سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2151
Sunan Ibn Majah 2151
کتاب #13: کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
5: بَابُ : الصِّنَاعَاتِ
باب: پیشوں اور صنعتوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَصْحَابَ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا ، اور ان سے کہا جائے گا جن کو تم نے بنایا ہے ، ان میں جان ڈالو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2151]
💡 وضاحت:
۱؎: جان ڈالو، اور یہ ان سے نہ ہو سکے گا، بس اسی بات پر ان کو عذاب ہوتا رہے گا، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مصوری کا پیشہ ناجائز ہے، البتہ اگر بے جان چیزوں کی تصویر بنانی ہو جیسے مکانوں کی، درختوں کی، شہروں کی تو کوئی حرج نہیں ہے، اب علماء کا اختلاف ہے کہ کون سی تصویر مراد ہے؟ مجسم یعنی بت جو پتھر یا لکڑی یا لوہے وغیرہ سے بناتے ہیں، یا ہر طرح کی تصویر؟ گرچہ نقشی یا عکسی ہو؟ جس کو ہمارے زمانہ میں فوٹو کہتے ہیں، حدیث عام ہے اور ہر ایک تصویر کو شامل ہے، لیکن بعضوں نے صرف مجسم تصویر کو حرام کہا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/التوحید 65 (7557)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 59 (5364)، (تحفة الأشراف: 17557)، وقد أخرجہ: 6/70، 80، 223، 246) (صحیح)