📖 سنن ابن ماجه (Sunan Ibn Majah) • تمام کتب ↗

كتاب الأحكام

کتاب: قضا کے احکام و مسائل

کتاب #17 • کل احادیث: 68
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: بَابُ : ذِكْرِ الْقُضَاةِ
باب: قاضیوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ الْمَقْبُريِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص لوگوں کا قاضی ( فیصلہ کرنے والا ) بنایا گیا تو وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2308]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی بن مارے اس کی موت ہوئی، مطلب یہ ہے کہ قضا کا عہدہ بڑے خطرے اور مواخذے کا کام ہے، اور اس میں عاقبت کے خراب ہونے کا ڈر ہے مگر جس کو اللہ تعالیٰ بچائے، اور اسی واسطے اکثر اسلاف نے تکلیفیں برداشت کیں اور ذلت کو گوارا کیا، لیکن قضا کا عہدہ نہ قبول کیا، چنانچہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو خلیفہ منصور نے مارا پیٹا اور قید کیا، لیکن انہوں نے قاضی بننا قبول نہ کیا، تاکہ اپنے آپ کو حدیث میں وارد وعید سے بچا سکیں، اورجن علماء نے یہ ذمہ داریاں قبول کیں انہوں نے ایک دینی فریضہ پورا کیا، ان کو اللہ کے فضل سے اپنے اوپر اعتماد تھا کہ وہ اس عہدے کے ذریعے سے ملک اور عوام کی خدمت کریں گے، اور اللہ رب العزت کے یہاں اجر کے مستحق ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: 12955)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأقضیة 1 (3571)، سنن الترمذی/الأحکام 1 (1325)، مسند احمد (2/365) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَأَلَ الْقَضَاءَ وُكِلَ إِلَى نَفْسِهِ وَمَنْ جُبِرَ عَلَيْهِ نَزَلَ إِلَيْهِ آلِكْ فَسَدَّدَهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے عہدہ قضاء کا مطالبہ کیا ، وہ اپنے نفس کے حوالہ کر دیا جاتا ہے ، اور جو اس کے لیے مجبور کیا جائے تو اس کے لیے ایک فرشتہ اترتا ہے جو اسے درست بات کی رہنمائی کرتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2309]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (3578) ترمذي (1323،1324) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 462
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأقضیة 1 (3578)، سنن الترمذی/الأحکام 1 (1323)، (تحفة الأشراف: 256)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/118، 220) (ضعیف) (سند میں عبدالأعلی ضعیف راوی ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَبْعَثُنِي وَأَنَا شَابٌّ أَقْضِي بَيْنَهُمْ وَلَا أَدْرِي مَا الْقَضَاءُ، قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ اهْدِ قَلْبَهُ وَثَبِّتْ لِسَانَهُ"، قَالَ: فَمَا شَكَكْتُ بَعْدُ فِي قَضَاءٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن بھیجا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ مجھے ( قاضی بنا کر ) یمن بھیج رہے ہیں ، اور میں ( جوان ) ہوں ، لوگوں کے درمیان مجھے فیصلے کرنے ہوں گے ، اور میں یہ بھی نہیں جانتا کہ فیصلہ کیا ہوتا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا پھر فرمایا : ” اے اللہ ! اس کے دل کو ہدایت فرما ، اور اس کی زبان کو ثابت رکھ “ ، پھر اس کے بعد مجھے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں کبھی کوئی تردد اور شک نہیں ہوا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2310]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت سے علی رضی اللہ عنہ کے سینے پر جب ہلکی سی ضرب لگائی