سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2205
Sunan Ibn Majah 2205
کتاب #13: کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
29: بَابُ : السَّوْمِ
باب: مول بھاؤ کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَقَالَ لِي: " أَتَبِيعُ نَاضِحَكَ هَذَا بِدِينَارٍ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُوَ نَاضِحُكُمْ إِذَا أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، قَالَ: " فَتَبِيعُهُ بِدِينَارَيْنِ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ"، قَالَ: فَمَا زَالَ يَزِيدُنِي دِينَارًا دِينَارًا، وَيَقُولُ: مَكَانَ كُلِّ دِينَارٍ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ حَتَّى بَلَغَ عِشْرِينَ دِينَارًا، فَلَمَّا أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ أَخَذْتُ بِرَأْسِ النَّاضِحِ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " يَا بِلَالُ أَعْطِهِ، مِنَ الْغَنِيمَةِ عِشْرِينَ دِينَارًا"، وَقَالَ: " انْطَلِقْ بِنَاضِحِكَ فَاذْهَبْ بِهِ إِلَى أَهْلِكَ"..
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھا آپ نے مجھ سے فرمایا : ” کیا تم اپنے اس پانی ڈھونے والے اونٹ کو ایک دینار میں بیچتے ہو ؟ اور اللہ تمہیں بخشے “ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جب میں مدینہ پہنچ جاؤں ، تو آپ ہی کا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا دو دینار میں بیچتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ تمہیں بخشے “ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر آپ اسی طرح ایک ایک دینار بڑھاتے گئے اور ہر دینار پر فرماتے رہے : اللہ تعالیٰ تمہیں بخشے ! یہاں تک کہ بیس دینار تک پہنچ گئے ، پھر جب میں مدینہ آیا تو اونٹ پکڑے ہوئے اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلال ! انہیں مال غنیمت میں سے بیس دینار دے دو “ اور مجھ سے فرمایا : ” اپنا اونٹ بھی لے جاؤ ، اور اسے اپنے گھر والوں میں پہنچا دو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2205]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث سے یہ معلوم ہو کہ بھاؤ تاؤ کرنا درست اور جائز ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر بیچنے والا ایک جانور کو بیچے اور کسی مقام تک اس پر سواری کرنے کی شرط کر لے تو جائز ہے، بعض روایتوں میں ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ جب لوٹ کر اپنے گھر آئے اور گھر والوں سے اونٹ کے بیچنے کا ذکر کیا تو انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ کو ملامت کی کہ گھر کے کاموں کے لئے ایک ہی اونٹ تھا اس کو بھی بیچ ڈالا، لیکن جابر رضی اللہ عنہ نے ان کی بات کا خیال نہ کیا، اور اپنے وعدے کے مطابق اونٹ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آئے، آپ نے بیس دینار دیئے اور اونٹ بھی، اور فرمایا کہ اونٹ اپنے گھر لے جاؤ، شاید وحی سے آپ کو یہ حال معلوم ہو گیا ہو کہ گھر والے اس خرید و فروخت کے حق میں نہیں ہیں اور شاید محض حسن اخلاق ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الشروط 4 (2718) تعلیقا، ً صحیح مسلم/الرضاع 16 (715)، سنن النسائی/البیوع 75 (4645)، سنن الترمذی/البیوع 30 (1253)، (تحفة الأشراف: 3101)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/373) (صحیح)