاری تو ہو جاتی ہے اور برکت جاتی رہتی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2209]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساقاة 27 (1607)، سنن النسائی/البیوع 5 (4465)، (تحفة الأشراف: 12129)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/297، 298، 301) (صحیح)
|
|
|
31: بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَنْ بَاعَ نَخْلاً مُؤَبَّرًا أَوْ عَبْدًا لَهُ مَالٌ
باب: قلم کئے ہوئے کھجور کے درخت کو بیچنے یا مالدار غلام کو بیچنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی تابیر ( قلم ) کئے ہوئے کھجور کا درخت خریدے ، تو اس میں لگنے والا پھل بیچنے والے کا ہو گا ، الا یہ کہ خریدار خود پھل لینے کی شرط طے کر لے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2210]
💡 وضاحت:
۱؎: تأبیر کے معنی قلم کرنا یعنی نر کھجور کے گابھے کو مادہ میں رکھنا، جب قلم لگاتے ہیں تو درخت میں کھجور ضرور پیدا ہوتی ہے، لہذا قلم کے بعد جو درخت بیچا جائے وہ اس کا پھل بیچنے والے کو ملے گا۔ البتہ اگر خریدنے والا شرط طے کر لے کہ پھل میں لوں گا تو شرط کے موافق خریدار کو ملے گا، بعضوں نے کہا کہ یہ حکم اس وقت ہے جب درخت میں پھل نکل آیا ہو تو وہ خریدنے والے ہی کا ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 92 (2206)، صحیح مسلم/البیوع 15 (1543)، سنن النسائی/البیوع 73 (4639)، (تحفة الأشراف: 8274) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ.
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح مروی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2210M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 92 (2206)، صحیح مسلم/البیوع 15 (1543)، سنن النسائی/البیوع 73 (4639)، (تحفة الأشراف: 8274) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ، فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي بَاعَهَا إِلَّا، أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَمَنِ ابْتَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَهُ إِلَّا، أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص تابیر ( قلم ) کئے ہوئے کھجور کا درخت بیچے تو اس میں لگنے والا پھل بیچنے والے کا ہو گا ، سوائے اس کے کہ خریدنے والا خود لینے کی شرط طے کر لے ، اور جو شخص کوئی غلام بیچے اور اس غلام کے پاس مال ہو تو وہ مال اس کا ہو گا ، جس نے اس کو بیچا ہے سوائے اس کے کہ خریدنے والا شرط طے کر لے کہ اسے میں لوں گا ، ، ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2211]
💡 وضاحت:
۱؎: دوسرے مسئلہ میں کسی کا اختلاف نہیں ہے، اختلاف ان کپڑوں میں ہے جو بکتے وقت غلام لونڈی کے بدن پر ہوں، بعضوں نے کہا: وہ بھی بیچنے والا لے لے گا، بعض نے کہا: صرف عورت کا ستر بیع میں داخل ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
حدیث محمد بن رمح تقدم بمثل الحدیث المتقدم (2210)، وحدیث ھشام بن عمار أخرجہ: صحیح مسلم/البیوع 15 (1543)، سنن ابی داود/البیوع 44 (3433)، سنن النسائی/البیوع 74 (4640)، (تحفة الأشراف: 6819) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ بَاعَ نَخْلًا وَبَاعَ عَبْدًا جَمَعَهُمَا جَمِيعًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی کھجور کا درخت بیچے ، اور کوئی غلام بیچے تو وہ ان دونوں کو اکٹھا بیچ سکتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2212]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7753)، وقد أخرجہ: مسند احمد2/78) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ خَالِدٍ النُّمَيْرِيُّ أَبُو الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ يَحْيَى ابْنِ الْوَلِيدِ بَنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أنَّ ثَمَنَ النَّخْلِ لِمَنْ أَبَّرَهَا، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، وَأَنَّ مَالَ الْمَمْلُوكِ لِمَنْ بَاعَهُ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ کھجور کے درخت کا پھل اس شخص کا ہو گا جس نے اس کی تابیر ( پیوندکاری ) کی ، سوائے اس کے کہ خریدنے والا خود لینے کی شرط طے کر لے ، اور جس نے کوئی غلام بیچا اور اس غلام کے پاس مال ہو تو غلام کا مال اس کا ہو گا جس نے اس کو بیچا ، سوائے اس کے کہ خریدنے والا شرط طے کر لے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2213]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ إسحاق بن يحيي بن الوليد أرسل عن عبادة وھو مجھول الحال (تقريب:392) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 457
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5062، ومصباح الزجاجة: 778)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/326، 327) (صحیح) (سند میں اسحاق بن یحییٰ مجہول راوی ہیں، اور عبادہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات بھی نہیں ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
|
|
|
32: بَابُ : النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا
باب: استعمال کے لائق ہونے سے پہلے درخت کے کچے پھل کو بیچنا منع ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَةَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پختگی ظاہر ہونے سے پہلے پھلوں کو نہ بیچو ، آپ نے اس سے بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو منع کیا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2214]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی درخت پر جو پھل لگے ہوں ان کا بیچنا اس وقت تک جائز نہیں، جب تک کہ وہ پھل استعمال کے قابل نہ ہو جائیں، موجودہ دور میں کئی سالوں کے لئے باغات بیچ لیے جاتے ہیں جب کہ نہ پھول کا پتہ ہے نہ پھل کا، یہ بالکل حرام ہے، مسلمانوں کو اس طرح کی تجارت سے بچنا چاہئے اور حدیث کے مطابق جب پھل قابل استعمال ہو تب بیچنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/البیوع 26 (4526)، (تحفة الأشراف: 8302)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة 8 (1486)، البیوع 82 (2183)، 85 (2194)، 87 (2199)، صحیح مسلم/البیوع 13 (1534)، 14 (1534)، سنن ابی داود/البیوع 23 (3367)، سنن الترمذی/البیوع 15 (1226)، موطا امام مالک/البیوع 8 (10)، مسند احمد (2/7، 8، 16، 46، 56، 59، 61، 80، 133)، سنن الدارمی/البیوع 21 (2597) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھلوں کو ان کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے نہ بیچو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2215]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/البیوع 13 (1538)، سنن النسائی/البیوع 26 (4525)، (تحفة الأشراف: 13328)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/262، 363) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو ان کی پختگی ظاہر ہو جانے سے پہلے بیچنے سے منع کیا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2216]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 83 (2189)، سنن ابی داود/البیوع 23 (3370)، (تحفة الأشراف: 2554) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تَزْهُوَ، وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ، وَعَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کی بیع سے منع کیا ہے یہاں تک کہ وہ پکنے کے قریب ہو جائے ، اور انگور کی بیع سے منع کیا ہے یہاں تک کہ وہ سیاہ ہو جائے ، اور غلے کی بیع سے ( بھی منع کیا ہے ) یہاں تک کہ وہ سخت ہو جائے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2217]
قال الشيخ الألباني:
صحيح ق دون النهي الثاني والثالث
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 23 (3371)، سنن الترمذی/21 (1228)، (تحفة الأشراف: 613)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة 58 (1488)، البیوع 85 (2195)، 87 (2198)، 93 (2208)، صحیح مسلم/المساقاة 3 (1555)، سنن النسائی/البیوع 27 (4530)، موطا امام مالک/البیوع 8 (11)، مسند احمد (3/115، 30 45، 221، 250) (صحیح)
|
|
|
33: بَابُ : بَيْعِ الثِّمَارِ سِنِينَ وَالْجَائِحَةِ
باب: کئی سال کے لیے پھلوں کے بیچنے اور پھلوں کو لاحق ہونے والی آفات کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سال کے لیے ( پھلوں کی ) بیع کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2218]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الزکاة 17 (1536)، سنن ابی داود/البیوع 24 (3374)، سنن الترمذی/الزکاة 24 (655)، سنن النسائی/البیوع 29 (4535)، (تحفة الأشراف: 2269)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/36، 309) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ بَاعَ ثَمَرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَلَا يَأْخُذْ مِنْ مَالِ أَخِيهِ شَيْئًا عَلَامَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے پھل بیچا ، پھر اس کو کوئی آفت لاحق ہوئی ، تو وہ اپنے بھائی ( خریدار ) کے مال سے کچھ نہ لے ، آخر کس چیز کے بدلہ تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کا مال لے گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2219]
💡 وضاحت:
۱؎: اہل حدیث اور امام احمد نے اسی حدیث پر عمل کیا ہے، اور کہا ہے کہ پھلوں پر اگر ایسی آفت آ جائے کہ سارا پھل برباد ہو جائے تو ساری قیمت بیچنے والے سے خریدنے والے کو واپس دلائی جائے گی اگرچہ یہ آفت خریدنے والے کا قبضہ ہو جانے کے بعد آئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساقاة 3 (1554)، سنن ابی داود/البیوع 60 (3470)، سنن النسائی/البیوع 28 (4531)، (تحفة الأشراف: 2798)، وقد أ خرجہ: سنن الدارمی/البیوع 22 (2598) (صحیح)
|
|
|
34: بَابُ : الرُّجْحَانِ فِي الْوَزْنِ
باب: وزن کے وقت پلڑا جھکا کر (زیادہ) تولنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَفَةُ الْعَبْدِيُّ بَزًّا مِنْ هَجَرَ فَجَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَاوَمَنَا سَرَاوِيلَ وَعِنْدَنَا وَزَّانٌ يَزِنُ بِالْأَجْرِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا وَزَّانُ زِنْ وَأَرْجِحْ".
سوید بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور مخرفہ عبدی رضی اللہ عنہ دونوں ہجر سے کپڑا لائے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ نے ہم سے پاجاموں کا مول بھاؤ کیا ، ہمارے پاس ایک تولنے والا تھا جو اجرت لے کر تولتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” او تولنے والے ! تولو اور پلڑا جھکا کر تولو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2220]
💡 وضاحت:
۱؎: ہجر: ایک مقام کا نام ہے، جو سعودی عرب کے مشروقی زون کے شہر احساء میں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 7 (3336، 3337)، سنن الترمذی/البیوع 66 (1305)، سنن النسائی/البیوع 52 (4596)، (تحفة الأشراف: 4810)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/352)، سنن الدارمی/البیوع 47 (2627) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكًا أَبَا صَفْوَانَ بْنَ عُمَيْرَةَ ، قَالَ: " بِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَ سَرَاوِيلَ قَبْلَ الْهِجْرَةِ فَوَزَنَ لِي، فَأَرْجَحَ لِي".
سماک بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے مالک ابوصفوان بن عمیرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ہجرت سے پہلے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ایک پاجامہ بیچا ، آپ نے مجھے قیمت تول کر دی ، اور جھکا کر دی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2221]
💡 وضاحت:
۱؎: ان حدیثوں سے معلوم ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پائجامہ قیمتاً خریدا، اور ظاہر یہ ہے کہ پہننے کے لئے خریدا، لیکن کسی صحیح حدیث سے صراحۃ یہ ثابت نہیں ہے کہ آپ نے پائجامہ پہنا، اور جس روایت میں یہ ذکر ہے کہ آپ نے پائجامہ پہنا، اس کو لوگوں نے موضوع کہا ہے۔ (انجاح الحاجۃ)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَزَنْتُمْ فَأَرْجِحُوا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تولو تو جھکا کر تولو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2222]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2584)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساقاة 21 (715) (صحیح)
|
|
|
35: بَابُ : التَّوَقِّي فِي الْكَيْلِ وَالْوَزْنِ
باب: ناپ تول میں احتیاط برتنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ خُوَيْلِدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ النَّحْوِيُّ ، أَنَّ عِكْرِمَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ ابنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ كَانُوا مِنْ أَخْبَثِ النَّاسِ كَيْلًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ فَأَحْسَنُوا الْكَيْلَ بَعْدَ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو مدینہ والے ناپ تول میں سب سے برے تھے ، اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ : «ويل للمطففين» ” خرابی ہے کم تولنے والوں کے لیے الخ “ اتاری اس کے بعد وہ ٹھیک ٹھیک ناپنے لگے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2223]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6275، ومصباح الزجاجة: 780) (حسن)
|
|
|
36: بَابُ : النَّهْيِ عَنِ الْغِشِّ
باب: دھوکا دینا منع ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَبِيعُ طَعَامًا، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ فَإِذَا هُوَ مَغْشُوشٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو گیہوں ( غلہ ) بیچ رہا تھا ، آپ نے اپنا ہاتھ اس کے اندر ڈالا تو وہ «مغشوش» ( غیر خالص اور دھوکے والا گڑبڑ ) تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو دھوکہ فریب دے ، وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2224]
💡 وضاحت:
۱؎: «مغشوش» : یعنی غیر خالص اور دھوکے والا یعنی گیہوں اندر سے گیلا تھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 52 (3452)، (تحفة الأشراف: 14022)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإیمان 43 (102)، سنن الترمذی/البیوع 74 (1315)، مسند احمد (2/242) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي الْحَمْرَاءِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِجَنَبَاتِ رَجُلٍ عِنْدَهُ طَعَامٌ فِي وِعَاءٍ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ، فَقَالَ: " لَعَلَّكَ غَشَشْتَهُ مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا".
ابوالحمراء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ ایک شخص کے پاس سے گزرے جس کے پاس ایک برتن میں گیہوں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس گیہوں میں ڈالا پھر فرمایا : ” شاید تم نے دھوکا دیا ہے ، جو ہمیں دھوکا دے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2225]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ أبو داود الأعمي متھم بالكذب ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 458
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11889، ومصباح الزجاجة: 781) (ضعیف جدا) (سند میں ابوداؤد نفیع بن الحارث الاعمی متروک الحدیث راوی ہیں، امام بخاری نے ابوالحمراء کے ترجمہ میں کہا کہ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ صحابی ہیں، ان کی حدیث صحیح نہیں ہے، یعنی ابوداؤد الاعمی کے متروک الحدیث ہونے کی وجہ سے، نیز ملاحظہ ہو: تہذیب الکمال للمزی 33/ 258)۔
|
|
|
37: بَابُ : النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ
باب: قبضے سے پہلے اناج بیچنا منع ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اناج خریدے تو اس پر قبضہ سے پہلے اسے نہ بیچے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2226]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 51 (2126)، 54 (2135)، 55 (2136)، صحیح مسلم/البیوع 7 (1526)، سنن ابی داود/البیوع 67 (3492)، سنن النسائی/البیوع 53 (4599)، (تحفة الأشراف: 8327)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 19 (40)، مسند احمد (1/56، 63، 2/32، 59، 64، 73، 108، 111، 113)، سنن الدارمی/البیوع 26 (2602) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ح وحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ"، قَالَ أَبُو عَوَانَةَ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ مِثْلَ الطَّعَامِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو گیہوں خریدے تو اس پر قبضہ کے پہلے اس کو نہ بیچے “ ۔ ابوعوانہ اپنی حدیث میں کہتے ہیں : ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : میں ہر چیز کو گیہوں ہی کی طرح سمجھتا ہوں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2227]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 54 (2132)، 55 (2135)، صحیح مسلم/البیوع 8 (1525)، سنن ابی داود/البیوع 67 (3497)، سنن الترمذی/البیوع 56 (1291)، سنن النسائی/البیوع 53 (4602)، (تحفة الأشراف: 36 57)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/215، 21، 251، 270، 285، 356، 357، 368، 369) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يَجْرِيَ فِيهِ الصَّاعَانِ صَاعُ الْبَائِعِ وَصَاعُ الْمُشْتَرِي".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اناج کو بیچنے سے منع کیا ہے جب تک اس میں بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کے صاع نہ چلیں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2228]
💡 وضاحت:
۱؎: بیچنے والے اور خریدنے والے کے صاع (یعنی پیمانہ) چلنے کا مطلب یہ ہے کہ بیچنے والے نے خریدتے وقت اپنے صاع سے اس کو ماپا، اور خریدنے والا جب خریدے تو اس وقت ماپے، جب ماپ لے تو اب دوسرے کے ہاتھ بیچ سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ محمد بن أبي ليلي: ضعيف ¤ وأبو الزبير عنعن ¤ وللحديث شاھد عند البيھقي (5/ 316) من حديث أبي ھريرة رضي اللّٰه عنه،فيه ھشام بن حسان مدلس (د 443) ¤ ولم أجد تصريح سماعه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 458
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2941، ومصباح الزجاجة: 782) (حسن) (سند میں محمد بن عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے)
|
|
|
38: بَابُ : بَيْعِ الْمُجَازَفَةِ
باب: بغیر ناپ تول کے اندازے سے بیچنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " كُنَّا نَشْتَرِي الطَّعَامَ مِنَ الرُّكْبَانِ جِزَافًا فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ نَبِيعَهُ حَتَّى نَنْقُلَهُ مِنْ مَكَانِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ سواروں سے گیہوں ( غلہ ) کا ڈھیر بغیر ناپے تولے اندازے سے خریدتے تھے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے بیچنے سے اس وقت تک منع کیا جب تک کہ ہم اسے اس کی جگہ سے منتقل نہ کر دیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2229]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/البیوع 8 (1527)، (تحفة الأشراف: 7958)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ البیوع 54 (2131)، 56 (2137)، 72 (2166)، سنن ابی داود/البیوع 67 (3493)، سنن النسائی/البیوع 55 (4609)، موطا امام مالک/البیوع 19 (42) مسند احمد (2/7، 15، 21، 40، 53، 142، 150، 157)، سنن الدارمی/البیوع 25 (2601) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ التَّمْرَ فِي السُّوقِ، فَأَقُولُ: كِلْتُ فِي وَسْقِي هَذَا كَذَا فَأَدْفَعُ أَوْسَاقَ التَّمْرِ بِكَيْلِهِ وَآخُذُ شِفِّي فَدَخَلَنِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: " إِذَا سَمَّيْتَ الْكَيْلَ فَكِلْهُ".