اور دعا فرمائی تو اس معجزے کا ظہور ہوا اور دعا کی قبولیت کی مثال سامنے آئی، یہ محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھی کے سینے پر ہاتھ رکھا اور دعا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے سینے کو علم قضا کے لیے کھول دیا، ایسا ہی معجزہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے سینے کو علم حدیث کے لیے کھول دیا، اور خود ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بھول جانے کی شکایت کی تو آپ نے ان کو ایک چادر دی جسے انہوں نے اپنے جسم سے لپیٹ لیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے حافظے کے تیز ہونے کی دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ ظاہر کیا اور اپنے محبوب نبی کی ایسی دعا قبول کی کہ ابوہریرہ صحابہ کرام میں احادیث شریفہ کے سب سے بڑے حافظ قرار پائے، جب کہ آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مصاحبت کا شرف بہت مختصر ملا کہ آپ غزوہ خیبر کے وقت محرم سن ۷ ہجری کو مدینہ آئے، اس طرح سے تقریباً سوا چار سال کی مدت آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزاری،اور پھر اللہ کا فضل ان پر اور اہل اسلام پر یہ ہوا کہ وہ یکسوئی کے ساتھ پوری زندگی حدیث کی خدمت کرتے رہے، یہاں تک کہ ۵۷ یا ۵۸ ہجری میں آپ کی وفات ہوئی رضی اللہ عنہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو البختري سعيد بن فيروز لم يسمع من علي رضي اللّٰه عنه ولم يدركه،قاله أبو حاتم الرازي (المراسيل ص 74) فالسند منقطع وللحديث شاھد ضعيف عند أبي داود (3582) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 462
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10113)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأقضیة 6 (3582)، سنن الترمذی/الأحکام 5 (1331)، مسند احمد (1/83، 149) (صحیح) (سند میں ابو البختری سعید بن فیروز کا سماع علی رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر حسن یا صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 2600، ابوداود: 3582)
2: بَابُ : التَّغْلِيظِ فِي الْحَيْفِ وَالرِّشْوَةِ
باب: ظلم اور رشوت پر وارد وعید کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ حَاكِمٍ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَلَكٌ آخِذٌ بِقَفَاهُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَإِنْ قَالَ: أَلْقِهِ أَلْقَاهُ فِي مَهْوَاةٍ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو حاکم بھی لوگوں کے درمیان فیصلے کرتا ہے ، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ ایک فرشتہ اس کی گدی پکڑے ہوئے ہو گا ، پھر وہ فرشتہ اپنا سر آسمان کی طرف اٹھائے گا ، اگر حکم ہو گا کہ اس کو پھینک دو ، تو وہ اسے ایک ایسی کھائی میں پھینک دے گا جس میں وہ چالیس برس تک گرتا چلا جائے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2311]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ مجالد: ضعيف ¤ والسند ضعفه البو صيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 462
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9566، ومصباح الزجاجة: 813)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/430) (ضعیف) (سند میں مجالد بن سعید ضعیف راوی ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ ، عَنْ حُسَيْنٍ يَعْنِي ابْنَ عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَجُرْ فَإِذَا جَارَ وَكَّلَهُ إِلَى نَفْسِهِ".
