سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2260
Sunan Ibn Majah 2260
کتاب #13: کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
50: بَابُ : صَرْفِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ
باب: سونے کو چاندی کے بدلے بیچنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ: أَقْبَلْتُ، أَقُولُ: مَنْ يَصْطَرِفُ الدَّرَاهِمَ، فَقَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَرِنَا ذَهَبَكَ، ثُمَّ ائْتِنَا إِذَا جَاءَ خَازِنُنَا نُعْطِكَ وَرِقَكَ، فَقَالَ عُمَرُ: كَلَّا وَاللَّهِ لَتُعْطِيَنَّهُ وَرِقَهُ أَوْ لَتَرُدَّنَّ إِلَيْهِ ذَهَبَهُ، فَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْوَرِقُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ".
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ میں یہ کہتے ہوئے آیا کہ کون درہم کی بیع صرف کرتا ہے ؟ یہ سن کر طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بولے ، اور وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے : لاؤ مجھے اپنا سونا دکھاؤ ، اور دے جاؤ ، پھر ذرا ٹھہر کے آنا ، جب ہمارا خزانچی آ جائے گا تو ہم تمہیں درہم دے دیں گے ، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہرگز نہیں ، اللہ کی قسم ! یا تو اس کی چاندی دے دو ، یا اس کا سونا اسے لوٹا دو ، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” چاندی کو سونے سے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2260]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: (2253) (صحیح)