سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2301
Sunan Ibn Majah 2301
کتاب #13: کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
67: بَابُ : مَنْ مَرَّ عَلَى مَاشِيَةِ قَوْمٍ أَوْ حَائِطٍ هَلْ يُصِيبُ مِنْهُ
باب: کسی کے ریوڑ یا باغ سے گزر ہو تو کیا آدمی اس سے کچھ لے سکتا ہے؟
حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، وَأَيُّوبُ بْنُ حَسَّانَ الْوَاسِطِيُّ ، وعلي بن سلمة قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ بِحَائِطٍ، فَلْيَأْكُلْ وَلَا يَتَّخِذْ خُبْنَةً".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی کسی باغ سے گزرے تو ( پھل ) کھائے ، اور کپڑے میں نہ باندھے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2301]
💡 وضاحت:
۱؎: جن احادیث میں مالک کی اجازت کے بغیر دودھ یا پھل لینے کی اجازت ہے، اکثر علماء کے نزدیک یہ منسوخ ہیں، اور ان کی ناسخ وہ احادیث ہیں جن میں مسلمان کی اجازت کے بغیر اس کا مال لینا حرام ہے، اور بعضوں نے کہا کہ یہ حدیثیں اس حالت پر محمول ہیں کہ جب آدمی بھوک کے مارے بے تاب ہو یعنی مرنے کے قریب ہو، مخمصہ کی حالت ہو تو ایسی حالت میں حرام حلال ہو جاتا ہے، پھر پھل یا دودھ بھی بے اجازت کھا پی لینا جائز ہو گا،لیکن ضروری ہے کہ صرف اتنا لے جس سے جان بچ جائے، اور ضرورت سے زیادہ اس کا مال خراب نہ کرے نہ اپنے ساتھ باندھ کر لے جائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1287) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 461
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/البیوع 54 (1287)، (تحفة الأشراف: 8222) (صحیح)