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی مدد قاضی ( فیصلہ کرنے والے ) کے ساتھ اس وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ ظلم نہ کرے ، جب وہ ظلم کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے نفس کے حوالے کر دیتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2312]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأحکام 4 (1330)، (تحفة الأشراف: 5167) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر اللہ کی لعنت ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2313]
💡 وضاحت:
۱؎: رشوت لینے والے پر تو ظاہر ہے کہ وہ رشوت لے کر ضرور اس فریق کی رعایت کرے گا جس سے رشوت کھائے گا، اور رشوت دینے والے پر اس واسطے کہ وہ رشوت دے کر اس کو ظلم اور ناحق پر مائل کرے گا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ اگر اس کا مقدمہ حق ہو اور کوئی حاکم بغیر رشوت لئے حق فیصلہ نہ کرتا ہو تو ظلم کو دفع کرنے کے لئے اگر رشوت دے تو گناہ گار نہ ہو گا، پس ضروری ہے کہ آدمی رشوت دینے اور لینے والے دونوں برے کاموں سے پرہیز کرے، اسی طرح رشوت دلانے اور اس کی دلالی کرنے سے بھی دور رہے کیونکہ ان امور سے ڈر ہے کہ وہ اللہ کی لعنت کامستحق ہو گا، «نسأل الله العافية» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأقضیة 4 (3580)، سنن الترمذی/الأحکام 9 (1337)، (تحفة الأشراف: 8964)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/164، 190، 194، 212، 5/279) (صحیح)
3: بَابُ : الْحَاكِمِ يَجْتَهِدُ فَيُصِيبُ الْحَقَّ
باب: اجتہاد کر کے صحیح فیصلہ تک پہنچنے والے حاکم کے اجر و ثواب کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ"، قَالَ يَزِيدُ : فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَقَالَ: هَكَذَا حَدَّثَنِيهِ أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جب حاکم فیصلہ اجتہاد سے کرے اور صحیح بات تک پہنچ جائے تو اس کو دہرا اجر ملے گا ، اور جب فیصلہ کی کوشش کرے اور اجتہاد میں غلطی کرے ، تو اس کو ایک اجر ملے گا “ ۔ یزید بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کو ابوبکر بن عمرو بن حزم سے بیان کیا تو انہوں نے کہا : اسی طرح اس کو مجھ سے ابوسلمہ نے بیان کیا ہے ، اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2314]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الاعتصام 21 (7352)، صحیح مسلم/الأقضیة 6 (1716)، سنن ابی داود/الأقضیة 2 (3574)، (تحفة الأشراف: 10748)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/198، 204) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ ، قَالَ: لَوْلَا حَدِيثُ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ: اثْنَانِ فِي النَّارِ، وَوَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ رَجُلٌ عَلِمَ الْحَقَّ فَقَضَى بِهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ وَرَجُلٌ قَضَى لِلنَّاسِ عَلَى جَهْلٍ فَهُوَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ جَارَ فِي الْحُكْمِ فَهُوَ فِي النَّارِ لَقُلْنَا إِنَّ الْقَاضِيَ إِذَا اجْتَهَدَ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ".
ابوہاشم کہتے ہیں کہ اگر ابن بریدہ کی یہ روایت نہ ہوتی جو انہوں نے اپنے والد ( بریدہ رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ہے ، اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قاضی تین طرح کے ہیں : ان میں سے دو جہنمی ہیں اور ایک جنتی ، ایک وہ جس نے حق کو معلوم کیا اور اسی کے مطابق فیصلہ دیا ، تو وہ جنت میں جائے گا ، دوسرا وہ جس نے لوگوں کے درمیان بغیر جانے بوجھے فیصلہ دیا ، تو وہ جہنم میں جائے گا ، تیسرا وہ جس نے فیصلہ کرنے میں ظلم کیا ( یعنی جان کر حق کے خلاف فیصلہ دیا ) تو وہ بھی جہنمی ہو گا “ ( اگر یہ حدیث نہ ہوتی ) تو ہم کہتے کہ جب قاضی فیصلہ کرنے میں اجتہاد کرے تو وہ جنتی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2315]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف اجتہاد کافی نہیں ہے بلکہ حق کا علم یعنی یقین ضروری ہے، علماء کے نزدیک یہ حدیث تہدید و تشدید پر محمول