سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2145
Sunan Ibn Majah 2145
کتاب #13: کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
3: بَابُ : التَّوَقِّي فِي التِّجَارَةِ
باب: تجارت میں احتیاط برتنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ، قَالَ: كُنَّا نُسَمَّى فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّمَاسِرَةَ فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ أَحْسَنُ مِنْهُ، فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ، إِنَّ الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ وَاللَّغْوُ، فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ".
قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں «سماسرہ» ( دلال ) کہے جاتے تھے ، ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمارے پاس سے گزر ہوا ، تو آپ نے ہمارا ایک ایسا نام رکھا جو اس سے اچھا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے تاجروں کی جماعت ! خرید و فروخت میں قسمیں اور لغو باتیں بھی ہوتی رہتی ہیں ، تو تم اس میں صدقہ ملا دیا کرو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2145]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 1 (3326، 3327)، سنن الترمذی/البیوع 4 (1208)، سنن النسائی/الأیمان 21 (3828)، البیوع 7 (4468)، (تحفة الأشراف: 11103)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/6، 280) (صحیح)