📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: تجارت کے احکام و مسائل (كتاب التجارات) 🏷️ باب: باب: خریدنے والے اور بیچنے والے کے درمیان اختلاف ہو جائے تو وہ کیا کریں؟
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2186 Sunan Ibn Majah 2186
کتاب #13: کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
19: بَابُ : الْبَيِّعَانِ يَخْتَلِفَانِ
باب: خریدنے والے اور بیچنے والے کے درمیان اختلاف ہو جائے تو وہ کیا کریں؟
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنَ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ بَاعَ مِنَ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ رَقِيقًا مِنْ رَقِيقِ الْإِمَارَةِ، فَاخْتَلَفَا فِي الثَّمَنِ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: بِعْتُكَ بِعِشْرِينَ أَلْفًا، وَقَالَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ: إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْكَ بِعَشْرَةِ آلَافٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " هَاتِهِ"، قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ وَالْبَيْعُ قَائِمٌ بِعَيْنِهِ، فَالْقَوْلُ: مَا قَالَ الْبَائِعُ أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ، قَالَ: فَإِنِّي أَرَى، أَنْ أَرُدَّ الْبَيْعَ فَرَدَّهُ".
عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے ہاتھ حکومت کے غلاموں میں سے ایک غلام بیچا ، پھر دونوں میں قیمت کے بارے میں اختلاف ہو گیا ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ میں نے آپ سے اسے بیس ہزار میں بیچا ہے ، اور اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اسے دس ہزار میں خریدا ہے ، اس پر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر چاہیں تو میں ایک حدیث بیان کروں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ، اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا : بیان کریں ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جب بیچنے والے اور خریدنے والے اختلاف کریں اور ان میں کسی کے پاس گواہ نہ ہوں ، اور بیچی ہوئی چیز بعینہٖ موجود ہو تو بیچنے والے ہی کی بات معتبر ہو گی ، یا دونوں بیع فسخ کر دیں “ ، انہوں نے کہا : میں مناسب یہی سمجھتا ہوں کہ بیع فسخ کر دوں ، چنانچہ انہوں نے بیع فسخ کر دی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2186]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع 74 (3512)، (تحفة الأشراف: 9358)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 43 (1270)، سنن النسائی/البیوع 80 (4652)، مسند احمد (1/466) (صحیح) (نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1322 و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 789)
سنن ابن ماجه • حدیث #2186
2184 2185 2186 2187 2188
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