سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2255
Sunan Ibn Majah 2255
کتاب #13: کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
48: بَابُ : الصَّرْفِ وَمَا لاَ يَجُوزُ مُتَفَاضِلاً يَدًا بِيَدٍ
باب: بیع صرف (سونے چاندی کو سونے چاندی کے بدلے نقد بیچنے) کا بیان اور نقداً کمی و بیشی کر کے نہ بیچی جانے والی چیزوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ، وَالذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَالشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ، وَالْحِنْطَةَ بِالْحِنْطَةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چاندی کو چاندی سے ، اور سونے کو سونے سے ، اور جو کو جو سے اور گیہوں کو گیہوں سے برابر برابر بیچیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2255]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ان میں تفاضل (کمی بیشی) درست نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساقاة 15 (1588)، سنن النسائی/البیوع 44 (4573)، (تحفة الأشراف: 13625)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 12 (20)، مسند احمد (2/232) (صحیح)