ہے، اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ قضا کے لئے صرف اجتہاد یعنی غلبہ ظن کافی ہے، اس میں غلطی کا احتمال رہتا ہے، اور دوسری حدیث سے ثابت ہے کہ مجتہد اگر خطا بھی کرے گا تو اسے ایک اجر ملے گا، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ قاضی کا مجتہد ہونا ضروری ہے، اور مقلد کا قاضی ہونا صحیح نہیں ہے کیونکہ کتاب و سنت کے علم کا اطلاق صرف مجتہد پر ہوتا ہے، اور مقلد تو کتاب و سنت اور دلیل سے بےخبر ہوتا ہے، صرف اپنے امام کا قول معلوم کر لیتا ہے، لہذا مجتہد کتاب و سنت کی روشنی میں اس بات کا فیصلہ کرے گا جو اللہ تعالی اس کو دکھائے ہیں، مقلد تو اپنے امام کی رائے کے مطابق فیصلہ کرے گا، اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے: «وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ» (سورة المائدة: 44) «وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ» (سورة المائدة 45) «وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ» (سورة المائدة:47) اور اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ کرنا مجتہد کی شان ہے مقلد کی نہیں، اور معاذ رضی اللہ عنہ کی رائے سے متعلق مشہور حدیث جس کی صحت میں بعض علماء نے کلام کیا ہے، میں ان کا قول ہے کہ (میں اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا، اگر اس میں نہ ملے گا تو حدیث سے اور اگر اس میں نہ ملے گا تو پھر اپنی رائے سے فیصلہ کروں گا) یہ بھی مجتہد کی شان ہے، مقلد تو نہ قرآن کو دیکھتا ہے نہ حدیث کو، صرف درمختار، کنز اور وقایہ پر عمل کرتا ہے، اور اس کو یہ بھی خبر نہیں ہوتی کہ یہ حکم کتاب وسنت میں موجود بھی ہے یا نہیں۔ (ملاحظہ ہو: الروضۃ الندیۃ)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (3573) ترمذي (1322ب) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 462
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأقضیة 2 (3573)، (تحفة الأشراف: 2009)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأحکام 1 (1322) (صحیح)
4: بَابُ : لاَ يَحْكُمُ الْحَاكِمُ وَهُوَ غَضْبَانُ
باب: غصہ کی حالت میں حاکم و قاضی فیصلہ نہ کرے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَقْضِي الْقَاضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ"، قَالَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ: لَا يَنْبَغِي لِلْحَاكِمِ أَنْ يَقْضِيَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قاضی غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے “ ۱؎ ۔ ہشام کی روایت کے الفاظ ہیں : ” حاکم کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2316]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو غصہ کی حالت میں زبیر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ایک انصاری کے ساتھ کیا تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی کیونکہ آپ حالت غضب اور رضا دونوں میں معصوم تھے، اور ظاہر یہ ہے کہ ممانعت تحریمی ہے، اس پر جمہور علماء نے یہ کہا ہے کہ اگر کوئی غصہ کی حالت میں فیصلہ کرے اور وہ فیصلہ حق ہو تو صحیح ہو گا، علامہ ابن القیم کہتے ہیں کہ مفتی سخت غصہ، یا زیادہ بھوک، یا زیادہ قلق، یا پریشان کن خوف و ڈر، یا نیند کا غلبہ، یا پاخانہ پیشاب کی حاجت میں فتوی نہ دے، اسی طرح جب دل اور طرف لگا ہوا ہو، بلکہ جب آدمی یہ محسوس کرے کہ مذکورہ امور کی وجہ سے وہ اعتدال کی حالت سے باہر چلا گیا ہے، اور اس کی تحقیق و جستجو کی قدرت متاثر ہو گئی ہے، تو اس کو فتویٰ سے رک جانا چاہئے، اس پر بھی اگر وہ ان حالتوں میں فتویٰ دیتا ہے تو اس کا فتویٰ صحیح ہے لیکن اگر ایسی حالت میں فیصلہ کرتا ہے، تو کیا اس کا فیصلہ نافذ ہو گا، یا نہیں نافذ ہو گا؟ اس بارے میں امام احمد کے مذہب میں تین اقوال ہیں: پہلا یہ کہ نافذ ہو گا، دوسرا یہ کہ نافذ نہیں ہو گا، تیسرا یہ کہ مسئلہ کو سمجھنے کے بعد اگر غصہ ہو تو اس میں نافذ ہو گا، اور اگر مسئلہ کے سمجھنے سے پہلے غصہ ہو تو نافذ نہیں ہو گا۔ (ملاحظہ ہو: الروضۃ الندیۃ۳/۲۳۳)
قال الشيخ الألباني: صحيح باللفظ الأول