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بازار میں کھجور بیچتا تھا ، تو میں ( خریدار سے ) کہتا : میں نے اپنے اس ٹوکرے میں اتنا ناپ رکھا ہے ، چنانچہ اسی حساب سے میں کھجور کے ٹوکرے دے دیتا ، اور جو زائد ہوتا نکال لیا کرتا تھا ، پھر مجھے اس میں کچھ شبہ معلوم ہوا ، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم کہو کہ اس میں اتنے صاع ہیں تو اس کو خریدنے والے کے سامنے ناپ دیا کرو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2230]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9807، ومصباح الزجاجة: 783)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/62، 75) صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء: 1331)
|
|
|
39: بَابُ : مَا يُرْجَى فِي كَيْلِ الطَّعَامِ مِنَ الْبَرَكَةِ
باب: اناج ناپنے میں برکت متوقع ہونے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْيَحْصُبِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ الْمَازِنِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كِيلُوا طَعَامَكُمْ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ".
عبداللہ بن بسر مازنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” اپنا اناج ناپ لیا کرو ، اس میں تمہارے لیے برکت ہو گی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2231]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ التاريخ الكبير للبخاري (151/1) وسنده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5203، ومصباح الزجاجة: 784)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/131) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كِيلُوا طَعَامَكُمْ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ".
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنا اناج ناپ لیا کرو ، اس میں تمہارے لیے برکت ہو گی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2232]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3490، ومصباح الزجاجة: 785)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 52 (2128)، مسند احمد (4/131، 5/414) (صحیح) (اس سند میں بقیہ بن الولید مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن حدیث متابعت اور شواہد کی وجہ سے صحیح ہے)
|
|
|
40: بَابُ : الأَسْوَاقِ وَدُخُولِهَا
باب: بازار اور اس میں جانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، وَعَلِيٌّ ابنا الحسن بن أبي الحسن البراد، أن الزبير بن المنذر بن أبي أسيد الساعدي حدثهما، أن أباه المنذر حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ، أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى سُوقِ النَّبِيطِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: " لَيْسَ هَذَا لَكُمْ بِسُوقٍ"، ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى سُوقٍ فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: " لَيْسَ هَذَا لَكُمْ بِسُوقٍ"، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى هَذَا السُّوقِ، فَطَافَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: " هَذَا سُوقُكُمْ فَلَا يُنْتَقَصَنَّ وَلَا يُضْرَبَنَّ عَلَيْهِ خَرَاجٌ".
ابواسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبیط کے بازار تشریف لے گئے ، اس کو دیکھا تو آپ نے فرمایا : ” یہ بازار تمہارے لیے نہیں ہے پھر ایک دوسرے بازار میں تشریف لے گئے ، اور اس کو دیکھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ بازار بھی تمہارے لیے نہیں ہے ، پھر اس بازار میں پلٹے اور اس میں ادھر ادھر پھرے ، پھر فرمایا : ” یہ تمہارا بازار ہے ، اس میں نہ مال کم دیا جائے گا اور نہ اس میں کوئی محصول ( ٹیکس ) عائد کیا جائے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2233]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الزبير بن المنذر بن أبي أسيد: مستور،وإسحاق بن إبراهيم بن سعيد: لين الحديث (تقريب: 2004،326) ¤ والسند ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 458
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11199، ومصباح الزجاجة: 786) (ضعیف) (سند میں اسحاق بن ابراہیم، محمد و علی اور زبیر بن منذر سب ضعیف ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْسُ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا عَوْنٌ الْعُقَيْلِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ غَدَا إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ غَدَا بِرَايَةِ الْإِيمَانِ، وَمَنْ غَدَا إِلَى السُّوقِ غَدَا بِرَايَةِ إِبْلِيسَ".
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جو صبح سویرے نماز فجر کے لیے گیا ، وہ ایمان کا جھنڈا لے کر گیا ، اور جو صبح سویرے بازار گیا وہ ابلیس کا جھنڈا لے کر گیا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2234]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ عبيس بن ميمون: ضعيف متروك كما قال الهيثمي(مجمع الزوائد 77/4) وقال البوصيري: ’’ھو متفق علي تضعيفه“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 458
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4504، ومصباح الزجاجة: 787) (ضعیف جدا) (سند میں عیسیٰ بن میمون منکر الحدیث اورمتروک راوی ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ: حِينَ يَدْخُلُ السُّوقَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ كُلُّهُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ وَمَحَا عَنْهُ أَلْفَ أَلْفِ سَيِّئَةٍ وَبَنَى لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ".
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص بازار میں داخل ہوتے وقت دعا یہ پڑھے : «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو حي لا يموت بيده الخير كله وهو على كل شيء قدير» ” اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے حکمرانی ہے ، اور اسی کے لیے ہر طرح کی حمد و ثناء ہے ، وہی زندگی ، اور موت دیتا ہے ، اور وہ زندہ ہے ، اس کے لیے موت نہیں ، اسی کے ہاتھ میں سارا خیر ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے “ تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھے گا ، اور اس کی دس لاکھ برائیاں مٹا دے گا ، اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر تعمیر کرے گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2235]
💡 وضاحت:
۱؎: بازار میں اس دعا کا ثواب اس واسطے زیادہ ہوا کہ بازار دنیا میں مشغول ہونے اور اللہ سے غفلت کی جگہ ہے تو اس جگہ اللہ کو یاد رکھنا بڑے جواں مردوں کا کام ہے، اللہ تعالی نے فرمایا: «رِجَالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللَّهِ» (سورہ النور: 37) دوسری روایت میں ہے کہ شیطان بازار میں اپنی کرسی بچھاتا ہے اور لوگوں کو بھڑکاتا ہے، تو وہاں اللہ کی یاد گویا شیطان کو ذلیل کرنا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (3429) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 458
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الدعوات 36 (3429)، (تحفة الأشراف: 6787، 10528)، وقد أخرجہ: (1/47)، سنن الدارمی/الاستئذان 57 (2734) (حسن) (سند میں عمرو بن دینار ضعیف راوی ہیں لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے)
|
|
|
41: بَابُ : مَا يُرْجَى مِنَ الْبَرَكَةِ فِي الْبُكُورِ
باب: صبح کے وقت میں برکت متوقع ہونے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ ، عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا"، قَالَ: وَكَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً، أَوْ جَيْشًا بَعَثَهُمْ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ، قَالَ: " وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا، فَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ فَأَثْرَى وَكَثُرَ مَالُهُ".
صخر غامدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! میری امت کے لیے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما “ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی سریہ یا لشکر روانہ کرنا ہوتا تو اسے دن کے ابتدائی حصہ ہی میں روانہ فرماتے ۱؎ ۔ راوی کہتے ہیں : غامدی صخر تاجر تھے ، وہ اپنا مال تجارت صبح سویرے ہی بھیجتے تھے بالآخر وہ مالدار ہو گئے ، اور ان کی دولت بڑھ گئی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2236]
💡 وضاحت:
۱؎: سویرے سے مراد یہ ہے کہ صبح کی نماز کے بعد شروع دن میں کرے، یہ وقت برکت کا ہے، جو کام اس وقت کرے گا امید ہے کہ اس میں برکت ہو گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الجھاد 85 (2606)، سنن الترمذی/البیوع 6 (1212)، (تحفة الأشراف: 4852)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/416، 417، 432، 4/384، 390)، سنن الدارمی/السیر 1 (2479) (صحیح) (حدیث کا پہلا ٹکڑا اللَّهُمَّ بَارِكْ لأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، اور سند میں عمارہ بن حدید کی توثیق صرف ابن حبان نے کی ہے، جو مجاہیل کی توثیق کرتے ہیں، اور ابن حجر نے مجہول کہا ہے، حدیث کے دوسرے ٹکڑے کو البانی صاحب نے سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: (4178) میں شاہد نہ ملنے کی وجہ سے ضعیف کہا ہے، جب کہ سنن ابی داود میں پوری حدیث کو صحیح کہا ہے، لیکن سنن ابن ماجہ میں تفصیل بیان کر دی ہے، نیز اس حدیث کو امام ترمذی نے حسن کہا ہے)۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! میری امت کو جمعرات کی صبح کے وقت میں برکت عطا فرما “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2237]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ محمد بن ميمون: لم أجد من وثقه وقال ابن حجر في حديثه: ”منكر“ (تهذيب التهذيب 428/9ط دار الفكر) ¤ والسند ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 458
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13791، ومصباح الزجاجة: 788) (ضعیف) (ابومروان بعض منکر احادیث روایت کرنے کی وجہ سے ضعیف راوی ہیں، نیز عبدالرحمٰن بن أبی الزناد مضطرب الحدیث ہیں، يَوْمَ الْخَمِيسِ کی زیادتی اس حدیث میں منکر ہے، جس کی زیادتی ضعیف راوی نے کی ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْجَدْعَانِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! میری امت کے لیے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2238]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: 7754) (صحیح) (سند میں عبد الرحمن بن أبی بکر ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے)
|
|
|
42: بَابُ : بَيْعِ الْمُصَرَّاةِ
باب: مصراۃ کی بیع کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ ابْتَاعَ مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ لَا سَمْرَاءَ" يَعْنِي الْحِنْطَةَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے «مصّراۃ» خریدی تو اسے تین دن تک اختیار ہے ، چاہے تو واپس کر دے ، چاہے تو رکھے ، اگر واپس کرے تو اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی واپس کرے “ ، «سمراء» ( یعنی گیہوں ) کا واپس کرنا ضروری نہیں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2239]
💡 وضاحت:
۱؎: «مصراۃ» : ایسی بکری یا دودھ والا جانور جس کا دودھ ایک یا دو یا تین دن تک نہ دوہا جائے تاکہ دودھ تھن میں جمع ہو جائے اور خریدار دھوکہ کھا کر زیادہ قیمت میں اس جانور کو اس دھوکہ میں خرید لے کہ یہ بہت دودھ دینے والا جانور ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح م وخ نحوه دون ذكر الثلاثة
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14566)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 64 (2149)، 65 (2151)، نحوہ دون ''ثلاثة أیام''، صحیح مسلم/البیوع 7 (1525)، سنن ابی داود/البیوع 48 (3444)، سنن النسائی/البیوع 12 (4494)، حصحیح مسلم/248، 394، 460، 465، سنن الدارمی/البیوع 19 (2595) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 337، ثَلاثَةَ أَيَّامٍ تین دن کی تحدید ثابت نہیں ہے
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ بَاعَ مُحَفَّلَةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا مِثْلَيْ لَبَنِهَا، أَوْ قَالَ: مِثْلَ لَبَنِهَا قَمْحًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگو ! اگر کوئی «محفَلہ» ( «مصّراۃ» ) کو بیچے تو اسے تین دن تک اختیار ہے ، اگر وہ اسے واپس کر دے تو اس کے دودھ کے دوگنا یا برابر گیہوں اس کو دے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2240]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (3446) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 458
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ البیوع 48 (3446)، (تحفة الأشراف: 6675) (ضعیف) (سند میں جمیع بن عمیر ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى الصَّادِقِ الْمَصْدُوقِ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ حَدَّثَنَا، قَالَ: " بَيْعُ الْمُحَفَّلَاتِ خِلَابَةٌ وَلَا تَحِلُّ الْخِلَابَةُ لِمُسْلِمٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں صادق و مصدوق ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم پر گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے ہم سے بیان کیا ، اور فرمایا : «محفّلات» کا بیچنا فریب اور دھوکہ ہے ، اور مسلمان کو دھوکہ دینا حلال اور جائز نہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2241]
💡 وضاحت:
۱؎: «محفّلات» : جمع ہے «محفلہ» کی یعنی ایسے جانور جن کو کئی دنوں تک دوہا نہ گیا ہو، اور دودھ ان کے تھنوں میں جمع رہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ جابر الجعفي: ضعيف رافضي مدلس ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 458
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9583، ومصباح الزجاجة: 789)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/430، 433) (ضعیف) (سند میں جابر جعفی ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
43: بَابُ : الْخَرَاجِ بِالضَّمَانِ
باب: غلام کی کمائی اس کے ضامن مالک سے جڑی ہوئی ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ بْنِ رَحَضَةَ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى، أَنَّ خَرَاجَ الْعَبْدِ بِضَمَانِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ غلام کی کمائی اس کی ہے ، جو اس کا ضامن ہو ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2242]
💡 وضاحت:
۱؎: اس مسئلہ کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نے ایک غلام خریدا، وہ کئی دن تک اس کے پاس رہا، پھر عیب کی وجہ سے یا شرط خیار کی بناء پر اس کو واپس کر دیا،تو جتنے دن وہ غلام خریدار کے پاس رہا اتنے دن کی کمائی خریدار ہی کی ہوگی، اس لئے کہ خریدار ہی ان دنوں میں اس کا ضامن تھا، اگر وہ غلام خریدار کے پاس ہلاک ہو جاتا تو اسی کا نقصان ہوتا، بیچنے والے کا نقصان نہ ہوتا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 73 (3508، 3509)، سنن الترمذی/البیوع 53 (1285)، سنن النسائی/البیوع 13 (4495)، (تحفة الأشراف: 16755)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 49، 208، 237) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلًا اشْتَرَى عَبْدًا فَاسْتَغَلَّهُ ثُمَّ وَجَدَ بِهِ عَيْبًا فَرَدَّهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قَدِ اسْتَغَلَّ غُلَامِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک غلام خریدا ، پھر اس سے مزدوری کرائی ، بعد میں اسے اس میں کوئی عیب نظر آیا ، اسے بیچنے والے کو واپس کر دیا ، بیچنے والے نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے میرے غلام سے مزدوری کرائی ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ فائدہ اسے ضمانت کی وجہ سے ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2243]
💡 وضاحت:
۱؎: تو وہ اجرت خریدنے والے ہی کا حق ہے، اس لئے کہ وہ اس غلام کا ضامن تھا اگر وہ غلام اس کے پاس مر جاتا تو کیا اس کو قیمت واپس کر دیتا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (3510) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 73 (3510)، سنن الترمذی/البیوع 53 (1286 تعلیقاً)، (تحفة الأشراف: 17243)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/80، 116) (حسن) (سند میں مسلمہ بن خالد زنجی ضعیف راوی ہیں، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1315)
|
|
|
44: بَابُ : عُهْدَةِ الرَّقِيقِ
باب: غلام کو واپس لینے کی ذمے داری کی مدت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عُهْدَةُ الرَّقِيقِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیچنے والے پر غلام یا لونڈی کو واپس لینے کی ذمہ داری تین دن تک ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2244]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ ضعيف ¤ قتادة عنعن ¤ وللحديث شاهد ضعيف،انظر الحديث الآتي (2245) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: 4608، ومصباح الزجاجة: 790) (ضعیف) (حسن بصری نے یہ حدیث سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی ہے، کیونکہ حدیث عقیقہ کے علاوہ کسی دوسری حدیث کا سماع ان سے صحیح نہیں ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا عُهْدَةَ بَعْدَ أَرْبَعٍ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چار دن کے بعد بیچنے والا ذمہ دار نہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2245]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (3506،3507) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 72 (3506)، (تحفة الأشراف: 9917)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/143، 150، 152)، سنن الدارمی/البیوع 18 (2594) (ضعیف) (سند میں ہشیم مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
|
|
|
45: بَابُ : مَنْ بَاعَ عَيْبًا فَلْيُبَيِّنْهُ
باب: بیچتے وقت خراب چیز کے عیب کو ظاہر کر دینے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُمَاسَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ بَاعَ مِنْ أَخِيهِ بَيْعًا فِيهِ عَيْبٌ إِلَّا بَيَّنَهُ لَهُ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے ہاتھ کوئی ایسی چیز بیچے جس میں عیب ہو ، مگر یہ کہ وہ اس کو اس سے بیان کر دے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2246]
💡 وضاحت:
۱؎: عیب بیان کر دینے کے بعد خریدار اس مال کو خریدے تو اس کو پھیرنے کا اختیار نہ ہو گا، اگر عیب نہ بیان کرے تو اختیار ہو گا، جب عیب معلوم ہو تو اس کو پھیر دے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح ولـ م الجملة الأولى نحوه
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/النکاح 6 (1414)، (تحفة الأشراف: 9932)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/158) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ مَكْحُولٍ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ بَاعَ عَيْبًا لَمْ يُبَيِّنْهُ لَمْ يَزَلْ فِي مَقْتِ مِنَ اللَّهِ، وَلَمْ تَزَلِ الْمَلَائِكَةُ تَلْعَنُهُ".
