سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2282
Sunan Ibn Majah 2282
کتاب #13: کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
59: بَابُ : السَّلَفِ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ
باب: متعین ناپ تول میں ایک مقررہ مدت کے وعدے پر بیع سلف کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، قَالَ: امْتَرَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ وَأَبُو بُرْدَةَ فِي السَّلَمِ فَأَرْسَلُونِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، فَسَأَلْتُهُ؟، فَقَالَ: " كُنَّا نُسْلِمُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَهْدِ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ فِي الْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَالزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ، عِنْدَ قَوْمٍ مَا عِنْدَهُمْ" فَسَأَلْتُ ابْنَ أَبْزَى ، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ.
عبداللہ بن ابی مجالد کہتے ہیں کہ عبداللہ بن شداد اور ابوبرزہ رضی اللہ عنہما کے درمیان بیع سلم کے سلسلہ میں جھگڑا ہو گیا ، انہوں نے مجھے عبداللہ ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ، میں نے جا کر ان سے اس کے سلسلے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اور ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کے عہد میں گیہوں ، جو ، کشمش اور کھجور میں ایسے لوگوں سے بیع سلم کرتے تھے جن کے پاس اس وقت مال نہ ہوتا ، پھر میں نے ابن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا ، تو انہوں نے بھی ایسے ہی کہا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2282]
قال الشيخ الألباني:
صحيح خ بلفظ ما كنا نسألهم مكان ما عندهم
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/السلم 2 (2242)، 3 (2244)، 7 (2254، 2255) بلفظ: ''ما کنا نسألھم'' مکان ''ماعندھم ''، سنن ابی داود/البیوع 57 (3464، 3465)، سنن النسائی/البیوع 59 (4618)، 60 (4619)، (تحفة الأشراف: 5171)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/354، 380) (صحیح)