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأحکام 13 (7158)، صحیح مسلم/الأقضیة 7 (1717)، سنن ابی داود/الأقضیة 9 (3589)، سنن الترمذی/الأحکام 7 (1334)، سنن النسائی/آداب القضاة 17 (5408)، 31 (5423)، (تحفة الأشراف: 11676)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/36، 37، 38، 46، 52) (صحیح)
5: بَابُ : قَضِيَّةِ الْحَاكِمِ لاَ تُحِلُّ حَرَامًا وَلاَ تُحَرِّمُ حَلاَلاً
باب: حاکم کا فیصلہ حرام کو حلال اور حلال کو حرام نہیں کرتا۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ وَإِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ عَلَى نَحْوٍ مِمَّا أَسْمَعُ مِنْكُمْ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ يَأْتِي بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ میرے پاس جھگڑے اور اختلافات لاتے ہو اور میں تو ایک انسان ہی ہوں ، ہو سکتا ہے تم میں سے کوئی اپنی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ چالاک ہو ، اور میں اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں جو تم سے سنتا ہوں ، لہٰذا اگر میں کسی کو اس کے بھائی کا کوئی حق دلا دوں تو وہ اس کو نہ لے ، اس لیے کہ میں اس کے لیے آگ کا ایک ٹکڑا دلاتا ہوں جس کو وہ قیامت کے دن لے کر آئے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2317]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المظالم 16 (2458)، الشہادات 27 (2680)، الحیل 10 (6967)، الأحکام 20 (7169)، 29 (7181)، 31 (7185)، صحیح مسلم/الأقضیة 3 (1713)، سنن ابی داود/الأقضیة 7 (3583)، سنن الترمذی/الأحکام 11 (1339)، سنن النسائی/آداب القضاة 12 (5403)، (تحفة الأشراف: 18261)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة 1 (1)، مسند احمد (6/307، 320) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَمَنْ قَطَعْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ قِطْعَةً فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تو ایک انسان ہی ہوں ، ہو سکتا ہے تم میں کوئی اپنی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ چالاک ہو ، تو جس کے لیے میں اس کے بھائی کے حق میں سے کوئی ٹکڑا کاٹوں تو گویا میں اس کے لیے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ رہا ہوں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2318]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15095، ومصباح الزجاجة: 814)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/332، 6/307) (حسن صحیح)
6: بَابُ : مَنِ ادَّعَى مَا لَيْسَ لَهُ وَخَاصَمَ فِيهِ
باب: جس نے دوسرے کے مال پر دعویٰ کر کے اس میں جھگڑا کیا اس پر وارد وعید کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ أَبُو عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ ، أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ الدِّيلِيّ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنِ ادَّعَى مَا لَيْسَ لَهُ فَلَيْسَ مِنَّا وَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جو کسی ایسی چیز پر دعویٰ کرے جو اس کی نہیں ہے ، تو وہ ہم میں سے نہیں ، اور اسے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لینا چاہیئے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2319]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11933)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المناقب 5 (3508)، صحیح مسلم/الإیمان 27 (61)، مسند احمد (5/166) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ سَوَاءٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَعَانَ عَلَى خُصُومَةٍ بِظُلْمٍ أَوْ يُعِينُ عَلَى ظُلْمٍ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی جھگڑے میں کسی کی ناحق مدد کرے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس سے ناراض رہے گا یہاں تک کہ وہ ( اس سے ) باز آ جائے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2320]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کام سے توبہ کر لے اور اس کو چھوڑ دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأقضیة 14 (3598)، (تحفة الأشراف: 8445) (صحیح) (سند میں مطر الوارق ضعیف راوی ہیں، لیکن حدیث متابعات کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 7/ 350 و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 437، 1021)
