سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2211
Sunan Ibn Majah 2211
کتاب #13: کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
31: بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَنْ بَاعَ نَخْلاً مُؤَبَّرًا أَوْ عَبْدًا لَهُ مَالٌ
باب: قلم کئے ہوئے کھجور کے درخت کو بیچنے یا مالدار غلام کو بیچنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ، فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي بَاعَهَا إِلَّا، أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَمَنِ ابْتَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَهُ إِلَّا، أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص تابیر ( قلم ) کئے ہوئے کھجور کا درخت بیچے تو اس میں لگنے والا پھل بیچنے والے کا ہو گا ، سوائے اس کے کہ خریدنے والا خود لینے کی شرط طے کر لے ، اور جو شخص کوئی غلام بیچے اور اس غلام کے پاس مال ہو تو وہ مال اس کا ہو گا ، جس نے اس کو بیچا ہے سوائے اس کے کہ خریدنے والا شرط طے کر لے کہ اسے میں لوں گا ، ، ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2211]
💡 وضاحت:
۱؎: دوسرے مسئلہ میں کسی کا اختلاف نہیں ہے، اختلاف ان کپڑوں میں ہے جو بکتے وقت غلام لونڈی کے بدن پر ہوں، بعضوں نے کہا: وہ بھی بیچنے والا لے لے گا، بعض نے کہا: صرف عورت کا ستر بیع میں داخل ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
حدیث محمد بن رمح تقدم بمثل الحدیث المتقدم (2210)، وحدیث ھشام بن عمار أخرجہ: صحیح مسلم/البیوع 15 (1543)، سنن ابی داود/البیوع 44 (3433)، سنن النسائی/البیوع 74 (4640)، (تحفة الأشراف: 6819) (صحیح)