سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2242
Sunan Ibn Majah 2242
کتاب #13: کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
43: بَابُ : الْخَرَاجِ بِالضَّمَانِ
باب: غلام کی کمائی اس کے ضامن مالک سے جڑی ہوئی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ بْنِ رَحَضَةَ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى، أَنَّ خَرَاجَ الْعَبْدِ بِضَمَانِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ غلام کی کمائی اس کی ہے ، جو اس کا ضامن ہو ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2242]
💡 وضاحت:
۱؎: اس مسئلہ کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نے ایک غلام خریدا، وہ کئی دن تک اس کے پاس رہا، پھر عیب کی وجہ سے یا شرط خیار کی بناء پر اس کو واپس کر دیا،تو جتنے دن وہ غلام خریدار کے پاس رہا اتنے دن کی کمائی خریدار ہی کی ہوگی، اس لئے کہ خریدار ہی ان دنوں میں اس کا ضامن تھا، اگر وہ غلام خریدار کے پاس ہلاک ہو جاتا تو اسی کا نقصان ہوتا، بیچنے والے کا نقصان نہ ہوتا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 73 (3508، 3509)، سنن الترمذی/البیوع 53 (1285)، سنن النسائی/البیوع 13 (4495)، (تحفة الأشراف: 16755)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 49، 208، 237) (حسن)