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جو کوئی عیب دار چیز بیچے اور اس کے عیب کو بیان نہ کرے ، تو وہ برابر اللہ تعالیٰ کے غضب میں رہے گا ، اور فرشتے اس پر برابر لعنت کرتے رہیں گے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2247]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ بقية عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ما جة، (تحفة الأشراف: 11740، 11752، ومصباح الزجاجة: 792) (ضعیف جدا) (سند میں کئی ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
46: بَابُ : النَّهْيِ عَنِ التَّفْرِيقِ بَيْنَ السَّبْيِ
باب: قیدیوں کو الگ الگ بیچنے کی ممانعت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنَ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِالسَّبْيِ أَعْطَى أَهْلَ الْبَيْتِ جَمِيعًا كَرَاهِيَةَ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمْ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب قیدی ( جو آپس میں قریبی عزیز ہوتے ) لائے جاتے ، تو آپ ان سب کو ایک گھر کے لوگوں کو دے دیتے ، اس لیے کہ آپ ان کے درمیان جدائی ڈالنے کو ناپسند فرماتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2248]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ جابر ضعيف رافضي ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9369، ومصباح الزجاجة: 794)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/389) (ضعیف) (سند میں جابر جعفی ضعیف راوی ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، أَنْبَأَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: وَهَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامَيْنِ أَخَوَيْنِ فَبِعْتُ أَحَدَهُمَا، فَقَالَ: " مَا فَعَلَ الْغُلَامَانِ؟"، قُلْتُ: بِعْتُ أَحَدَهُمَا، قَالَ: " رُدَّهُ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو غلام ہبہ کئے جو دونوں سگے بھائی تھے ، میں نے ان میں سے ایک کو بیچ دیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” دونوں غلام کہاں گئے “ ؟ میں نے عرض کیا : میں نے ایک کو بیچ دیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کو واپس لے لو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2249]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1284) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/البیوع 52 (1284)، (تحفة الأشراف: 10285)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/102) (ضعیف) (سند میں حجاج بن أرطاہ ضعیف راوی ہیں، لیکن یہ مختصراً ابوداود میں صحیح ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ طَلِيقِ بْنِ عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا وَبَيْنَ الْأَخِ وَبَيْنَ أَخِيهِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو ماں بیٹے ، اور بھائی بھائی کے درمیان جدائی ڈال دے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2250]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن مجمع ضعيف ¤ والسند ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: 9104، ومصباح الزجاجة: 795) (ضعیف) (سند میں ابراہیم بن اسماعیل ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
47: بَابُ : شِرَاءِ الرَّقِيقِ
باب: غلام یا لونڈی خریدنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ لَيْثٍ صَاحِبُ الْكَرَابِيسِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: قَالَ لِي الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ : " أَلَا نُقْرِئُكَ كِتَابًا كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى. فَأَخْرَجَ لِي كِتَابًا، فَإِذَا فِيهِ: " هَذَا مَا اشْتَرَى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى مِنْهُ عَبْدًا، أَوْ أَمَةً لَا دَاءَ وَلَا غَائِلَةَ وَلَا خِبْثَةَ بَيْعَ الْمُسْلِمِ لِلْمُسْلِمِ".
عبدالمجید بن وہب کہتے ہیں کہ مجھ سے عداء بن خالد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا میں تم کو وہ تحریر پڑھ کر نہ سناؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے لکھی تھی ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ؟ ضرور سنائیں ، تو انہوں نے ایک تحریر نکالی ، میں نے جو دیکھا تو اس میں لکھا تھا : ” یہ وہ ہے جو عداء بن خالد بن ہوذہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے خریدا ، عداء نے آپ سے ایک غلام یا ایک لونڈی خریدی ، اس میں نہ تو کوئی بیماری ہے ، نہ وہ چوری کا مال ہے ، اور نہ وہ مال حرام ہے ، مسلمان سے مسلمان کی بیع ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2251]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 19 (2078 تعلیقاً)، سنن الترمذی/ البیوع 8 (1216)، (تحفة الأشراف: 9848) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اشْتَرَى أَحَدُكُمُ الْجَارِيَةَ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ وَلْيَدْعُ بِالْبَرَكَةِ، وَإِذَا اشْتَرَى أَحَدُكُمْ بَعِيرًا فَلْيَأْخُذْ بِذِرْوَةِ سَنَامِهِ وَلْيَدْعُ بِالْبَرَكَةِ وَلْيَقُلْ مِثْلَ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی لونڈی خریدے تو کہے : «اللهم إني أسألك خيرها وخير ما جبلتها عليه وأعوذ بك من شرها وشر ما جبلتها عليه» ” اے اللہ ! میں تجھ سے اس کی بھلائی کا طالب ہوں ، اور اس چیز کی بھلائی کا جو تو نے اس کی خلقت میں رکھی ہے ، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس کی برائی سے ، اور اس چیز کی برائی سے جو تو نے اس کی خلقت میں رکھی ہے “ اور برکت کی دعا کرے ، اور جب کوئی اونٹ خریدے تو اس کے کوہان کے اوپر کا حصہ پکڑ کر برکت کی دعا کرے ، اور ایسا ہی کہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2252]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/النکاح 46 (2160)، (تحفة الأشراف: 8799) (حسن)
|
|
|
48: بَابُ : الصَّرْفِ وَمَا لاَ يَجُوزُ مُتَفَاضِلاً يَدًا بِيَدٍ
باب: بیع صرف (سونے چاندی کو سونے چاندی کے بدلے نقد بیچنے) کا بیان اور نقداً کمی و بیشی کر کے نہ بیچی جانے والی چیزوں کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سونے کو سونے سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد ، اور گیہوں کو گیہوں سے اور جو کو جو سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد ، اور کھجور کا کھجور سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2253]
💡 وضاحت:
۱؎: اس روایت میں چار ہی چیزوں کا ذکر ہے، لیکن ابوسعید کی روایت میں جو صحیحین میں وارد ہے، دو چیزوں چاندی اور نمک کا اضافہ ہے، اس طرح ان چھ چیزوں میں تفاضل (کمی بیشی) اور نسیئہ (ادھار) جائز نہیں ہے، اگر ایک ہاتھ سے دے اور دوسرے ہاتھ سے لے تو درست ہے، اور اگر ایک طرف سے بھی ادھار ہو تو یہ سود ہو جائے گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 54 (2134)، 74 (2170)، 76 (2174)، صحیح مسلم/البیوع 37 (1586)، سنن ابی داود/البیوع 12 (3348)، سنن الترمذی/البیوع 24 (1243)، سنن النسائی/البیوع 39 (4562)، (تحفة الأشراف: 10630)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 17 (38)، مسند احمد (1/ 24، 25، 45)، سنن الدارمی/البیوع 41 (2620) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، أَنَّ مُسْلِمَ بْنَ يَسَارٍ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدٍ حَدَّثَاهُ، قَالَا: جَمَعَ الْمَنْزِلُ بَيْنَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَمُعَاوِيَةَ إِمَّا فِي كَنِيسَةٍ وَإِمَّا فِي بِيعَةٍ، فَحَدَّثَهُمْ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ ، فقَالَ: " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ، وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ"، قَالَ أَحَدُهُمَا: وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ وَلَمْ يَقُلْهُ الْآخَرُ" وَأَمَرَنَا أَنْ نَبِيعَ الْبُرَّ بِالشَّعِيرِ وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْنَا".
مسلم بن یسار اور عبداللہ بن عبید سے روایت ہے کہ عبادہ بن صامت اور معاویہ رضی اللہ عنہما دونوں کسی کلیسا یا گرجا میں اکٹھا ہوئے ، تو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چاندی کو چاندی سے ، اور سونے کو سونے سے ، اور گیہوں کو گیہوں سے ، اور جو کو جو سے ، اور کھجور کو کھجور سے بیچنے سے منع کیا ہے ۔ ( مسلم بن یسار اور عبداللہ بن عبید ان دونوں میں سے ایک نے کہا ہے : ” اور نمک کو نمک سے “ اور دوسرے نے اس کا ذکر نہیں کیا ہے ) اور ہم کو حکم دیا ہے کہ ہم گیہوں کو جو سے اور جو کو گیہوں سے نقدا نقد ( برابر یا کم و بیش ) جس طرح چاہیں بیچیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2254]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/البیوع 41 (4564)، 42 (4566)، (تحفة الأشراف: 5113)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/320)، سنن الدارمی/البیوع 41 (2621) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ، وَالذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَالشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ، وَالْحِنْطَةَ بِالْحِنْطَةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چاندی کو چاندی سے ، اور سونے کو سونے سے ، اور جو کو جو سے اور گیہوں کو گیہوں سے برابر برابر بیچیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2255]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ان میں تفاضل (کمی بیشی) درست نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساقاة 15 (1588)، سنن النسائی/البیوع 44 (4573)، (تحفة الأشراف: 13625)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 12 (20)، مسند احمد (2/232) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْزُقُنَا تَمْرًا مِنْ تَمْرِ الْجَمْعِ، فَنَسْتَبْدِلُ بِهِ تَمْرًا هُوَ أَطْيَبُ مِنْهُ وَنَزِيدُ فِي السِّعْرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَصْلُحُ صَاعُ تَمْرٍ بِصَاعَيْنِ، وَلَا دِرْهَمٌ بِدِرْهَمَيْنِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ، وَالدِّينَارُ بِالدِّينَارِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا إِلَّا وَزْنًا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مختلف قسم کی مخلوط کھجوریں کھانے کو دیتے تھے ، تو ہم انہیں عمدہ کھجور سے بدل لیتے تھے ، اور اپنی کھجور بدلہ میں زیادہ دیتے تھے ، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک صاع کھجور کو دو صاع کھجور سے اور ایک درہم کو دو درہم سے بیچنا درست نہیں ، درہم کو درہم سے ، اور دینار کو دینار سے ، برابر برابر وزن کر کے بیچو ، ان میں کمی بیشی جائز نہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2256]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 20 (2080)، صحیح مسلم/البیوع 39 (1588)، سنن النسائی/البیوع 39 (4559)، (تحفة الأشراف: 4422)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 12 (21)، مسند احمد (3/49، 50، 51) (حسن صحیح)
|
|
|
49: بَابُ : مَنْ قَالَ لاَ رِبَا إِلاَّ فِي النَّسِيئَةِ
باب: سود صرف ادھار میں ہے کے قائلین کی دلیل۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: " الدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ وَالدِّينَارُ بِالدِّينَارِ"، فَقُلْتُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ غَيْرَ ذَلِكَ. (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ: أَمَا إِنِّي لَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ هَذَا الَّذِي تَقُولُ فِي الصَّرْفِ أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ شَيْءٌ وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ؟، فَقَالَ: مَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ درہم کو درہم سے ، اور دینار کو دینار سے برابر برابر بیچنا چاہیئے ، تو میں نے ان سے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کچھ اور کہتے سنا ہے ، ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جا کر ملا ، اور میں نے ان سے کہا : آپ بیع صرف کے متعلق جو کہتے ہیں مجھے بتائیے ، کیا آپ نے کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ؟ کتاب اللہ ( قرآن ) میں اس سلسلہ میں آپ کو کوئی چیز ملی ہے ؟ اس پر وہ بولے : نہ تو میں نے اس کو کتاب اللہ ( قرآن ) میں پایا ہے ، اور نہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے سنا ہے ، البتہ مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” سود صرف ادھار میں ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2257]
💡 وضاحت:
۱؎: اہل حدیث اور جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ ان چھ چیزوں میں جن کا ذکر حدیث میں ہے، جب ہر ایک اپنی جنس کے بدلے بیچی جائے تو اس میں کم و بیش، اسی طرح ایک طرف نسیئہ یعنی میعاد ہونا، دونوں منع ہیں، اور دونوں سود ہیں، اور جب ان میں سے کوئی دوسری جنس کے بدل بیچی جائے جیسے چاندی سونے کے بدلے، یا گیہوں جو کے بدلے، تو کمی و بیشی جائز ہے، لیکن نسیئہ حرام ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 79 (2178، 2179)، صحیح مسلم/المساقاة 18 (1596)، سنن النسائی/البیوع 48 (4584)، (تحفة الأشراف: 94)، مسند احمد (5/200، 202، 204، 206، 209)، سنن الدارمی/البیوع 42 (2622) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيٍّ الرِّبْعِيِّ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَأْمُرُ بِالصَّرْفِ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ وَيُحَدَّثُ ذَلِكَ عَنْهُ، ثُمَّ بَلَغَنِي أَنَّهُ رَجَعَ عَنْ ذَلِكَ فَلَقِيتُهُ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ رَجَعْتَ، قَالَ: نَعَمْ، إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ رَأْيًا مِنِّي، وَهَذَا أَبُو سَعِيدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ نَهَى عَنِ الصَّرْفِ".
ابوالجوزاء کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بیع صرف کے جواز کا حکم دیتے سنا ، اور لوگ ان سے یہ حدیث روایت کرتے تھے ، پھر مجھے یہ خبر پہنچی کہ انہوں نے اس سے رجوع کر لیا ہے ، تو میں ان سے مکہ میں ملا ، اور میں نے کہا : مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ نے اس سے رجوع کر لیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں ، وہ میری رائے تھی ، اور یہ ابوسعید رضی اللہ عنہ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع صرف سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2258]
💡 وضاحت:
۱؎: بیع صرف: جب مال برابر نہ ہو یا نقدا نقد نہ ہو، تو وہ بیع صرف کہلاتا ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما حدیث سنتے ہی اپنی رائے سے پھر گئے، اور رائے کو ترک کر دیا، اور حدیث پر عمل کر لیا، لیکن ہمارے زمانے کے نام نہاد مسلمان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پیروی نہیں کرتے، اور ایک حدیث کیا بہت ساری احادیث سن کر بھی اپنے مجتہد کا قول ترک نہیں کرتے، حالانکہ ان کا مجتہد کبھی خطا کرتا ہے کبھی صواب۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4102)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/48، 51) (صحیح)
|
|
|
50: بَابُ : صَرْفِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ
باب: سونے کو چاندی کے بدلے بیچنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ"، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ: الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ احْفَظُوا.
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سونے کو چاندی سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد “ ۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ میں نے سفیان بن عیینہ کو کہتے سنا : یاد رکھو کہ سونے کو چاندی سے یعنی باوجود اختلاف جنس کے ادھار بیچنا «ربا» ( سود ) ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2259]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: (2253) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ: أَقْبَلْتُ، أَقُولُ: مَنْ يَصْطَرِفُ الدَّرَاهِمَ، فَقَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَرِنَا ذَهَبَكَ، ثُمَّ ائْتِنَا إِذَا جَاءَ خَازِنُنَا نُعْطِكَ وَرِقَكَ، فَقَالَ عُمَرُ: كَلَّا وَاللَّهِ لَتُعْطِيَنَّهُ وَرِقَهُ أَوْ لَتَرُدَّنَّ إِلَيْهِ ذَهَبَهُ، فَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْوَرِقُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ".
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ میں یہ کہتے ہوئے آیا کہ کون درہم کی بیع صرف کرتا ہے ؟ یہ سن کر طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بولے ، اور وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے : لاؤ مجھے اپنا سونا دکھاؤ ، اور دے جاؤ ، پھر ذرا ٹھہر کے آنا ، جب ہمارا خزانچی آ جائے گا تو ہم تمہیں درہم دے دیں گے ، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہرگز نہیں ، اللہ کی قسم ! یا تو اس کی چاندی دے دو ، یا اس کا سونا اسے لوٹا دو ، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” چاندی کو سونے سے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2260]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: (2253) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ الْعَبَّاسِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ شَافِعٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ، لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا فَمَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِوَرِقٍ، فَلْيَصْطَرِفْهَا بِذَهَبٍ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِذَهَبٍ فَلْيَصْطَرِفْهَا بِالْوَرِقِ وَالصَّرْفُ هَاءَ وَهَاءَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دینار کو دینار سے ، اور درہم کو درہم سے بیچو ان میں کمی بیشی نہ ہو ، اور جس کو چاندی کی حاجت ہو تو وہ اس کو سونے سے بھنا لے ، اور جس کو سونے کی حاجت ہو اس کو چاندی سے بھنا لے ، لیکن یہ نقدا نقد ہو ، ایک ہاتھ سے لے دوسرے ہاتھ سے دے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2261]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عباس بن عثمان بن شافع: لا يعرف حاله (تقريب:3179) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10271، ومصباح الزجاجة: 796) (صحیح)
|
|
|
51: بَابُ : اقْتِضَاءِ الذَّهَبِ مِنَ الْوَرِقِ وَالْوَرِقِ مِنَ الذَّهَبِ
باب: چاندی کے بدلے سونا اور سونے کے بدلے چاندی لینے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاق ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اونٹ بیچا کرتا تھا ، تو میں چاندی ( جو قیمت میں ٹھہرتی ) کے بدلے سونا لے لیتا ، اور سونا ( جو قیمت میں ٹھہرتا ) کے بدلے چاندی لے لیتا ، اور دینار درہم کے بدلے ، اور درہم دینار کے بدلے لے لیتا تھا ، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں پوچھا کہ ایسا کرنا کیسا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم دونوں میں سے ایک لے لو اور دوسرا دیدے تو اپنے ساتھی سے اس وقت تک جدا نہ ہو جب تک کہ حساب صاف نہ ہو جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2262]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (ضعیف)
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاق ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2262M]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (ضعیف)
|
|
|
52: بَابُ : النَّهْيِ عَنْ كَسْرِ الدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ
باب: درہم و دینار (سونے اور چاندی کے سکوں) کو توڑنا اور پگھلانا منع ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاق ، قَالُوا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فَضَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْرِ سِكَّةِ الْمُسْلِمِينَ الْجَائِزَةِ بَيْنَهُمْ إِلَّا مِنْ بَأْسٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر ضرورت مسلمانوں کے رائج سکہ کو توڑنے سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2263]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (3449) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 50 (3449)، (تحفة الأشراف: 8973)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/419) (ضعیف) (سند میں محمد بن فضاء ضعیف اور ان کے والد مجہول ہیں)
|
|
|
53: بَابُ : بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ
باب: «رطب» (تازہ کھجور) کو سوکھی کھجور کے بدلے بیچنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَإِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ مَوْلًى لِبَنِي زُهْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ اشْتِرَاءِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ؟، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: أَيَّتُهُمَا أَفْضَلُ، قَالَ: الْبَيْضَاءُ فَنَهَانِي عَنْهُ، وَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ اشْتِرَاءِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ، فَقَالَ: " أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ.