7: بَابُ : الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ
باب: مدعی اپنے دعوے کے حق میں گواہی پیش کرے اور مدعیٰ علیہ (یعنی جس کے خلاف دعویٰ ہے) اس پر قسم کھائے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمُ ادَّعَى نَاسٌ دِمَاءَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَهُمْ وَلَكِنْ الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر لوگوں کو ان کے دعویٰ کے مطابق دے دیا جائے ، تو لوگ دوسروں کی جان اور مال کا ( ناحق ) دعویٰ کر بیٹھیں گے ، لیکن مدعیٰ علیہ کو قسم کھانا چاہیئے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2321]
💡 وضاحت:
۱؎: جب مدعی کے پاس گواہ نہ ہو اور مدعی علیہ قسم کھا لے تو وہ دعویٰ سے بری ہو گیا، اگر مدعی علیہ قسم اٹھانے پر تیار نہ ہو تو وہ دعویٰ کے مطابق مدعی کا حق ادا کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الرہن 6 (2514)، الشہادات 20 (2668)، تفسیر سورة آل عمران 3 (4552)، صحیح مسلم/الاقضیة 1 (1711)، سنن ابی داود/الاقضیة 23 (3619)، سنن الترمذی/الاحکام 12 (1342)، سنن النسائی/آداب القضاة 35 (5427)، (تحفة الأشراف: 5792)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/253، 288، 343، 351، 356، 363) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ لِلْيَهُودِيِّ: " احْلِفْ"، قُلْتُ: إِذًا يَحْلِفَ فِيهِ فَيَذْهَبَ بِمَالِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ".
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی ، اس نے میرے حصہ کا انکار کر دیا ، تو میں اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس گواہ ہیں “ ؟ میں نے عرض کیا : نہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے کہا : ” تم قسم کھاؤ “ ، میں نے عرض کیا : تب تو وہ قسم کھا لے گا اور میرا مال ہڑپ کر جائے گا ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ( سورة آل عمران : 77 ) ” جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑا مال لیتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے بات تک نہیں کرے گا ، نہ قیامت کے دن ان پر رحمت کی نگاہ ڈالے گا ، نہ گناہوں سے ان کو پاک کرے گا ، اور ان کو نہایت درد ناک عذاب ہوتا رہے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2322]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المسافات 4 (2356، 2357)، الرہن 6 (2515، 2516)، الخصومات 4 (2416، 2417)، الأحکام 30 (7183، 7184)، صحیح مسلم/الایمان 61 (138)، سنن ابی داود/الأقضیة 25 (3621)، سنن الترمذی/البیوع 42 (1269)، (تحفة الأشراف: 158، 9244)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/211) (صحیح)
8: بَابُ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَاجِرَةٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالاً
باب: جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال ہڑپ کر لینے کی شناعت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کسی چیز کے لیے قسم کھائے اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہو ، اور اس کے ذریعہ وہ کسی مسلمان کا مال ہڑپ کر لے ، تو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2323]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الشرب والمساقات 4 (2356)، صحیح مسلم/الإیمان 61 (138)، سنن ابی داود/الأقضیة 25 (3621)، سنن الترمذی/البیوع 42 (1269)، (تحفة الأشراف: 158)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/377) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَخَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ ، أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْحَارِثِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَقْتَطِعُ رَجُلٌ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَأَوْجَبَ لَهُ النَّارَ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا؟ قَالَ: " وَإِنْ كَانَ سِوَاكًا مِنْ أَرَاكٍ".
