سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2206
Sunan Ibn Majah 2206
کتاب #13: کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
29: بَابُ : السَّوْمِ
باب: مول بھاؤ کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَنْبَأَنَا الرَّبِيعُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّوْمِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَعَنْ ذَبْحِ ذَوَاتِ الدَّرِّ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج نکلنے سے پہلے مول بھاؤ کرنے سے ، اور دودھ والے جانور کو ذبح کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2206]
💡 وضاحت:
۱؎: اس لئے کہ دودھ سے زیادہ فائدہ ہے، ہمیشہ غذا ملے گی اور گوشت اس کا دو تین روز ہی کام آئے گا، البتہ اگر دودھ والا جانور بوڑھا ہو گیا اور اس کا دودھ بند ہو گیا ہو تو ذبح کرنے میں مضائقہ نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف لكن جملة الدر عند م نحوه
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ نوفل بن عبدالملك: مستور (تقريب: 7215) ¤ والحديث ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 457
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10226، ومصباح الزجاجة: 777) (ضعیف) (سند میں ربیع بن حبیب منکر الحدیث اور نوفل مستور راوی ہیں، لیکن دوسرا جملہ کے ہم معنی صحیح مسلم میں موجود ہے)