بنی زہرۃ کے غلام زید ابوعیاش کہتے ہیں کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے پوچھا : سالم جَو کو چھلکا اتارے ہوئے جَو کے بدلے خریدنا کیسا ہے ؟ سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : دونوں میں سے کون بہتر ہے ؟ کہا : سالم جو ، تو سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے اس سے روکا ، اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب تر کھجور کو خشک کھجور سے بیچنے کے بارے میں پوچھا گیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” کیا تر کھجور سوکھ جانے کے بعد ( وزن میں ) کم ہو جاتی ہے ؟ لوگوں نے کہا : ہاں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2264]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 18 (3359، 3360)، سنن الترمذی/البیوع 14 (1225)، سنن النسائی/البیوع 34 (4549)، (تحفة الأشراف: 3854)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 12 (22)، مسند احمد (1/175، 179) (صحیح)
|
|
|
54: بَابُ : الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ
باب: بیع مزابنہ (یعنی درخت کے اوپر کچے پھل کو سوکھے پھل کے بدلے بیچنے) اور بیع محاقلہ (یعنی غلہ کے بدلے زمین دینے) کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ، أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ تَمْرَ حَائِطِهِ، إِنْ كَانَتْ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلًا، وَإِنْ كَانَتْ كَرْمًا، أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلًا، وَإِنْ كَانَتْ زَرْعًا، أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ نَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ، مزابنہ یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ کی کھجور کو جو درختوں پر ہو خشک کھجور کے بدلے ناپ کر بیچے ، یا انگور کو جو بیل پر ہو کشمش کے بدلے ناپ کر بیچے ، اور اگر کھیتی ہو تو کھیت میں کھڑی فصل سوکھے ہوئے اناج کے بدلے ناپ کر بیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب سے منع کیا ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2265]
💡 وضاحت:
۱؎: اور یہ آخری صورت محاقلہ کہلاتی ہے، بیع محاقلہ: یہ ہے کہ گیہوں کا کھیت گیہوں کے بدلے بیچے، یا چاول کا کھیت چاول کے بدلے، غرض اپنی جنس کے ساتھ، اور یہ اس لئے منع ہوا کیونکہ اس میں کمی بیشی کا احتمال ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 75 (2171)، 82 (2185)، صحیح مسلم/البیوع 14 (1542)، سنن النسائی/البیوع 30 (4537)، 37 (4553)، (تحفة الأشراف: 8273)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/البیوع 19 (3361) موطا امام مالک/البیوع 13 (23)، مسند احمد (2/5، 7، 16) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2266]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 83 (2189)، المساقاة 17 (2380)، صحیح مسلم/البیوع 16 (1536)، سنن ابی داود/البیوع 24 (3375)، 34 (3404)، سنن الترمذی/البیوع 55 (1290)، 72 (1313)، سنن النسائی/الأیمان والنذور 45 (3910)، البیوع 72 (4638)، (تحفة الأشراف: 2261، 2666)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/313، 356، 364، 391، 392) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2267]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 32 (3400)، سنن النسائی/المزارعة 2 (3921)، (تحفة الأشراف: 3557)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحرث 18 (2339)، 19 (2346، 2347)، صحیح مسلم/البیوع 18 (1548)، موطا امام مالک/کراء الأرض 1 (1)، مسند احمد (3/464، 465، 466) (صحیح)
|
|
|
55: بَابُ : بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا تَمْرًا
باب: عرایا کی بیع یعنی کھجور کے درخت کو انداز ے سے خشک کھجور کے بدلے خریدنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کی بیع میں رخصت دی ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2268]
💡 وضاحت:
۱؎: بیع عرایا: یہ بیع بھی بیع مزابنہ ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کی اجازت فقراء اور مساکین کے فائدے اور آرام کے لئے دی ہے، عرایا جمع ہے عریہ کی، یعنی کوئی آدمی اپنے باغ میں سے دو تین درخت کسی کو ہبہ کر دے، پھر اس کا باغ میں بار بار آنا پریشانی کا سبب بن جائے، اس لئے مناسب خیال کر کے ان درختوں کا پھل خشک پھل کے بدلے اس سے خرید لے، اور ضروری ہے کہ یہ پھل پانچ وسق (۷۵۰ کلو) سے کم ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 75 (2173)، صحیح مسلم/البیوع 14 (1539)، سنن الترمذی/البیوع 62 (1300، 1302)، سنن النسائی/البیوع 31 (4541)، (تحفة الأشراف: 3723)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/البیوع 20 (3362)، موطا امام مالک/البیوع 9 (14)، مسند احمد (5/181، 182، 188، 192)، سنن الدارمی/البیوع 24 (2600) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا"، قَالَ يَحْيَى الْعَرِيَّةُ: أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ ثَمَرَ النَّخَلَاتِ بِطَعَامِ أَهْلِهِ رُطَبًا بِخَرْصِهَا تَمْرًا.
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی بیع میں اجازت دی ہے کہ اندازہ سے اس کے برابر خشک کھجور کے بدلے خرید و فروخت کی جائے ۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ عریہ یہ ہے کہ ایک آدمی کھجور کے کچھ درخت اپنے گھر والوں کے کھانے کے لیے اندازہ کر کے اس کے برابر خشک کھجور کے بدلے خریدے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2269]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
56: بَابُ : الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً
باب: حیوان کو حیوان کے بدلے ادھار بیچنے کی ممانعت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیوان کو حیوان کے بدلے ادھار بیچنے سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2270]
💡 وضاحت:
۱؎: حیوان کو حیوان کے بدلے ادھار بیچنا اس وقت منع ہے جب اسی جنس کا ہو جیسے اونٹ کو اونٹ کے بدلے، لیکن اگر جنس مختلف ہو تو ادھار بھی جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 15 (3356)، سنن الترمذی/البیوع 21 (1237)، سنن النسائی/البیوع 63 (4624)، (تحفة الأشراف: 4583)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/12، 21، 22)، سنن الدارمی/البیوع 30 (2606) (صحیح) (حدیث شواہد کی بناء پرصحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 2416)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، وَأَبُو خَالِدٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا بَأْسَ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ وَاحِدًا بِاثْنَيْنِ يَدًا بِيَدٍ، وَكَرِهَهُ نَسِيئَةً".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک حیوان کو دو حیوان کے بدلے نقد بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ادھار بیچنے کو ناپسند کیا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2271]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1238) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/البیوع 21 (1238)، (تحفة الأشراف: 2676)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/310، 380، 382) (صحیح) (ترمذی نے حدیث کی تحسین کی ہے، جب کہ حجاج بن أرطاہ ضعیف ہیں، اور ابوزبیر مدلس اور روایت عنعنہ سے کی ہے، تو یہ تحسین شواہد کی وجہ سے ہے، بلکہ صحیح ہے، تفصیل کے لئے دیکھئے الإرواء: 2416)۔
|
|
|
57: بَابُ : الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ مُتَفَاضِلاً يَدًا بِيَدٍ
باب: جاندار کو جاندار کے بدلے زیادہ کر کے نقداً لینے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عُرْوَةَ ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى صَفِيَّةَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ"، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: مِنْ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کو سات غلام کے بدلے خریدا ۱؎ ۔ عبدالرحمٰن بن مہدی نے کہا : دحیہ کلبی سے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2272]
💡 وضاحت:
۱؎: غزوہ خیبرکے قیدیوں میں ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں جو ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے بڑی خاندانی عورت تھیں، مال غنیمت کی تقسیم کے وقت وہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں، تو لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ صفیہ آپ کے لائق ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلا کر دیکھا، اور دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو سات غلام دے کر ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کو ان سے لے لیا، اور اپنے نکاح میں لائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 390)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح 14 (1365)، سنن ابی داود/الخراج 21 (2997)، مسند احمد (3/111) (صحیح)
|
|
|
58: بَابُ : التَّغْلِيظِ فِي الرِّبَا
باب: حرمت سود میں وارد وعید کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الصَّلْتِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى قَوْمٍ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ فِيهَا الْحَيَّاتُ تُرَى مِنْ خَارِجِ بُطُونِهِمْ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرَائِيلُ؟، قَالَ: " هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” معراج کی رات میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے پیٹ مکانوں کے مانند تھے ، ان میں باہر سے سانپ دکھائی دیتے تھے ، میں نے کہا : جبرائیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا : یہ سود خور ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2273]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو الصلت:مجهول (تقريب: 8178) ¤ وتلميذه علي بن زيد ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 460
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15443، ومصباح الزجاجة: 798)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/353، 363) (ضعیف) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الرِّبَا سَبْعُونَ حُوبًا أَيْسَرُهَا أَنْ يَنْكِحَ الرَّجُلُ أُمَّهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سود ستر گناہوں کے برابر ہے جن میں سے سب سے چھوٹا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے نکاح کرے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2274]
💡 وضاحت:
۱؎: ستر کی تعداد سے مراد گنا ہ کی زیادتی اور اس فعل کی شناعت و قباحت کا اظہار ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ وقال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف،أبو معشر ھو نجيح بن عبد الرحمٰن متفق علي تضعيفه“ ¤ و للحديث شواھد ضعيفة عند ابن الجارود (647) و الحاكم (2/ 37) وغيرهما ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 460
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13073، ومصباح الزجاجة: 799) (صحیح) (سند میں ابومعشر نجیح بن عبد الرحمن سندی ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پرحدیث صحیح ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ أَبُو حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الرِّبَا ثَلَاثَةٌ وَسَبْعُونَ بَابًا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سود کے تہتر دروازے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2275]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ إبراھيم النخعي مدلس وعنعن ¤ اضافه از معاذ: وله شاھد موقوف صحيح عند المروزي في السنة (201،وسنده صحيح) والخلال في السنة (1496) وھو يغني عنه،لعله حكمًا مرفوعًا،والله اعلم ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 460
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9561، ومصباح الزجاجة: 800) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: " إِنَّ آخِرَ مَا نَزَلَتْ آيَةُ الرِّبَا وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ وَلَمْ يُفَسِّرْهَا لَنَا فَدَعُوا الرِّبَا وَالرِّيبَةَ".
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آخری آیت جو نازل ہوئی ، وہ سود کی حرمت والی آیت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر ہم سے بیان نہیں کی ، لہٰذا سود کو چھوڑ دو ، اور جس میں سود کا شبہ ہو اسے بھی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2276]
💡 وضاحت:
۱؎: اگرچہ سود کی آیت کے بعد اور کئی آیتیں اتریں، لیکن اس کو آخری اس اعتبار سے کہا کہ معاملات کے باب میں اس کے بعد کوئی آیت نہیں اتری، مقصد یہ ہے کہ سود کی آیت منسوخ نہیں ہے، اس کا حکم قیامت تک باقی ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر نہیں کی یعنی جیسا چاہئے ویسا کھول کر سود کا مسئلہ بیان نہیں کیا، چھ چیزوں کا بیان کر دیا کہ ان میں سود ہے: سونا، چاندی، گیہوں، جو، نمک، اور کھجور، اور چیزوں کا بیان نہیں کیا کہ ان میں سود ہوتا ہے یا نہیں، لیکن مجتہدین نے اپنے اپنے قیاس کے موافق دوسری چیزوں میں بھی سود قرار دیا، اب جن چیزوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کر دیا ان میں تو سود کی حرمت قطعی ہے، کسی مسلمان کو اس کے پاس پھٹکنا نہ چاہئے، رہیں اور چیزیں جن میں اختلاف ہے تو تقوی یہ ہے کہ ان میں بھی سود کا پرہیز کرے، لیکن اگر کوئی اس میں مبتلا ہو جائے تو اللہ سے استغفار کرے اور حتی المقدور دوبارہ احتیاط رکھے، اور یہ زمانہ ایسا ہے کہ اکثر لوگ سود کھانے سے بچتے ہیں تو دینے میں گرفتار ہوتے ہیں، حالانکہ دونوں کا گناہ برابر ہے، اللہ ہی اپنے بندوں کو بچائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قتادة عنعن ¤ وله طريق آخر عند الإسماعيلي كما في مسند الفاروق (571/2) ¤ وإسناده ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 460
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10454)، وقد أخرجہ: (حم (1/36، 49) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَشَاهِدِيهِ وَكَاتِبَهُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کے کھانے والے پر ، کھلانے والے پر ، اس کی گواہی دینے والے پر ، اور اس کا حساب لکھنے والے پر لعنت بھیجی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2277]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 4 (3333)، سنن الترمذی/البیوع 2 (1206)، (تحفة الأشراف: 9356)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساقاة 19 (1597)، سنن النسائی/الطلاق 13 (3445)، مسند احمد (1/393، 394، 402، 453) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا آكِلُ الرِّبَا فَمَنْ لَمْ يَأْكُلْ أَصَابَهُ مِنْ غُبَارِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یقیناً لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ کوئی ایسا نہ بچے گا جس نے سود نہ کھایا ہو ، جو نہیں کھائے گا اسے بھی اس کا غبار لگ جائے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2278]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داو د (3331) نسائي (4460) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 460
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 3 (3331)، سنن النسائی/البیوع 2 (4460)، (تحفة الأشراف: 12241)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/494) (ضعیف) (سعید بن أبی خیرہ مقبول راوی ہیں، یعنی متابعت کی موجود گی میں، اور متابع کوئی نہیں ہے، اس لئے لین الحدیث ہیں، یعنی کمزوری اور ضعیف ہیں، حسن بصری کا سماع ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ رُكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا أَحَدٌ أَكْثَرَ مِنَ الرِّبَا إِلَّا كَانَ عَاقِبَةُ أَمْرِهِ إِلَى قِلَّةٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے بھی سود سے مال بڑھایا ، اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ اس کا مال گھٹ جاتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2279]
💡 وضاحت:
۱؎: سودی کاروبار کرنے والا اپنا مال بڑھانے کے لئے زیادہ سود لیتا ہے، لیکن غیب سے ایسی آفتیں اترتی ہیں کہ مال میں برکت نہیں رہتی، سب تباہ و برباد ہو جاتا ہے، اور آدمی مفلس بن جاتا ہے۔ اس امر کا تجربہ ہو چکا ہے، مسلمان کو کبھی سودی کاروبار سے ترقی نہیں ہوتی، البتہ کفار و مشرکین کا مال سود سے بڑھتا ہے، وہ کافر ہیں ان کو سود کی حرمت سے کیا غرض، ان کو تو پہلے ایمان لانے کا حکم ہے۔ اورچونکہ ان کی آخرت تباہ کن ہے، اس لیے دنیا میں ان کو ڈھیل دے دی گئی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9203، ومصباح الزجاجة: 802)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/395، 424) (صحیح)
|
|
|
59: بَابُ : السَّلَفِ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ
باب: متعین ناپ تول میں ایک مقررہ مدت کے وعدے پر بیع سلف کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي التَّمْرِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ، فَقَالَ: " مَنْ أَسْلَفَ فِي تَمْرٍ، فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے ، اس وقت اہل مدینہ دو سال اور تین سال کی قیمت پہلے ادا کر کے کھجور کی بیع سلف کیا کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کھجور میں بیع سلف کرے یعنی قیمت پیشگی ادا کر دے تو اسے چاہیئے کہ یہ بیع متعین ناپ تول اور مقررہ میعاد پر کرے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2280]
💡 وضاحت:
۱؎: بیع سلف اور سلم دونوں ایک ہیں یعنی ایک آدمی دوسرے آدمی کو روپیہ نقد دے، لیکن مال لینے کے لئے ایک میعاد مقرر کر لے، اہل حدیث کے نزدیک اس میں دو ہی شرطیں ہیں: ایک یہ کہ جس مال کے لینے پر اتفاق ہوا ہے اس کی کیفیت،جنس اور نوع واضح طور پر بیان کر دے، اگر ناپ تول کی چیز ہو تو ناپ تول صراحت سے مقرر کر دی جائے، مثلاً سو من گیہوں سفید اعلیٰ قسم کا، فلاں کپڑا اس قسم کے اتنے گز اور میٹر، دوسرے یہ کہ مال کے لینے کی میعاد مقرر ہو، مثلاً ایک مہینہ، دو مہینہ، ایک سال۔اگر ان شرطوں میں سے کوئی شرط نہ ہو تو بیع سلم فاسد ہوگی، کیونکہ اس میں نزاع کی صورت پیدا ہو گی، بعضوں نے اور شرطیں بھی رکھیں ہیں لیکن ان کی دلیل ذرا مشکل سے ملے گی، اور شاید نہ ملے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/السلم 1 (2239)، 2 (2240، 2241)، 7 (2253)، صحیح مسلم/المساقاہ 25 (1604)، سنن ابی داود/البیوع 57 (3463)، سنن الترمذی/البیوع 70 (1311)، سنن النسائی/البیوع 61 (4620)، (تحفة الأشراف: 5820)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/217، 222، 282، 358)، سنن الدارمی/البیوع 45 (2625) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ بَنِي فُلَانٍ أَسْلَمُوا لِقَوْمٍ مِنْ الْيَهُودِ، وَإِنَّهُمْ قَدْ جَاعُوا، فَأَخَافُ أَنْ يَرْتَدُّوا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عِنْدَهُ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ: عِنْدِي كَذَا وَكَذَا لِشَيْءٍ قَدْ سَمَّاهُ أُرَاهُ، قَالَ: ثَلاثُ مِائَةِ دِينَارٍ بِسِعْرِ كَذَا وَكَذَا مِنْ حَائِطِ بَنِي فُلَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِسِعْرِ كَذَا وَكَذَا إِلَى أَجَلِ كَذَا وَكَذَا وَلَيْسَ مِنْ حَائِطِ بَنِي فُلَانٍ".