ابوامامہ حارثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جو شخص بھی قسم کے ذریعہ کسی مسلمان آدمی کا حق مارے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دے گا ، اور جہنم کو اس کے لیے واجب کر دے گا ، لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! اگرچہ وہ معمولی چیز ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، خواہ وہ پیلو کی ایک مسواک ہی ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2324]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإیمان 61 (137)، سنن النسائی/آداب القضاة 29 (5421)، (تحفة الأشراف: 1744)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/260) (صحیح)
9: بَابُ : الْيَمِينِ عِنْدَ مَقَاطِعِ الْحُقُوقِ
باب: حقوق دلانے کی جگہوں پر قسم کھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِسْطَاسٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ بِيَمِينٍ آثِمَةٍ عِنْدَ مِنْبَرِي هَذَا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ أَخْضَرَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص میرے اس منبر کے پاس جھوٹی قسم کھائے ، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ، خواہ وہ ایک ہری مسواک ہی کے لیے ہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2325]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جھوٹی قسم متبرک مقام میں کھانا اور زیادہ سخت گناہ ہے، اگرچہ ہر جگہ جھوٹی قسم کھانا خود ایک سخت گناہ ہے،بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ مدعی کو اختیار ہے جہاں پر چاہے اور جن الفاظ سے چاہے مدعی علیہ سے قسم لے سکتا ہے، اور بعضوں نے کہا: صرف عدالت میں قسم ہے وہ بھی اللہ تعالی کے نام کی قسم کھانا کافی ہے، اس سے زیادہ کے لئے مدعی جبر نہیں کر سکتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأیمان 3 (2346)، (تحفة الأشراف: 2376)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة 8 (10)، مسند احمد (3/344) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ فَرُّوخَ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَهُوَ أَبُو يُونُسَ الْقَوِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحْلِفُ عِنْدَ هَذَا الْمِنْبَرِ عَبْدٌ وَلَا أَمَةٌ عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ رَطْبٍ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس منبر کے پاس کوئی غلام یا لونڈی جھوٹی قسم نہیں کھاتا ، اگرچہ وہ قسم ایک تازہ مسواک ہی کے لیے ہو ، مگر جہنم کی آگ اس پر واجب ہو جاتی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2326]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14949، ومصباح الزجاجة: 815)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/518) (صحیح)
10: بَابُ : بِمَا يُسْتَحْلَفُ أَهْلُ الْكِتَابِ
باب: اہل کتاب کو کن الفاظ میں قسم دلائی جائے گی اس کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا رَجُلًا مِنْ عُلَمَاءِ الْيَهُودِ فَقَالَ: " أَنْشُدُكَ بِاللهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی عالم کو بلایا ، اور فرمایا : ” میں تم کو اس ذات کی قسم دلاتا ہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات اتاری “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2327]
💡 وضاحت:
۱؎: ایسا کہنے سے یہودی کے دل پر زیادہ اثر ہوتا ہے، اور نصرانی سے یوں کہیں گے قسم کھا اس اللہ کی جس نے عیسی علیہ السلام پر انجیل اتاری۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحدود 6 (1700)، سنن ابی داود/الحدود 26 (4447، 4448)، (تحفة الأشراف: 1771)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/286، 290، 300) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، أَنْبَأَنَا عَامِرٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِيَهُودِيَّيْنِ: " نَشَدْتُكُمَا بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یہودیوں سے فرمایا : ” میں تم دونوں کو اس اللہ کی قسم دلاتا ہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات اتاری “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2328]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (4452) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 462
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الحدود 26 (4452، 4453، 4454 مختصراً)، (تحفة الأشراف: 2346)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/387) (صحیح)
11: بَابُ : الرَّجُلاَنِ يَدَّعِيَانِ السِّلْعَةَ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ
