سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2141
Sunan Ibn Majah 2141
کتاب #13: کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
1: بَابُ : الْحَثِّ عَلَى الْمَكَاسِبِ
باب: روزی کمانے کی ترغیب۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: كُنَّا فِي مَجْلِسٍ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى رَأْسِهِ أَثَرُ مَاءٍ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُنَا: نَرَاكَ الْيَوْمَ طَيِّبَ النَّفْسِ، فَقَالَ: " أَجَلْ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ" ثُمَّ أَفَاضَ الْقَوْمُ فِي ذِكْرِ الْغِنَى، فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِالْغِنَى لِمَنِ اتَّقَى وَالصِّحَّةُ لِمَنِ اتَّقَى خَيْرٌ مِنَ الْغِنَى وَطِيبُ النَّفْسِ مِنَ النَّعِيمِ".
عبداللہ بن خبیب کے چچا سے روایت ہے ہم ایک مجلس میں تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں اچانک تشریف لے آئے ، آپ کے سر مبارک پر پانی کا اثر تھا ، ہم میں سے ایک آدمی نے آپ سے عرض کیا : آپ کو ہم آج بہت خوش دل پا رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، بحمداللہ خوش ہوں “ ، پھر لوگوں نے مالداری کا ذکر چھیڑ دیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اہل تقویٰ کے لیے مالداری کوئی حرج کی بات نہیں ، اور تندرستی متقی کے لیے مالداری سے بہتر ہے ، اور خوش دلی بھی ایک نعمت ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2141]
💡 وضاحت:
۱؎: صحت اور خوش دلی کی نعمت تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے اگر مال لاکھوں کروڑوں ہو، لیکن صحت اور خوش دلی و اطمینان نفس نہ ہو تو سب بیکار ہے، یہ صحت اور طبیعت کی خوشی اللہ تعالی کی طرف سے ہے، جس بندے کو اللہ چاہتا ہے ان نعمتوں کو عطا کرتا ہے، یا اللہ ہم کو بھی ہمیشہ صحت و عافیت اور خوش دلی اور اطمینان قلب کی نعمت میں رکھ۔ آمین۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15606، ومصباح الزجاجة: 756)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/372، 381) (صحیح)