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور اس نے آ کر عرض کیا : فلاں قبیلہ کے یہودی مسلمان ہو گئے ہیں ، اور وہ بھوک میں مبتلا ہیں ، مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ مرتد نہ ہو جائیں ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی کے پاس کچھ نقدی ہے “ ( کہ وہ ہم سے بیع سلم کرے ) ؟ ایک یہودی نے کہا : میرے پاس اتنا اور اتنا ہے ، اس نے کچھ رقم کا نام لیا ، میرا خیال ہے کہ اس نے کہا : میرے پاس تین سو دینار ہیں ، اس کے بدلے میں بنی فلاں کے باغ اور کھیت سے اس اس قیمت سے غلہ لوں گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیمت اور مدت کی تعیین تو منظور ہے لیکن فلاں کے باغ اور کھیت کی جو شرط تم نے لگائی ہے وہ منظور نہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2281]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ احتمال ہے کہ اس باغ یا کھیت میں کچھ نہ ہو یا وہاں کا غلہ تباہ ہو جائے تو یہ شرط لغو اور بیکار ہے، البتہ یہ شرط قبول ہے کہ اس بھاؤ سے اتنے کا غلہ فلاں وقت اور تاریخ پر دے دیں گے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ ضعيف ¤ الوليد لم يصرح بالسماع المسلسل ¤ وللحديث طريق ضعيف عند الدار قطني في المؤتلف والمختلف (1388/3) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 460
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5329، ومصباح الزجاجة: 803) (ضعیف) (سند میں ولید بن مسلم مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، قَالَ: امْتَرَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ وَأَبُو بُرْدَةَ فِي السَّلَمِ فَأَرْسَلُونِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، فَسَأَلْتُهُ؟، فَقَالَ: " كُنَّا نُسْلِمُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَهْدِ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ فِي الْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَالزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ، عِنْدَ قَوْمٍ مَا عِنْدَهُمْ" فَسَأَلْتُ ابْنَ أَبْزَى ، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ.
عبداللہ بن ابی مجالد کہتے ہیں کہ عبداللہ بن شداد اور ابوبرزہ رضی اللہ عنہما کے درمیان بیع سلم کے سلسلہ میں جھگڑا ہو گیا ، انہوں نے مجھے عبداللہ ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ، میں نے جا کر ان سے اس کے سلسلے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اور ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کے عہد میں گیہوں ، جو ، کشمش اور کھجور میں ایسے لوگوں سے بیع سلم کرتے تھے جن کے پاس اس وقت مال نہ ہوتا ، پھر میں نے ابن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا ، تو انہوں نے بھی ایسے ہی کہا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2282]
قال الشيخ الألباني:
صحيح خ بلفظ ما كنا نسألهم مكان ما عندهم
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/السلم 2 (2242)، 3 (2244)، 7 (2254، 2255) بلفظ: ''ما کنا نسألھم'' مکان ''ماعندھم ''، سنن ابی داود/البیوع 57 (3464، 3465)، سنن النسائی/البیوع 59 (4618)، 60 (4619)، (تحفة الأشراف: 5171)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/354، 380) (صحیح)
|
|
|
60: بَابُ : مَنْ أَسْلَمَ فِي شَيْءٍ فَلاَ يَصْرِفْهُ إِلَى غَيْرِهِ
باب: کسی چیز کی بیع سلم کر کے اس کو دوسری چیز سے نہ بدلنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ سَعْدًا.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم کسی چیز میں بیع سلف کرو تو اسے کسی اور چیز کی طرف نہ پھیرو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2283]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (3468) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 460
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4200) (ضعیف) (ملاحظہ ہو: حدیث سابق)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ سَعْدًا.
اس سند سے بھی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، پھر آگے راوی نے اسی کے مثل ذکر کیا ، اور اس کے راویوں میں سعد کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2283M]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4200) (ضعیف) (ملاحظہ ہو: حدیث سابق)
|
|
|
61: بَابُ : إِذَا أَسْلَمَ فِي نَخْلٍ بِعَيْنِهِ لَمْ يُطْلِعْ
باب: اگر کسی خاص درخت کی خریداری بیع سلم سے (یعنی پیشگی ادائیگی کے بعد) کی ہو اور اس میں پھل نہ آئے تو کیا حکم ہے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ النَّجْرَانِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أُسْلِمُ فِي نَخْلٍ، قَبْلَ أَنْ يُطْلِعَ، قَالَ: لَا، قُلْتُ: لِمَ، قَالَ: إِنَّ رَجُلًا أَسْلَمَ فِي حَدِيقَةِ نَخْلٍ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَبْلَ أَنْ يُطْلِعَ النَّخْلُ فَلَمْ يُطْلِعِ النَّخْلُ شَيْئًا ذَلِكَ الْعَامَ، فَقَالَ الْمُشْتَرِي: هُوَ لِي حَتَّى يُطْلِعَ، وَقَالَ الْبَائِعُ: إِنَّمَا بِعْتُكَ النَّخْلَ هَذِهِ السَّنَةَ، فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلْبَائِعِ: " أَخَذَ مِنْ نَخْلِكَ شَيْئًا"، قَالَ: لَا، قَالَ: " فَبِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَهُ ارْدُدْ عَلَيْهِ مَا أَخَذْتَ مِنْهُ وَلَا تُسْلِمُوا فِي نَخْلٍ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ".
نجرانی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا : کیا میں کسی درخت کے کھجور کی ان کے پھلنے سے پہلے بیع سلم کروں ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، میں نے کہا : کیوں ؟ کہا : ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کھجور کے ایک باغ کے پھلوں میں ان کے پھلنے سے پہلے بیع سلم کی ، لیکن اس سال کھجور کے درخت میں پھل آیا ہی نہیں ، تو خریدار نے کہا : یہ درخت میرے رہیں گے جب تک ان میں کھجور نہ پھلے ، اور بیچنے والے نے کہا : میں نے تو صرف اسی سال کا کھجور تیرے ہاتھ بیچا تھا ، چنانچہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں معاملہ لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے والے سے کہا : ” کیا اس نے تمہارے کھجور کے درختوں سے کچھ پھل لیے “ ؟ وہ بولا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر تم کس چیز کے بدلے اس کا مال اپنے لیے حلال کرو گے ، جو تم نے اس سے لیا ہے ، اسے واپس کرو اور آئندہ کھجور کے درختوں میں بیع سلم اس وقت تک نہ کرو جب تک اس کے پھل استعمال کے لائق نہ ہو جائیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2284]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (3467) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 460
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 58 (3467)، (تحفة الأشراف: 8595)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 21 (49)، مسند احمد (2/25، 49، 51، 58، 144) (ضعیف) (اس کی سند میں نجرانی مبہم راوی ہے)
|
|
|
62: بَابُ : السَّلَمِ فِي الْحَيَوَانِ
باب: حیوانات میں بیع سلم کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَكْرًا، وَقَالَ: " إِذَا جَاءَتْ إِبِلُ الصَّدَقَةِ قَضَيْنَاكَ" فَلَمَّا قَدِمَتْ، قَالَ: " يَا أَبَا رَافِعٍ، اقْضِ هَذَا الرَّجُلَ بَكْرَهُ"، فَلَمْ أَجِدْ إِلَّا رَبَاعِيًا فَصَاعِدًا، فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَعْطِهِ، فَإِنَّ خَيْرَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً".
ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے ایک جوان اونٹ کی بیع سلم کی یعنی اسے قرض کے طور پر لیا ، اور فرمایا : ” جب صدقہ کے اونٹ آئیں گے تو ہم تمہارا اونٹ کا قرض ادا کر دیں گے “ ، چنانچہ جب صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابورافع ! اس کے اونٹ کا قرض ادا کر دو “ ، ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے ڈھونڈا تو مجھے ویسا اونٹ نہیں ملا ، سوائے ایک ایسے اونٹ کے جس نے اپنے سامنے کے چاروں دانت گرا رکھے تھے ، جو اس کے اونٹ سے بہتر تھا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسی کو دے دو کیونکہ لوگوں میں بہتر وہ ہے جو اپنے قرض کی ادائیگی میں بہتر ہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2285]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ جو مال بغیر شرط کے قرض لیا تھا اس سے افضل دیتے ہیں،اگر قرض سے بہتر یا زیادہ مال دیا جائے تو مستحب اور اس کا لینا جائز ہے، لیکن شرط کے ساتھ جائز نہیں، کیونکہ وہ ربا (سود) ہے، اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ بیع سلم بلکہ قرض لینا بھی جانور کا درست ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/البیوع 43 (1600)، سنن ابی داود/البیوع 11 (3346)، سنن الترمذی/البیوع 75 (1318)، سنن النسائی/البیوع 62 (4621)، (تحفة الأشراف: 12025)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 43 (89)، مسند احمد (6/390)، سنن الدارمی/البیوع 31 (2607) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَاب ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ هَانِئٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ ، يَقُولُ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: اقْضِنِي بَكْرِي، فَأَعْطَاهُ بَعِيرًا مُسِنًّا، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا أَسَنُّ مِنْ بَعِيرِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ النَّاسِ خَيْرُهُمْ قَضَاءً".
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ ایک اعرابی نے آ کر عرض کیا : میرا جوان اونٹ مجھے دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایک اونٹ دیا جو اس سے بڑا تھا ، اعرابی ( دیہاتی ) بولا : اللہ کے رسول ! اس کی عمر تو اس سے زیادہ ہے ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بہتر لوگ وہ ہیں جو اپنے قرض کی ادائیگی میں بہتر ہوں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2286]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/البیوع 62 (4623)، (تحفة الأشراف: 9887)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/128) (صحیح)
|
|
|
63: بَابُ : الشَّرِكَةِ وَالْمُضَارَبَةِ
باب: شرکت و مضاربت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ قَائِدِ السَّائِبِ ، عَنْ السَّائِبِ ، قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُنْتَ شَرِيكِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَكُنْتَ خَيْرَ شَرِيكٍ لَا تُدَارِينِي وَلَا تُمَارِينِي".
سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! زمانہ جاہلیت میں آپ میرے شریک تھے ، تو آپ بہت بہترین شریک ثابت ہوئے نہ آپ میری مخالفت کرتے تھے نہ جھگڑتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2287]
💡 وضاحت:
۱؎: ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے کہ نبوت سے پہلے سائب مخزومی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شریک تھے، فتح مکہ کے دن وہ آئے، اور کہا: مرحباً، (خوش آمدید) میرے بھائی، میرے شریک، ایسے شریک کہ نہ کبھی انہوں نے مقابلہ کیا نہ جھگڑا، اس حدیث کے اور بھی کئی طریق ہیں، سبحان اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق شروع سے ایسے تھے کہ تعلیم و تربیت اور ریاضت کے بعد بھی ویسے اخلاق حاصل ہونا مشکل ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (4836) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 461
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأدب 20 (4836)، (تحفة الأشراف: 3791)، وقد أخرجہ: مسند احمد (/425) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " اشْتَرَكْتُ أَنَا وَسَعْدٌ وَعَمَّارٌ يَوْمَ بَدْرٍ فِيمَا نُصِيبُ فَلَمْ أَجِئْ أَنَا وَلَا عَمَّارٌ بِشَيْءٍ وَجَاءَ سَعْدٌ بِرَجُلَيْنِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سعد اور عمار تینوں بدر کے دن مال غنیمت میں شریک ہوئے ، تو مجھ کو اور عمار کو کچھ نہ ملا ، البتہ سعد کافروں کے دو آدمی پکڑ لائے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2288]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (3388) نسائي (3969،4701) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 461
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 30 (3388)، سنن النسائی/الأیمان 47 (3969)، البیوع 103 (4701)، (تحفة الأشراف: 9616) (ضعیف) (سند میں ابوعبیدہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اس لئے کہ ابوعبیدہ کا اپنے والد سے سماع نہیں ثابت ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1474)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ دَاوُدَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ فِيهِنَّ الْبَرَكَةُ الْبَيْعُ إِلَى أَجَلٍ وَالْمُقَارَضَةُ وَأَخْلَاطُ الْبُرِّ بِالشَّعِيرِ لِلْبَيْتِ لَا لِلْبَيْعِ".
صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین چیزوں میں برکت ہے : پہلی یہ کہ مقررہ مدت کے وعدے پر بیع کرنے میں ، دوسری : مضاربت میں ، تیسری : گیہوں اور جو ملانے میں جو کہ گھر کے کھانے کے لیے ہو ، نہ کہ بیچنے کے لیے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2289]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ نصر: مجهول،وصالح (بن صهيب بن سنان الرومي): مجهول الحال (تقريب: 7123،2870) وأورده ابن الجوزي في الموضوعات (2/ 248،249) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 461
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4963، ومصباح الزجاجة: 804) (ضعیف جدا) (سند میں صالح صہیب، عبد الرحمن بن داود اور نصر بن قاسم وغیرہ سب مجہول راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2100)
|
|
|
64: بَابُ : مَا لِلرَّجُلِ مِنْ مَالِ وَلَدِهِ
باب: اولاد کے مال میں والدین کے حق کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَمَّتِهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ وَإِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے کھانوں میں سب سے پاکیزہ کھانا وہ ہے جو تمہارے ہاتھ کی کمائی کا ہو ، اور تمہاری اولاد بھی تمہاری ایک قسم کی کمائی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2290]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 79 (3528)، سنن الترمذی/الأحکام 22 (1358)، سنن النسائی/البیوع 1 (4454)، (تحفة الأشراف: 17992)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/31، 32، 127، 162، 193، 220)، سنن الدارمی/البیوع 6 (2579) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا، وَإِنَّ أَبِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي، فَقَالَ: " أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے پاس مال اور اولاد دونوں ہیں ، اور میرے والد میرا مال ختم کرنا چاہتے ہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اور تمہارا مال دونوں تمہارے والد کے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2291]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3093، ومصباح الزجاجة: 805) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي اجْتَاحَ مَالِي، فَقَالَ: " أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ فَكُلُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : میرے والد نے میری دولت ختم کر دی ( اس کے بارے میں فرمائیں ؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اور تمہاری دولت دونوں تمہارے والد کے ہیں “ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہاری اولاد تمہاری بہترین کمائی ہے لہٰذا تم ان کے مال میں سے کھاؤ “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2292]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ باپ اپنے بیٹے کے مال میں ضرورت کے مطابق تصرف کر سکتا ہے اور اگر ماں باپ بیٹے کا مال لے بھی لیں تو بھی بیٹے کو چاہئے کہ وہ ماں باپ سے مقابلہ نہ کرے، نہ ان سے سخت کلامی کرے اور اس وقت کو یاد کرے جب ماں باپ نے اسے محبت سے پالا پوسا تھا، پیشاب و پاخانہ دھویا، پھر کھلایا، پلایا، پڑھایا اور سکھایا، یہ سب احسانات ایسے ہیں کہ اگر ماں باپ کے کام میں بیٹے کا چمڑہ بھی آئے تو ان کا احسان نہ ادا ہو سکے اور یہ سمجھ لے کہ ماں باپ ہی کی رضامندی پر ان کی نجات منحصر ہے، اگر ماں باپ ناراض ہوئے تو دنیا و آخرت دونوں تباہ ہو گی، تجربہ سے معلوم ہوا کہ جن لڑکوں نے ماں باپ کو راضی رکھا ان کو بڑی برکت حاصل ہوئی اور انہوں نے چین سے زندگی بسر کی اور جنہوں نے ماں باپ کے ساتھ بدسلوکی کی وہ ہمیشہ دنیا میں جلتے اور کڑھتے ہی رہے، اگر ماں باپ بیٹے کا مال لے لیں تو کمال خوشی کرنا چاہئے کہ ہماری یہ قسمت کہاں تھی کہ ہمارا روپیہ ماں باپ کے کام آئے یا روپیہ اپنے موقع پر صرف ہوا، اور ماں باپ سے یوں کہنا چاہئے کہ روپیہ تو کیا میرا بدن اور میری جان بھی آپ ہی کی ہے، آپ اگر چاہیں تو مجھ کو بھی بازار میں بیچ لیں،میں آپ کا غلام ہوں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8675)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/البیوع 79 (3530)، مسند احمد (2/179) (صحیح)
|
|
|
65: بَابُ : مَا لِلْمَرْأَةِ مِنْ مَالِ زَوْجِهَا
باب: شوہر کے مال میں عورت کے حق کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ لَا يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَوَلَدِي إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ وَهُوَ لَا يَعْلَمُ، فَقَالَ: " خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہند رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! ابوسفیان بخیل آدمی ہیں ، مجھے اتنا نہیں دیتے جو مجھے اور میری اولاد کے لیے کافی ہو سوائے اس کے جو میں ان کی لاعلمی میں ان کے مال میں سے لے لوں ( اس کے بارے میں فرمائیں ؟ ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مناسب انداز سے اتنا لے لو جو تمہیں اور تمہاری اولاد کے لیے کافی ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2293]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأقضیة 4 (1714)، سنن ابی داود/البیوع 81 (3532)، سنن النسائی/آداب القضاة 30 (5422)، (تحفة الأشراف: 17261)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 95 (2211)، المظالم 18 (2460)، النفقات 5 (5359)، 9 (5364)، 14 (5370)، الأیمان 3 (6641)، الأحکام 14 (7161)، 28 (7180)، مسند احمد (6/39، 50، 206)، سنن الدارمی/النکاح 54 (5364) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ"، وَقَالَ أَبِي فِي حَدِيثِهِ: إِذَا أَطْعَمَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُهَا وَلَهُ مِثْلُهُ بِمَا اكْتَسَبَ وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے خرچ کرے ( کی روایت میں ” خرچ کرے “ کے بجائے ” جب عورت کھلائے “ ہے ) اور اس کی نیت مال برباد کرنے کی نہ ہو تو اس کے لیے اجر ہو گا ، اور شوہر کو بھی اس کی کمائی کی وجہ سے اتنا ہی اجر ملے گا ، اور عورت کو خرچ کرنے کی وجہ سے ، اور خازن کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کچھ کمی ہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2294]
💡 وضاحت:
۱؎: اگرچہ عورت کو اپنے شوہر کا اور خادم کو اپنے مالک کا مال بغیر ان کی اجازت کے صدقہ میں دینا جائز نہیں ہے، لیکن یہاں وہ مال مراد ہے جس کے خرچ کی عادتاً عورتوں کو اجازت دی جاتی ہے جیسے کھانے میں سے ایک روٹی فقیر کو دے دینا، یا پیسوں میں سے ایک پیسہ کسی مسکین کو، اور بعضوں نے کہا: اہل حجاز اپنی عورتوں کو صدقہ اور مہمانی کی اجازت دیا کرتے تھے، تو یہ حدیث ان سے خاص ہے، اور بعضوں نے کہا: مراد وہ مال ہے جو شوہر اپنی بیوی کو اس کے خرچ کے لئے دیتا ہے اس میں سے تو عورت بالاتفاق خرچ کر سکتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 17 (1425)، 25 (1437)، 26 (1439، 1440)، البیوع 12 (2065)، صحیح مسلم/الزکاة 25 (1024)، سنن الترمذی/الزکاة 34 (672)، سنن ابی داود/الزکاة 44 (1685)، (تحفة الأشراف: 17608)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الزکاة 57 (2540)، مسند احمد (9/44، 99، 278) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تُنْفِقُ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِهَا شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا الطَّعَامَ، قَالَ: " ذَلِكَ مِنْ أَفْضَلِ أَمْوَالِنَا".
