سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2230
Sunan Ibn Majah 2230
کتاب #13: کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
38: بَابُ : بَيْعِ الْمُجَازَفَةِ
باب: بغیر ناپ تول کے اندازے سے بیچنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ التَّمْرَ فِي السُّوقِ، فَأَقُولُ: كِلْتُ فِي وَسْقِي هَذَا كَذَا فَأَدْفَعُ أَوْسَاقَ التَّمْرِ بِكَيْلِهِ وَآخُذُ شِفِّي فَدَخَلَنِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: " إِذَا سَمَّيْتَ الْكَيْلَ فَكِلْهُ".
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بازار میں کھجور بیچتا تھا ، تو میں ( خریدار سے ) کہتا : میں نے اپنے اس ٹوکرے میں اتنا ناپ رکھا ہے ، چنانچہ اسی حساب سے میں کھجور کے ٹوکرے دے دیتا ، اور جو زائد ہوتا نکال لیا کرتا تھا ، پھر مجھے اس میں کچھ شبہ معلوم ہوا ، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم کہو کہ اس میں اتنے صاع ہیں تو اس کو خریدنے والے کے سامنے ناپ دیا کرو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2230]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9807، ومصباح الزجاجة: 783)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/62، 75) صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء: 1331)