سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2271
Sunan Ibn Majah 2271
کتاب #13: کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
56: بَابُ : الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً
باب: حیوان کو حیوان کے بدلے ادھار بیچنے کی ممانعت۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، وَأَبُو خَالِدٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا بَأْسَ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ وَاحِدًا بِاثْنَيْنِ يَدًا بِيَدٍ، وَكَرِهَهُ نَسِيئَةً".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک حیوان کو دو حیوان کے بدلے نقد بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ادھار بیچنے کو ناپسند کیا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2271]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1238) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/البیوع 21 (1238)، (تحفة الأشراف: 2676)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/310، 380، 382) (صحیح) (ترمذی نے حدیث کی تحسین کی ہے، جب کہ حجاج بن أرطاہ ضعیف ہیں، اور ابوزبیر مدلس اور روایت عنعنہ سے کی ہے، تو یہ تحسین شواہد کی وجہ سے ہے، بلکہ صحیح ہے، تفصیل کے لئے دیکھئے الإرواء: 2416)۔