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” عورت اپنے گھر میں سے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے “ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کھانا بھی کسی کو نہ دے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، کھانا بھی نہ دے ، یہ تو ہمارے مالوں میں سب سے بہتر مال ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2295]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الزکاة 34 (670)، (تحفة الأشراف: 4883)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/267) (حسن)
|
|
|
66: بَابُ : مَا لِلْعَبْدِ أَنْ يُعْطِيَ وَيَتَصَدَّقَ
باب: غلام کسی کو کیا دے سکتا ہے اور کیا صدقہ کر سکتا ہے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمُلَائِيِّ ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجِيبُ دَعْوَةَ الْمَمْلُوكِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غلام کی دعوت قبول کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2296]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1017) والحديث الآتي (4178) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 461
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الجنائز 32 (1017)، (تحفة الأشراف: 1588)، (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 4178) (ضعیف) (سند میں مسلم الملائی ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ: كَانَ مَوْلَايَ يُعْطِينِي الشَّيْءَ، فَأُطْعِمُ مِنْهُ، فَمَنَعَنِي، أَوْ قَالَ: فَضَرَبَنِي، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سَأَلَهُ، فَقُلْتُ: لَا أَنْتَهِي أَوْ لَا أَدَعُهُ؟، فَقَالَ: " الْأَجْرُ بَيْنَكُمَا".
عمیر مولی آبی اللحم رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے مالک مجھے کوئی چیز دیتے تو میں اس میں سے اوروں کو بھی کھلا دیتا تھا تو انہوں نے مجھ کو ایسا کرنے سے روکا یا کہا : انہوں نے مجھے مارا ، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : یا اسی مالک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : میں نے عرض کیا : میں اس سے باز نہیں آ سکتا ، یا میں اسے چھوڑ نہیں سکتا ( کہ مسکین کو کھانا نہ کھلاؤں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم دونوں کو اس کا اجر ملے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2297]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الزکاة 26 (1025)، سنن النسائی/الزکاة 56 (2538)، (تحفة الأشراف: 10899) (صحیح)
|
|
|
67: بَابُ : مَنْ مَرَّ عَلَى مَاشِيَةِ قَوْمٍ أَوْ حَائِطٍ هَلْ يُصِيبُ مِنْهُ
باب: کسی کے ریوڑ یا باغ سے گزر ہو تو کیا آدمی اس سے کچھ لے سکتا ہے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ شُرَحْبِيلَ رَجُلًا مِنْ بَنِي غُبَرَ، قَالَ: أَصَابَنَا عَامُ مَخْمَصَةٍ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَأَتَيْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِهَا، فَأَخَذْتُ سُنْبُلًا فَفَرَكْتُهُ وَأَكَلْتُهُ وَجَعَلْتُهُ فِي كِسَائِي، فَجَاءَ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَضَرَبَنِي وَأَخَذَ ثَوْبِي، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ لِلرَّجُلِ: " مَا أَطْعَمْتَهُ إِذْ كَانَ جَائِعًا أَوْ سَاغِبًا وَلَا عَلَّمْتَهُ إِذْ كَانَ جَاهِلًا"، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ إِلَيْهِ ثَوْبَهُ وَأَمَرَ لَهُ بِوَسْقٍ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نِصْفِ وَسْقٍ.
ابوبشر جعفر بن أبی ایاس کہتے ہیں میں نے عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ جو بنی غبر کے ایک فرد ہیں کو کہتے سنا کہ ایک سال قحط ہوا تو میں مدینہ آیا ، وہاں اس کے باغوں میں سے ایک باغ میں گیا ، اور اناج کی ایک بالی اٹھا لی ، اور مل کر اس میں سے کچھ کھایا ، اور کچھ اپنے کپڑے میں رکھ لیا ، اتنے میں باغ کا مالک آ گیا ، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ سے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باغ والے سے کہا : ” تم نے اس کو کھانا نہیں کھلایا جبکہ یہ بھوکا تھا ، اور نہ تم نے اس کو تعلیم دی جبکہ یہ جاہل تھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کپڑے واپس کرنے اور ساتھ ہی ایک وسق یا نصف وسق غلہ دینے کا حکم دیا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2298]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الجہاد 93 (2620، 2621)، سنن النسائی/آداب القضاة 20 (5411)، (تحفة الأشراف: 5061)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/166، 167) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي ، عَنْ عَمِّ أَبِيهَا رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ وَأَنَا غُلَامٌ أَرْمِي نَخْلَنَا، أَوْ قَالَ: نَخْلَ الْأَنْصَارِ، فَأُتِيَ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا غُلَامُ"، وَقَالَ ابْنُ كَاسِبٍ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: آكُلُ، قَالَ: " فَلَا تَرْميِ النَّخْلَ وَكُلْ مِمَّا يَسْقُطُ فِي أَسَافِلِهَا"، قَالَ: ثُمَّ مَسَحَ رَأْسِي، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ".
رافع بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور ایک لڑکا دونوں مل کر اپنے یا انصار کے کھجور کے درخت پر پتھر مار رہے تھے ، تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لڑکے ! ( ابن کاسب کا قول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا : میرے بیٹے ! ) تم کیوں کھجور کے درختوں پر پتھر مارتے ہو “ ؟ ، رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں ( کھجور ) کھاؤں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” درختوں پر پتھر نہ مارو جو نیچے گرے ہوں انہیں کھاؤ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا : ” اے اللہ ! اسے آسودہ کر دے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2299]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي دا ود (2622) ترمذي (1288) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 461
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الجہاد 94 (2622)، سنن الترمذی/البیوع 54 (1288)، (تحفة الأشراف: 3595) (ضعیف) (سند میں ابن ابی الحکم مستور اور جدتی (دادی) مبہم روایہ ہیں نیزملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: 453)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَتَيْتَ عَلَى رَاعٍ فَنَادِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ، فَإِنْ أَجَابَكَ وَإِلَّا فَاشْرَبْ فِي غَيْرِ أَنْ تُفْسِدَ، وَإِذَا أَتَيْتَ عَلَى حَائِطِ بُسْتَانٍ فَنَادِ صَاحِبَ الْبُسْتَانِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنْ أَجَابَكَ، وَإِلَّا فَكُلْ فِي أَنْ لَا تُفْسِدَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم کسی چرواہے کے پاس آؤ تو تین بار اسے آواز دو ، اگر وہ جواب دے تو بہتر ، ورنہ اپنی ضرورت کے مطابق بغیر خراب کئے دودھ دوہ کر پی لو ، اور جب تم کسی باغ میں آؤ تو باغ والے کو تین بار آواز دو ، اگر وہ جواب دے تو بہتر ، ورنہ اپنی ضرورت کے مطابق پھل توڑ کر کھا لو ، البتہ خراب مت کرو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2300]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف،فيه الجريري واسمه سعيد بن إياس وقد اختلط بآخره ويزيد بن ھارون روي عنه بعد الإختلاط“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 461
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4342، ومصباح الزجاجة: 806)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/7، 21، 85) (صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء: 2521)
|
|
|
حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، وَأَيُّوبُ بْنُ حَسَّانَ الْوَاسِطِيُّ ، وعلي بن سلمة قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ بِحَائِطٍ، فَلْيَأْكُلْ وَلَا يَتَّخِذْ خُبْنَةً".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی کسی باغ سے گزرے تو ( پھل ) کھائے ، اور کپڑے میں نہ باندھے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2301]
💡 وضاحت:
۱؎: جن احادیث میں مالک کی اجازت کے بغیر دودھ یا پھل لینے کی اجازت ہے، اکثر علماء کے نزدیک یہ منسوخ ہیں، اور ان کی ناسخ وہ احادیث ہیں جن میں مسلمان کی اجازت کے بغیر اس کا مال لینا حرام ہے، اور بعضوں نے کہا کہ یہ حدیثیں اس حالت پر محمول ہیں کہ جب آدمی بھوک کے مارے بے تاب ہو یعنی مرنے کے قریب ہو، مخمصہ کی حالت ہو تو ایسی حالت میں حرام حلال ہو جاتا ہے، پھر پھل یا دودھ بھی بے اجازت کھا پی لینا جائز ہو گا،لیکن ضروری ہے کہ صرف اتنا لے جس سے جان بچ جائے، اور ضرورت سے زیادہ اس کا مال خراب نہ کرے نہ اپنے ساتھ باندھ کر لے جائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1287) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 461
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/البیوع 54 (1287)، (تحفة الأشراف: 8222) (صحیح)
|
|
|
68: بَابُ : النَّهْيِ أَنْ يُصِيبَ مِنْهَا شَيْئًا إِلاَّ بِإِذْنِ صَاحِبِهَا
باب: مالک کی اجازت کے بغیر کسی کے ریوڑ یا باغ سے کچھ لینا منع ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَامَ، فَقَالَ: " لَا يَحْتَلِبَنَّ أَحَدُكُمْ مَاشِيَةَ رَجُلٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرُبَتُهُ، فَيُكْسَرَ بَاب: خِزَانَتِهِ، فَيُنْتَثَلَ طَعَامُهُ، فَإِنَّمَا تَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَاتِهِمْ، فَلَا يَحْتَلِبَنَّ أَحَدُكُمْ مَاشِيَةَ امْرِئٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا : ” کوئی کسی کے جانور کا دودھ بغیر اس کی اجازت کے نہ دوہے ، کیا کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کے بالاخانہ میں کوئی جائے ، اور اس کے غلہ کی کوٹھری کا دروازہ توڑ کر غلہ نکال لے جائے ؟ ایسے ہی ان کے جانوروں کے تھن ان کے غلہ کی کوٹھریاں ہیں ، تو کوئی کسی کے جانور کو اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2302]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/اللقطة 2 (1726)، (تحفة الأشراف: 8300)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللقطة 48 (2435)، سنن ابی داود/الجہاد 95 (2623)، موطا امام مالک/الإستئذان 6 (17) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ سَلِيطِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الطُّهَوِيِّ ، عَنْ ذُهَيْلِ بْنِ عَوْفِ بْنِ شَمَّاخٍ الطُّهَوِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، إِذْ رَأَيْنَا إِبِلًا مَصْرُورَةً بِعِضَاهِ الشَّجَرِ، فَثُبْنَا إِلَيْهَا، فَنَادَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الْإِبِلَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ هُوَ قُوتُهُمْ وَيُمْنُهُمْ بَعْدَ اللَّهِ أَيَسُرُّكُمْ لَوْ رَجَعْتُمْ إِلَى مَزَاوِدِكُمْ فَوَجَدْتُمْ مَا فِيهَا قَدْ ذُهِبَ بِهِ أَتُرَوْنَ ذَلِكَ عَدْلًا"، قَالُوا: لَا، قَالَ: " فَإِنَّ هَذَا كَذَلِكَ"، قُلْنَا: أَفَرَأَيْتَ إِنِ احْتَجْنَا إِلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ؟، فَقَالَ: " كُلْ وَلَا تَحْمِلْ وَاشْرَبْ وَلَا تَحْمِلْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ اتنے میں ہم نے خاردار درختوں کی آڑ میں ایک اونٹنی دیکھی ، جس کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے تھے تو اس ہم ( کا دودھ دوہنے کے لیے ) اس کی طرف لپکے ، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو آواز دی تو ہم آپ کی طرف پلٹ آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ اونٹنی کسی مسلمان گھرانے کی ہے ، اور یہی ان کی روزی ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے بعد یہی ان کے لیے خیر و برکت کی چیز ہے ، کیا تم اس بات کو پسند کرو گے کہ تم اپنے توشہ دانوں کے پاس واپس آؤ تو جو کچھ ان میں ہے اس سے ان کو خالی پاؤ ، کیا تم اس کو انصاف سمجھو گے “ ؟ لوگوں نے عرض کیا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بس یہ بھی ایسا ہی ہے “ ، ہم نے عرض کیا : اگر ہم کھانے پینے کے حاجت مند ہوں تو کیا تب بھی یہی حکم ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( ایسی حالت میں ) کھا پی لو لیکن اٹھا کر نہ لے جاؤ “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2303]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی یہ اونٹنی ان کی توشہ دان ہیں، اس کے تھن میں ان کے کھانے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سليط و ذهيل مجهولان (تقريب: 2521،1843) وحجاج بن أرطاة: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 461
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12892، ومصباح الزجاجة: 807)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/405) (ضعیف) لأن ھذا السند فیہ سلیط بن عبد اللہ، قال فیہ البخاری: إسنادہ لیس بالقائم وحجاج بن أرطاة مدلس وقد رواہ بالعنعنة۔
|
|
|
69: بَابُ : اتِّخَاذِ الْمَاشِيَةِ
باب: جانور پالنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: " اتَّخِذِي غَنَمًا، فَإِنَّ فِيهَا بَرَكَةً".
