سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2300
Sunan Ibn Majah 2300
کتاب #13: کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
67: بَابُ : مَنْ مَرَّ عَلَى مَاشِيَةِ قَوْمٍ أَوْ حَائِطٍ هَلْ يُصِيبُ مِنْهُ
باب: کسی کے ریوڑ یا باغ سے گزر ہو تو کیا آدمی اس سے کچھ لے سکتا ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَتَيْتَ عَلَى رَاعٍ فَنَادِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ، فَإِنْ أَجَابَكَ وَإِلَّا فَاشْرَبْ فِي غَيْرِ أَنْ تُفْسِدَ، وَإِذَا أَتَيْتَ عَلَى حَائِطِ بُسْتَانٍ فَنَادِ صَاحِبَ الْبُسْتَانِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنْ أَجَابَكَ، وَإِلَّا فَكُلْ فِي أَنْ لَا تُفْسِدَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم کسی چرواہے کے پاس آؤ تو تین بار اسے آواز دو ، اگر وہ جواب دے تو بہتر ، ورنہ اپنی ضرورت کے مطابق بغیر خراب کئے دودھ دوہ کر پی لو ، اور جب تم کسی باغ میں آؤ تو باغ والے کو تین بار آواز دو ، اگر وہ جواب دے تو بہتر ، ورنہ اپنی ضرورت کے مطابق پھل توڑ کر کھا لو ، البتہ خراب مت کرو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2300]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف،فيه الجريري واسمه سعيد بن إياس وقد اختلط بآخره ويزيد بن ھارون روي عنه بعد الإختلاط“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 461
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4342، ومصباح الزجاجة: 806)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/7، 21، 85) (صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء: 2521)