سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2158
Sunan Ibn Majah 2158
کتاب #13: کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
8: بَابُ : الأَجْرِ عَلَى تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ
باب: قرآن کریم کی تعلیم پر اجرت لینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْكَلَاعِيِّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: عَلَّمْتُ رَجُلًا الْقُرْآنَ، فَأَهْدَى إِلَيَّ قَوْسًا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنْ أَخَذْتَهَا أَخَذْتَ قَوْسًا مِنْ نَارٍ فَرَدَدْتُهَا".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو قرآن پڑھنا سکھایا تو اس نے مجھے ایک کمان ہدیے میں دی ، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم نے یہ لی تو آگ کی ایک کمان لی “ ، اس وجہ سے میں نے اس کو واپس کر دیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2158]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ عطية بن قيس الكلاعي عن أبي بن كعب مرسل (جامع التحصيل ص 239) ¤ و الحديث السابق (الأصل: 2157) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 456
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 69، ومصباح الزجاجة: 758) (صحیح) (سند میں عطیہ اور أبی بن کعب رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور عبدالرحمن بن سلم مجہول راوی ہیں، سند میں اضطراب بھی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1493)