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” تم بکریاں پالو ، اس لیے کہ ان میں برکت ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2304]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18008، ومصباح الزجاجة: 808)، وقد أخرجہ: 6/424) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ يَرْفَعُهُ، قَالَ: " الْإِبِلُ عِزٌّ لِأَهْلِهَا وَالْغَنَمُ بَرَكَةٌ وَالْخَيْرُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
عروہ بارقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اونٹ ان کے مالکوں کے لیے قوت کی چیز ہے ، اور بکریاں باعث برکت ہیں ، اور گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لیے بھلائی بندھی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2305]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجہاد 43 (2850)، 44 (2852)، الخمس 8 (3119)، المناقب 28 (3642)، صحیح مسلم/الإمارة 26 (1873)، سنن الترمذی/الجہاد 19 (1694)، سنن النسائی/الخیل 6 (9897)، (تحفة الأشراف: 9897)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/375، 376) سنن الدارمی/الجہاد 34 (2470) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فِرَاسٍ أَبُو هُرَيْرَةَ الصَّيْرَفِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا زَرْبِيٌّ إِمَامُ مَسْجِدِ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشَّاةُ مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بکری تو جنت کے جانوروں میں سے ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2306]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ قال البوصيري: ”زربي (بن عبد اللّٰه) متفق علي ضعفه“ ضعيف (تقريب: 2013) ¤ وللحديث طريق آخر مظلم عند الخطيب (435/7) ¤ وللحديث شواهد ضعيفة في الصحيحة للألباني (1128)! ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 461
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7439، ومصباح الزجاجة: 810) (صحیح) (سند میں زربی بن عبد اللہ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، نیزملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1128)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَغْنِيَاءَ بِاتِّخَاذِ الْغَنَمِ، وَأَمَرَ الْفُقَرَاءَ بِاتِّخَاذِ الدَّجَاجِ، وَقَالَ: " عِنْدَ اتِّخَاذِ الْأَغْنِيَاءِ الدَّجَاجَ يَأْذَنُ اللَّهُ بِهَلَاكِ الْقُرَى".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالدار لوگوں کو بکریاں اور محتاج لوگوں کو مرغیاں رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا ہے : ” جب مالدار مرغیاں پالنے لگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس بستی کو تباہ کرنے کا حکم دیتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2307]
قال الشيخ الألباني:
موضوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده موضوع ¤ علي بن عروة: متروك (تقريب: 4771) ¤ وقال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف،علي بن عروة تركوه،قال ابن حبان: يضع الحديث“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 462
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12999، ومصباح الزجاجة: 811) (موضوع) (سند میں علی بن عروہ متروک بلکہ متہم با لوضع راوی ہے، نیز عثمان بن عبد الرحمن مجہول ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 119)
|
|
|
1: بَابُ : الْحَثِّ عَلَى الْمَكَاسِبِ
باب: روزی کمانے کی ترغیب۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی کا سب سے عمدہ کھانا وہ ہے جو اس کی اپنی کمائی کا ہو ، اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2137]
💡 وضاحت:
۱؎: اگر والدین محتاج اور ضرورت مند ہوں تو ان کا نفقہ (خرچ) اولاد پر واجب ہے، اور جو محتاج یا عاجز نہ ہوں تب بھی اولاد کی رضامندی سے اس کے مال میں سے کھا سکتے ہیں، مطلب حدیث کا یہ ہے کہ اولاد کا مال کھانا بھی طیب (پاکیزہ) اور حلال ہے، اور اپنے کمائے ہوئے مال کی طرح ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/البیوع 1 (4454)، (تحفة الأشراف: 15961)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/البیوع 79 (3528)، سنن الترمذی/الأحکام 22 (1358)، مسند احمد (6/31، 42، 127، 162، 193، 220)، سنن الدارمی/البیوع 6 (2579) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا كَسَبَ الرَّجُلُ كَسْبًا أَطْيَبَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ وَمَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى نَفْسِهِ، وَأَهْلِهِ وَوَلَدِهِ وَخَادِمِهِ، فَهُوَ صَدَقَةٌ".
مقدام بن معدیکرب زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی کی کوئی کمائی اس کمائی سے بہتر نہیں جسے اس نے اپنی محنت سے کمایا ہو ، اور آدمی اپنی ذات ، اپنی بیوی ، اپنے بچوں اور اپنے خادم پر جو خرچ کرے وہ صدقہ ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2138]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11561)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 15 (2072)، مسند احمد (4/131، 132) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا كُلْثُومُ بْنُ جَوْشَنٍ الْقُشَيْرِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " التَّاجِرُ الْأَمِينُ الصَّدُوقُ الْمُسْلِمُ مَعَ الشُّهَدَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سچا ، امانت دار مسلمان تاجر قیامت کے دن شہداء کے ساتھ ہو گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2139]
💡 وضاحت:
۱؎: تجارت کے ساتھ سچائی اور امانت داری بہت مشکل کام ہے، اکثر تاجر جھوٹ بولتے ہیں اور سودی لین دین کرتے ہیں، تو کوئی تاجر سچا امانت دار، متقی اور پرہیزگار ہو گا تو اس کو شہیدوں کا درجہ ملے گا، اس لئے کہ جان کے بعد آدمی کو مال عزیز ہے، بلکہ بعض مال کے لئے جان گنواتے ہیں جیسے شہید نے اپنی جان اللہ کی راہ میں قربان کی، ایسے ہی متقی تاجر نے اللہ تعالی کی راہ میں دولت خرچ کی، اور حرام کا لالچ نہ کیا۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ ضعيف ¤ كلثوم بن جوشن: ضعيف(تقريب: 5655) ¤ وللحديث شاهد ضعيف عند الترمذي (1209) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 456
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7598، ومصباح الزجاجة: 755) (حسن صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 248)
|
|
|
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَكَالَّذِي يَقُومُ اللَّيْلَ وَيَصُومُ النَّهَارَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیوہ عورتوں اور مسکینوں کے لیے محنت و کوشش کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے مانند ہے ، اور اس شخص کے مانند ہے جو رات بھر قیام کرتا ، اور دن کو روزہ رکھتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2140]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/النفقات 1 (5353)، صحیح مسلم/الزہد والرقائق 2 (2982)، سنن الترمذی/البروالصلة 44 (1969)، سنن النسائی/الزکاة 78 (2578)، (تحفة الأشراف: 12914)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/361) (حسن صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: كُنَّا فِي مَجْلِسٍ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى رَأْسِهِ أَثَرُ مَاءٍ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُنَا: نَرَاكَ الْيَوْمَ طَيِّبَ النَّفْسِ، فَقَالَ: " أَجَلْ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ" ثُمَّ أَفَاضَ الْقَوْمُ فِي ذِكْرِ الْغِنَى، فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِالْغِنَى لِمَنِ اتَّقَى وَالصِّحَّةُ لِمَنِ اتَّقَى خَيْرٌ مِنَ الْغِنَى وَطِيبُ النَّفْسِ مِنَ النَّعِيمِ".
عبداللہ بن خبیب کے چچا سے روایت ہے ہم ایک مجلس میں تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں اچانک تشریف لے آئے ، آپ کے سر مبارک پر پانی کا اثر تھا ، ہم میں سے ایک آدمی نے آپ سے عرض کیا : آپ کو ہم آج بہت خوش دل پا رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، بحمداللہ خوش ہوں “ ، پھر لوگوں نے مالداری کا ذکر چھیڑ دیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اہل تقویٰ کے لیے مالداری کوئی حرج کی بات نہیں ، اور تندرستی متقی کے لیے مالداری سے بہتر ہے ، اور خوش دلی بھی ایک نعمت ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2141]
💡 وضاحت:
۱؎: صحت اور خوش دلی کی نعمت تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے اگر مال لاکھوں کروڑوں ہو، لیکن صحت اور خوش دلی و اطمینان نفس نہ ہو تو سب بیکار ہے، یہ صحت اور طبیعت کی خوشی اللہ تعالی کی طرف سے ہے، جس بندے کو اللہ چاہتا ہے ان نعمتوں کو عطا کرتا ہے، یا اللہ ہم کو بھی ہمیشہ صحت و عافیت اور خوش دلی اور اطمینان قلب کی نعمت میں رکھ۔ آمین۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15606، ومصباح الزجاجة: 756)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/372، 381) (صحیح)
|
|
|
2: بَابُ : الاِقْتِصَادِ فِي طَلَبِ الْمَعِيشَةِ
باب: روزی کمانے میں میانہ روی اپنانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَجْمِلُوا فِي طَلَبِ الدُّنْيَا، فَإِنَّ كُلًّا مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ".
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دنیا کی طلب میں اعتدال کا طریقہ اپناؤ اس لیے کہ جس چیز کے لیے آدمی پیدا کیا گیا ہے وہ اسے مل کر رہے گی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2142]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کمانے کے چکر میں زیادہ نہ پڑو، آدمی کے مقدر (قسمت) میں جو چیز اللہ تعالی نے لکھ دی ہے، وہ اسے مل کر رہے گی، تو بے اعتدالی اور ظلم کی کوئی ضرورت نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11894، ومصباح الزجاجة: 757) (صحیح) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 898- 2607- 2607)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ بِهْرَامٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ زَوْجُ بِنْتِ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْظَمُ النَّاسِ هَمًّا الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَهُمُّ بِأَمْرِ دُنْيَاهُ وَأَمْرِ آخِرَتِهِ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ تَفَرَّدَ بِهِ إِسْمَاعِيل.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے زیادہ فکرمندی اس مومن کو ہوتی ہے جسے دنیا کی بھی فکر ہو اور آخرت کی بھی “ ۔ ابوعبداللہ ( ابن ماجہ ) کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ، اس لیے کہ اسماعیل اس کی روایت میں منفرد ہیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2143]
💡 وضاحت:
۱؎: بے دین آدمی کو آخرت سے کوئی غرض اور دلچسپی نہیں، اسے تو صرف دنیا کی فکر ہے، اور جو کچا مسلمان ہے اس کو دونوں فکریں لگی ہوتی ہیں، کیونکہ اللہ تعالی پر اس کو پورا بھروسہ اور اعتماد نہیں ہے، اور جو پکا مسلمان ہے اس کو فقط آخرت کی ہی فکر ہے، اور دنیا کی زیادہ فکر نہیں ہوتی، اللہ تعالیٰ رازق اور مسبب الاسباب ہے، جب تک زندگی ہے، وہ کہیں سے ضرور کھلائے اور پلائے گا۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ فيه علل منھا ضعف يزيد الرقاشي: زاهد ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 456
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1684، ومصباح الزجاجة: 758) (ضعیف) (سند میں یزید الرقاشی، حسن بن محمد اور اسماعیل بن بہرام تینوں ضعیف ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ، فَإِنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَسْتَوْفِيَ رِزْقَهَا، وَإِنْ أَبْطَأَ عَنْهَا، فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ خُذُوا مَا حَلَّ وَدَعُوا مَا حَرُمَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگو ! اللہ سے ڈرو ، اور دنیا طلبی میں اعتدال کا راستہ اختیار کرو ، اس لیے کہ کوئی اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک اپنی روزی پوری نہ کر لے گو اس میں تاخیر ہو ، لہٰذا اللہ سے ڈرو ، اور روزی کی طلب میں اعتدال کا راستہ اختیار کرو ، صرف وہی لو جو حلال ہو ، اور جو حرام ہو اسے چھوڑ دو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2144]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2880، ومصباح الزجاجة: 759) (صحیح) (سند میں ولید بن مسلم، ابن جریج اور ابوالزبیر تینوں مدلس راوی ہیں، لیکن حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2607)
|
|
|
3: بَابُ : التَّوَقِّي فِي التِّجَارَةِ
باب: تجارت میں احتیاط برتنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ، قَالَ: كُنَّا نُسَمَّى فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّمَاسِرَةَ فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ أَحْسَنُ مِنْهُ، فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ، إِنَّ الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ وَاللَّغْوُ، فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ".
قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں «سماسرہ» ( دلال ) کہے جاتے تھے ، ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمارے پاس سے گزر ہوا ، تو آپ نے ہمارا ایک ایسا نام رکھا جو اس سے اچھا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے تاجروں کی جماعت ! خرید و فروخت میں قسمیں اور لغو باتیں بھی ہوتی رہتی ہیں ، تو تم اس میں صدقہ ملا دیا کرو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2145]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 1 (3326، 3327)، سنن الترمذی/البیوع 4 (1208)، سنن النسائی/الأیمان 21 (3828)، البیوع 7 (4468)، (تحفة الأشراف: 11103)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/6، 280) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رِفَاعَةَ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ بُكْرَةً، فَنَادَاهُمْ: " يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ"، فَلَمَّا رَفَعُوا أَبْصَارَهُمْ وَمَدُّوا أَعْنَاقَهُمْ، قَالَ: " إِنَّ التُّجَّارَ يُبْعَثُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فُجَّارًا إِلَّا مَنِ اتَّقَى اللَّهَ وَبَرَّ وَصَدَقَ".
رفاعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ اچانک کچھ لوگ صبح کے وقت خرید و فروخت کرتے نظر آئے ، آپ نے ان کو پکارا : ” اے تاجروں کی جماعت ! “ جب ان لوگوں نے اپنی نگاہیں اونچی اور گردنیں لمبی کر لیں ۱؎ تو آپ نے فرمایا : ” تاجر قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے جائیں گے کہ وہ فاسق و فاجر ہوں گے ، سوائے ان کے جو اللہ سے ڈریں ، اور نیکوکار اور سچے ہوں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2146]
💡 وضاحت:
۱؎: نیک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں سے اچھا سلوک کرے،مفلس کو مہلت دے، بلکہ اگر ہو سکے تو معاف کر دے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/البیوع 4 (1210)، (تحفة الأشراف: 3607)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/البیوع 7 (2580) (صحیح) (سند میں اسماعیل بن عبید ضعیف راوی ہے، لیکن اصل حدیث: إن التجار يبعثون يوم القيامة فجارا صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1458)
|
|
|
4: بَابُ : إِذَا قُسِمَ لِلرَّجُلِ رِزْقٌ مِنْ وَجْهٍ فَلْيَلْزَمْهُ
باب: روزی کا کوئی ذریعہ مل جانے پر اسے پکڑے رہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا فَرْوَةُ أَبُو يُونُسَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَصَابَ مِنْ شَيْءٍ فَلْيَلْزَمْهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جسے روزی کا کوئی ذریعہ مل جائے ، تو چاہیئے کہ وہ اسے پکڑے رہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2147]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ هلال مستور (تقريب: 7330) ¤ وشك ابن حبان في سماعه من أنس والسند ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 456
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1642، ومصباح الزجاجة: 760) (ضعیف) (سند میں فروہ اور ہلال بن جبیر دونوں ضعیف ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: كُنْتُ أُجَهِّزُ إِلَى الشَّامِ وَإِلَى مِصْرَ فَجَهَّزْتُ إِلَى الْعِرَاقِ، فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَقُلْتُ: لَهَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كُنْتُ أُجَهِّزُ إِلَى الشَّامِ فَجَهَّزْتُ إِلَى الْعِرَاقِ، فَقَالَتْ: لَا تَفْعَلْ مَا لَكَ وَلِمَتْجَرِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا سَبَّبَ اللَّهُ لِأَحَدِكُمْ رِزْقًا مِنْ وَجْهٍ، فَلَا يَدَعْهُ حَتَّى يَتَغَيَّرَ لَهُ، أَوْ يَتَنَكَّرَ لَهُ".
نافع کہتے ہیں کہ میں اپنا سامان تجارت شام اور مصر بھیجا کرتا تھا ، پھر میں نے عراق کی طرف بھیج دیا ، پھر میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا ، اور ان سے کہا کہ میں اپنا سامان تجارت شام بھیجا کرتا تھا ، لیکن اس بار میں نے عراق بھیج دیا ہے ، تو انہوں نے کہا : ایسا نہ کرو ، تمہاری پہلی تجارت گاہ کو کیا ہوا کہ اس کو چھوڑ کر تم نے دوسری اختیار کر لی ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ جب تم میں سے کسی کے لیے روزی کا کوئی ذریعہ پیدا کر دے ، تو وہ اسے نہ چھوڑے یہاں تک کہ وہ بدل جائے ، یا بگڑ جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2148]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الزبير بن عبيد: مجهول (تقريب: 1999) و في السند علل أخري،انظر أضواء المصابيح (2785) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 456
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17674، ومصباح الزجاجة: 761)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/246) (ضعیف) (سند میں زبیر بن عبید مجہول راوی، اور ابوعاصم کے والد مختلف فیہ راوی ہیں)
|
|
|
5: بَابُ : الصِّنَاعَاتِ
باب: پیشوں اور صنعتوں کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ جَدِّهِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أُحَيْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا رَاعِيَ غَنَمٍ"، قَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " وَأَنَا كُنْتُ أَرْعَاهَا لِأَهْلِ مَكَّةَ بِالْقَرَارِيطِ"، قَالَ سُوَيْدٌ: يَعْنِي كُلَّ شَاةٍ بِقِيرَاطٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ نے جتنے بھی نبی بھیجے ہیں ، سب نے بکریاں چرائی ہیں “ ، اس پر آپ کے صحابہ نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ نے بھی ؟ فرمایا : ” میں بھی چند قیراط پر اہل مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا “ ۱؎ ۔ سوید کہتے ہیں کہ ہر بکری پر ایک قیراط ملتا تھا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2149]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک قیراط دینار کا بیسواں حصہ ہوتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ محنت اور مزدوری کرنے میں کوئی ذلت نہیں، بلکہ حرام کا مال بیٹھ کر کھانا اور اڑانا انتہاء درجہ کی بے شرمی، و بے حیائی اور ذلت و خواری ہے، سرتاج انبیاء اشرف المخلوقات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدوری کی تو اور کسی کی کیا حقیقت ہے جو مزدوری کرنے کو ننگ و عار سمجھتا ہے، مسلمانان ہند کی ایک بڑی تعداد محنت اور مزدوری سے کتراتے ہیں، ایسی دنیا میں کوئی قوم نہیں، جب ہی تو وہ فاقوں مرتے ہیں، مگر اپنی محنت اور تجارت سے روٹی پیدا کرنا عار جانتے ہیں، اور بعض تو ایسے بے حیا ہیں کہ بھیک مانگتے ہیں، لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں مگر محنت اور تجارت کو عار جانتے ہیں، خاک پڑے ان کی عقل پر نیز حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جانور چرانا ایک حلال پیشہ ہے، اور غیرمسلموں کے یہاں مزدوری بھی کرنا جائز ہے کیونکہ مکہ والے اس وقت کافر ہی تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الإجارة 2 (2262)، (تحفة الأشراف: 13083) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، وَالْحَجَّاجُ ، وَالْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَ زَكَرِيَّا نَجَّارًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زکریا علیہ السلام ( یحییٰ علیہ السلام کے والد ) بڑھئی تھے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2150]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ بڑھئی کا پیشہ حلال ہے، اور رسولوں نے یہ پیشہ اختیار کیا ہے، اسی طرح سے ہر صنعت اور پیشہ جس میں رزق حلال ہو اچھا کام ہے، اور اسے اپنانے اور اس میدان میں آگے بڑھنے میں ہماری طاقت و قوت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الفضائل 45 (2379)، (تحفة الأشراف: 14652)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/296، 405، 485) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَصْحَابَ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا ، اور ان سے کہا جائے گا جن کو تم نے بنایا ہے ، ان میں جان ڈالو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2151]
💡 وضاحت:
۱؎: جان ڈالو، اور یہ ان سے نہ ہو سکے گا، بس اسی بات پر ان کو عذاب ہوتا رہے گا، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مصوری کا پیشہ ناجائز ہے، البتہ اگر بے جان چیزوں کی تصویر بنانی ہو جیسے مکانوں کی، درختوں کی، شہروں کی تو کوئی حرج نہیں ہے، اب علماء کا اختلاف ہے کہ کون سی تصویر مراد ہے؟ مجسم یعنی بت جو پتھر یا لکڑی یا لوہے وغیرہ سے بناتے ہیں، یا ہر طرح کی تصویر؟ گرچہ نقشی یا عکسی ہو؟ جس کو ہمارے زمانہ میں فوٹو کہتے ہیں، حدیث عام ہے اور ہر ایک تصویر کو شامل ہے، لیکن بعضوں نے صرف مجسم تصویر کو حرام کہا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/التوحید 65 (7557)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 59 (5364)، (تحفة الأشراف: 17557)، وقد أخرجہ: 6/70، 80، 223، 246) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكْذَبُ النَّاسِ الصَّبَّاغُونَ وَالصَّوَّاغُونَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں میں سب سے زیادہ جھوٹے رنگ ریز اور سنار ہوتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2152]
قال الشيخ الألباني:
موضوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ فرقد السبخي: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 456
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14838، ومصباح الزجاجة: 762)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/292، 324، 345) (موضوع) (سند میں فرقد سبخی غیر قوی، اور عمر بن ہارون کذاب ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 144)
|
|
|
6: بَابُ : الْحُكْرَةِ وَالْجَلَبِ
باب: ذخیرہ اندوزی اور جلب کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ سَالِمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْجَالِبُ مَرْزُوقٌ وَالْمُحْتَكِرُ مَلْعُونٌ".
عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «جلب» کرنے والا روزی پاتا ہے اور ( ذخیرہ اندوزی ) کرنے والا ملعون ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2153]
💡 وضاحت:
۱؎: ذخیرہ اندوزی ( «حکر» اور «احتکار» ) یہ ہے کہ مال خرید کر اس انتظار میں رکھ چھوڑے کہ جب زیادہ مہنگا ہو گا تو بیچیں گے۔ «جلب» : یہ ہے کہ شہر میں بیچنے کے لئے دوسرے علاقہ سے مال لے کر آئے۔: ذخیرہ اندوزی کرنے والے پر لعنت آئی ہے، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ذخیرہ اندوزی حرام ہے، لیکن مراد وہی ذخیرہ اندوزی ہے کہ جس وقت شہر میں غلہ نہ ملتا ہو اور لوگوں کو غلہ کی احتیاج ہو، کوئی شخص بہت سا غلہ لے کر بند کر کے رکھ چھوڑے اور شہر والوں کے ہاتھ نہ بیچے اس انتظار میں کہ جب اور زیادہ گرانی ہو گی تو بیچیں گے، یہ اس وجہ سے حرام ہوا کہ اپنے ذرا سے فائدہ کے لئے لوگوں کو تکلیف دینا ہے، اور مردم آزاری کے برابر کوئی گناہ نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ علي بن سالم: ضعيف (تقريب: 4736) ¤ وكذا علي بن زيد بن جدعان ¤ والحديث ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 456
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشرا: 10455، ومصباح الزجاجة: 763)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/البیوع 12 (2586) (ضعیف) (سند میں زید بن علی بن جدعان ضعیف راوی ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَضْلَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ".
معمر بن عبداللہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ذخیرہ اندوزی صرف خطاکار کرتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2154]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساقاة 26 (1605)، سنن ابی داود/البیوع 49 (3447)، سنن الترمذی/البیوع 40 (1267)، (تحفة الأشراف: 11481)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/453، 454، 6/400،)، سنن الدارمی/البیوع 12 (2585) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى الْمَكِّيُّ ، عَنْ فَرُّوخَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنِ احْتَكَرَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ طَعَامَهُمْ ضَرَبَهُ اللَّهُ بِالْجُذَامِ وَالْإِفْلَاسِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جو مسلمانوں کے کھانے کی چیزوں کی ذخیرہ اندوزی کرے گا ، اللہ تعالیٰ اسے جذام ( کوڑھ ) یا افلاس ( فقر ) میں مبتلا کر دے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2155]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10622، ومصباح الزجاجة: 764)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/21) (ضعیف) سند میں ابویحییٰ المکی مجہول ہیں، صرف ابن حبان نے ان کی توثیق ہے، اور یہ معلوم ہے کہ وہ مجہول رواة کی توثیق کرتے ہیں ایسے ہی فروخ کی توثیق بھی صرف ابن حبان نے کی ہے، جو حجت نہیں ہے، ابن الجوزی نے العلل المتناہیة میں حدیث کی تضعیف ابویحییٰ کی جہالت کی وجہ سے کی ہے، نیزملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة: 764)
|
|
|
7: بَابُ : أَجْرِ الرَّاقِي
باب: جھاڑ پھونک کرنے والے کی اجرت کا بیان۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ، قَالَ: أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَالصَّوَابُ هُوَ أَبُو الْمُتَوَكِّلِ، إِنْ شَاءَ اللهُ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم تیس سواروں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ ( فوجی ٹولی ) میں بھیجا ، ہم ایک قبیلہ میں اترے ، اور ہم نے ان سے اپنی مہمان نوازی کا مطالبہ کیا ، لیکن انہوں نے انکار کر دیا پھر ایسا ہوا کہ ان کے سردار کو بچھو نے ڈنک مار دیا ، چنانچہ وہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے : کیا آپ لوگوں میں کوئی بچھو کے ڈسنے پر جھاڑ پھونک کرتا ہے ؟ میں نے کہا : ہاں ، میں کرتا ہوں لیکن میں اس وقت تک نہیں کر سکتا جب تک تم ہمیں کچھ بکریاں نہ دے دو ، انہوں نے کہا : ہم آپ کو تیس بکریاں دیں گے ، ہم نے اسے قبول کر لیا ، اور میں نے سات مرتبہ سورۃ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کیا تو وہ اچھا ہو گیا ، اور ہم نے وہ بکریاں لے لیں ، پھر ہمیں اس میں کچھ تردد محسوس ہوا ۱؎ تو ہم نے ( اپنے ساتھیوں سے ) کہا ( ان کے کھانے میں ) جلد بازی نہ کرو ، یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ جائیں ، ( اور آپ سے ان کے بارے میں پوچھ لیں ) پھر جب ہم ( مدینہ ) آئے تو میں نے جو کچھ کیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ، تو آپ نے فرمایا : ” کیا تمہیں معلوم نہیں کہ سورۃ فاتحہ جھاڑ پھونک ہے ؟ انہیں آپس میں بانٹ لو ، اور اپنے ساتھ میرا بھی ایک حصہ لگاؤ “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2156]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کہ یہ ہمارے لیے حلال ہیں یا نہیں۔
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ 2156ب: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
t
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ، قَالَ: أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَالصَّوَابُ هُوَ أَبُو الْمُتَوَكِّلِ، إِنْ شَاءَ اللهُ.
اس سند سے بھی ابوسعید رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث مرفوعاً مروی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2156M]
تخریج دارالدعوہ:
t
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ، قَالَ: أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَالصَّوَابُ هُوَ أَبُو الْمُتَوَكِّلِ، إِنْ شَاءَ اللهُ.
اس سند سے بھی ابوسعید سے اسی طرح کی حدیث مرفوعاً مروی ہے ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں : ( ابن ابی المتوکل کے بجائے ) صحیح ابوالمتوکل ہی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2156M]
تخریج دارالدعوہ:
t
|
|
|
8: بَابُ : الأَجْرِ عَلَى تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ
باب: قرآن کریم کی تعلیم پر اجرت لینے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ الْمَوْصِلِيُّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ الْقُرْآنَ وَالْكِتَابَةَ، فَأَهْدَى إِلَيَّ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَوْسًا، فَقُلْتُ: لَيْسَتْ بِمَالٍ وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا؟، فَقَالَ: " إِنْ سَرَّكَ، أَنْ تُطَوَّقَ بِهَا طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْهَا".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اہل صفہ میں سے کئی لوگوں کو قرآن پڑھنا اور لکھنا سکھایا ، تو ان میں سے ایک شخص نے مجھے ایک کمان ہدیے میں دی ، میں نے اپنے جی میں کہا : یہ تو مال نہیں ہے ، یہ اللہ کے راستے میں تیر اندازی کے لیے میرے کام آئے گا ، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم کو یہ اچھا لگے کہ اس کمان کے بدلے تم کو آگ کا ایک طوق پہنایا جائے تو اس کو قبول کر لو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2157]
💡 وضاحت:
۱؎: اہل صفہ وہ صحابہ جو مسجد نبوی کے سائبان میں رہا کرتے تھے۔ اس حدیث سے حنفیہ نے استدلال کرتے ہوئے تعلیم قرآن پر اجرت لینے کو ناجائز کہا ہے، تلاوت پر اجرت لینا جائز ہے، تلاوت پر اجرت لینے کا جواز ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے نکلتا ہے (جو اوپر گزری، ملاحظہ ہو حدیث ۲۱۵۶)، اور صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگوں نے ابوسعید سے کہا: آپ نے اللہ کی کتاب پر اجرت لی، اس پر انہوں نے فرمایا کہ سب سے زیادہ جس کے اجرت لینے کا حق ہے، وہ اللہ کی کتاب ہے، اور احمد، ابوداود اور نسائی میں ہے کہ خارجہ کے چچا نے جب سورہ فاتحہ سے دیوانے پر جھاڑ پھونک کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی اجرت لے لو، قسم میری عمر کی! لوگ تو جھاڑ پھونک سے جھوٹ پیدا کرتے ہیں تو نے سچ جھاڑ پھونک کر کے کھایا۔ اور تعلیم پر اجرت جائز نہ ہونے کی دلیل عبادہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے، دوسرے ابی رضی اللہ عنہ کی حدیث جو آگے آ رہی ہے، تیسرے مسند احمد میں عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً آیا ہے کہ قرآن پڑھو، اس میں غلو اور جفا مت کرو اور اس سے روٹی مت کھاؤ اور مال مت بڑھاؤ، بزار نے بھی اس کے کئی شاہد ذکر کئے ہیں۔ چوتھی مسند احمد و ترمذی میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: قرآن پڑھو اور اللہ تعالی سے قرآن کا بدلہ مانگو، اس لئے کہ تمہارے بعد ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو لوگوں سے قرآن کا عوض مانگیں گے، اس باب میں کئی حدیثیں ہیں۔ لیکن جن علماء نے تعلیم قرآن پر اجرت کے جواز کا فتوی دیا ہے وہ اس اعتبار سے کہ اس کے سیکھنے سکھانے میں معلم نے اپنا وقت لگایا، تو اس کے لئے اس نیک عمل پر اجرت کا لینا وقت کے مقابل جائز ہوا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 37 (3416)، (تحفة الأشراف: 5068)، وقدأخرجہ: مسند احمد (5/315) (صحیح) (سند میں اسود بن ثعلبہ مجہول راوی ہیں، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 256)
|
|
|
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْكَلَاعِيِّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: عَلَّمْتُ رَجُلًا الْقُرْآنَ، فَأَهْدَى إِلَيَّ قَوْسًا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنْ أَخَذْتَهَا أَخَذْتَ قَوْسًا مِنْ نَارٍ فَرَدَدْتُهَا".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو قرآن پڑھنا سکھایا تو اس نے مجھے ایک کمان ہدیے میں دی ، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم نے یہ لی تو آگ کی ایک کمان لی “ ، اس وجہ سے میں نے اس کو واپس کر دیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2158]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عطية بن قيس الكلاعي عن أبي بن كعب مرسل (جامع التحصيل ص 239) ¤ و الحديث السابق (الأصل: 2157) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 456
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 69، ومصباح الزجاجة: 758) (صحیح) (سند میں عطیہ اور أبی بن کعب رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور عبدالرحمن بن سلم مجہول راوی ہیں، سند میں اضطراب بھی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1493)
|
|
|
9: بَابُ : النَّهْيِ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ وَعَسْبِ الْفَحْلِ
باب: کتے کی قیمت، زانیہ کی کمائی، کاہن کی اجرت اور نر سے جفتی کرانے کی اجرت کے احکام کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ".
ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت ، زانیہ کی کمائی اور کاہن کی اجرت سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2159]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کتے کی خرید و فروخت جائز نہیں ہے، مگر نسائی کی روایت کے مطابق شکاری کتا اس سے مستثنی ہے یعنی اس کی قیمت جائز اور نجومی میں وہ رمال، جفار اور جوتشی وغیرہ بھی شامل ہیں جو مستقبل کی باتیں بتاتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 113 (2237)، الإجارة 20 (2282)، الطلاق 51 (5346)، الطب 46 (5761)، صحیح مسلم/المساقاة 9 (1567)، سنن ابی داود/البیوع 41 (3428)، 65 (3481)، سنن الترمذی/البیوع 46 (1276)، النکاح 37 (1133)، الطب 23 (2071)، سنن النسائی/الصید والذبائح 15 (4297)، (تحفة الأشراف: 10010)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 29 (68)، مسند احمد (1/118، 120، 140، 141)، سنن الدارمی/البیوع 34 (2610) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَعَسْبِ الْفَحْلِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت ، اور نر سے جفتی کرانے کے معاوضہ سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2160]
💡 وضاحت:
۱؎: نر گھوڑا، اونٹ یا گدھا یا بیل یا بکرا وغیرہ کی مادہ جانوروں سے جفتی کرانے کی اجرت لینا منع ہے، البتہ اگر بطور احسان و سلوک کے بلا شرط کے کچھ دے دے، تو اس کا لینا جائز ہے اور نر کا عاریتاً دینا مستحب ہے، اور علماء کی ایک جماعت نے اس کی اجرت کی بھی اجازت دی ہے تاکہ نسل ختم نہ ہو، لیکن اکثر صحابہ اور فقہاء ان احادیث کی رو سے اس کی حرمت کے قائل ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13407)، وقہ أخرجہ: سنن ابی داود/البیوع 65 (3481)، سنن النسائی/الصید والذبائح 15 (4297) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ السِّنَّوْرِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کی قیمت سے منع کیا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2161]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ بلی بلا قیمت اکثر جگہوں پر مل جاتی ہے، اور اس کی نسل بھی بہت ہوتی ہے، قیمت سے خریدنے کی ضرورت نہیں ہوتی، اکثر علماء کہتے ہیں کہ یہ نہی تنزیہی ہے (یعنی نہ خریدنا زیادہ اچھا ہے)، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور تابعین کی ایک جماعت سے یہ مروی ہے کہ بلی کی قیمت کسی حال میں لینا جائز نہیں، اور اہل حدیث کا بھی یہی مذہب ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: 2783)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 49 (1279)، سنن النسائی/الصید 16 (4300)، البیوع 90 (4672)، سنن ابی داود/البیوع 64 (3479)، مسند احمد (3/339، 349) (صحیح) (سند میں ابن لہیعہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، ایسا ہی ابوالزبیر کی روایت کا معاملہ ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة: 2971)
|
|
|
10: بَابُ : كَسْبِ الْحَجَّامِ
باب: حجام (پچھنا لگانے والے) کی کمائی کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَأَعْطَاهُ أَجْرَهُ". قَالَهُ: ابْنِ مَاجَةَ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَحْدَهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا ، اور حجام ( پچھنا لگانے والے ) کو اس کی اجرت دی ۔ ابن ماجہ کا قول ہے کہ ابن ابی عمر اس حدیث کی روایت میں منفرد ہیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2162]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/جزاء الصید 11 (1835)، الصوم 32 (1938)، الإجارة 18 (2278)، الطب 9 (5691)، صحیح مسلم/الحج 11 (1202)، (تحفة الأشراف: 5709)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج 36 (1835)، سنن الترمذی/الحج 22 (839)، سنن النسائی/الحج 92 (2849)، مسند احمد (1/215، 221، 222، 236، 248، 249، 260، 283، 286، 292، 306، 315، 333، 346، 351، 372، 374)، سنن الدارمی/البیوع 79 (2664) (صحیح)
|
|