سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2144
Sunan Ibn Majah 2144
کتاب #13: کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
2: بَابُ : الاِقْتِصَادِ فِي طَلَبِ الْمَعِيشَةِ
باب: روزی کمانے میں میانہ روی اپنانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ، فَإِنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَسْتَوْفِيَ رِزْقَهَا، وَإِنْ أَبْطَأَ عَنْهَا، فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ خُذُوا مَا حَلَّ وَدَعُوا مَا حَرُمَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگو ! اللہ سے ڈرو ، اور دنیا طلبی میں اعتدال کا راستہ اختیار کرو ، اس لیے کہ کوئی اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک اپنی روزی پوری نہ کر لے گو اس میں تاخیر ہو ، لہٰذا اللہ سے ڈرو ، اور روزی کی طلب میں اعتدال کا راستہ اختیار کرو ، صرف وہی لو جو حلال ہو ، اور جو حرام ہو اسے چھوڑ دو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2144]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2880، ومصباح الزجاجة: 759) (صحیح) (سند میں ولید بن مسلم، ابن جریج اور ابوالزبیر تینوں مدلس راوی ہیں، لیکن حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2607)