سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2293
Sunan Ibn Majah 2293
کتاب #13: کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
65: بَابُ : مَا لِلْمَرْأَةِ مِنْ مَالِ زَوْجِهَا
باب: شوہر کے مال میں عورت کے حق کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ لَا يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَوَلَدِي إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ وَهُوَ لَا يَعْلَمُ، فَقَالَ: " خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہند رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! ابوسفیان بخیل آدمی ہیں ، مجھے اتنا نہیں دیتے جو مجھے اور میری اولاد کے لیے کافی ہو سوائے اس کے جو میں ان کی لاعلمی میں ان کے مال میں سے لے لوں ( اس کے بارے میں فرمائیں ؟ ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مناسب انداز سے اتنا لے لو جو تمہیں اور تمہاری اولاد کے لیے کافی ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2293]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأقضیة 4 (1714)، سنن ابی داود/البیوع 81 (3532)، سنن النسائی/آداب القضاة 30 (5422)، (تحفة الأشراف: 17261)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 95 (2211)، المظالم 18 (2460)، النفقات 5 (5359)، 9 (5364)، 14 (5370)، الأیمان 3 (6641)، الأحکام 14 (7161)، 28 (7180)، مسند احمد (6/39، 50، 206)، سنن الدارمی/النکاح 54 (5364) (صحیح)