باب: ایک چیز کے دو دعوے دار ہوں اور کسی کے پاس گواہ نہ ہوں تو اس کی حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا دَابَّةً وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَأَمَرَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ذکر کیا کہ ایک جانور پر دو آدمیوں نے دعویٰ کیا ، اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس گواہ نہیں تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم پر قرعہ اندازی کا حکم دیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2329]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کی صورت یہ ہے کہ جانور ایک تیسرے شخص کے پاس ہو اور دو شخص اس کا دعوی کریں، اور تیسرا شخص کہے کہ میں اصل مالک کو نہیں پہچانتا، علی رضی اللہ عنہ کا یہی قول ہے، اور شافعی کے نزدیک وہ جانور تیسرے کے پاس رہے گا، اور ابوحنیفہ کے نزدیک دونوں دعوے داروں کو آدھا آدھا بانٹ دیں گے، اسی طرح اگر دو شخص ایک چیز کا دعوی کریں، اور دونوں گواہ پیش کریں اور کوئی ترجیح کی وجہ نہ ہو تو اس چیز کو آدھا آدھا بانٹ دیں گے، (ابوداود، حاکم، بیہقی)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (3616) والحديث الآتي (2346) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 462
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأقضیة 22 (3616، 3617)، (تحفة الأشراف: 14662)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشہادات 24 (2674)، مسند احمد (2/489، 524) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اخْتَصَمَ إِلَيْهِ رَجُلَانِ بَيْنَهُمَا دَابَّةٌ وَلَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَجَعَلَهَا بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی جھگڑا لے کر آئے ، اور ان دونوں کے درمیان ایک جانور تھا ( جس پر دونوں اپنا اپنا دعویٰ کر رہے تھے ) اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہ تھا ، تو آپ نے اسے دونوں کو آدھا آدھا بانٹ دیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2330]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأقضیة 22 (3613، 3614، 3615)، سنن النسائی/آداب القضاة 34 (5426)، (تحفة الأشراف: 9088)، مسند احمد (4/403) (ضعیف) (قتادہ سے مروی ان احادیث میں روایت ابوموسیٰ اشعری سے ہے، اور بعض رواة نے اسے سعید بن ابی بردہ عن أبیہ مرسلاً روایت کیا ہے، اور بعض حفاظ نے اسے سماک بن حرب سے مرسلاً صحیح مانا ہے، ملاحظہ ہو: تحفة الأشراف: 9088 و الإرواء: 2656)
12: بَابُ : مَنْ سُرِقَ لَهُ شَيْءٌ فَوَجَدَهُ فِي يَدِ رَجُلٍ اشْتَرَاهُ
باب: کسی آدمی کے یہاں چوری ہو گئی اور چوری کا مال کسی نے خرید لیا تو اس کا مال کا حقدار کون ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا ضَاعَ لِلرَّجُلِ مَتَاعٌ أَوْ سُرِقَ لَهُ مَتَاعٌ فَوَجَدَهُ فِي يَدِ رَجُلٍ يَبِيعُهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ وَيَرْجِعُ الْمُشْتَرِي عَلَى الْبَائِعِ بِالثَّمَنِ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب آدمی کا کوئی سامان کھو جائے یا چوری ہو جائے ، پھر وہ کسی آدمی کو اسے بیچتے ہوئے پائے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے ، اور جس نے خریدا وہ اس کے بیچنے والے سے قیمت واپس لے لے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2331]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اصل مالک جس کا مال چوری ہو گیا تھا، وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ حجاج بن أرطاة: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 462
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: 4629، ومصباح الزجاجة: 816)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/13، 18) (ضعیف) (حجاج بن أرطاہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
13: بَابُ : الْحُكْمِ فِيمَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ
باب: مویشیوں نے اگر کسی کے کھیت اور باغ کو نقصان پہنچا دیا ہو تو اس کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةَ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّ نَاقَةً لِآلِ الْبَرَاءِ أَفْسَدَتْ شَيْئًا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ابن محیصہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ براء رضی اللہ عنہ کی ایک اونٹنی کو لوگوں کا کھیت چرنے کی عادی تھی ، وہ لوگوں کے باغ میں چلی گئی ، اور اسے نقصان پہنچا دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ ” دن کو اپنے مال کی حفاظت کی ذمہ داری مال والوں کی ہے ، اور رات کو جانور جو نقصان پہنچا جائیں اسے جانوروں کے مالکوں کو دینا ہو گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2332]
💡 وضاحت:
۱؎: اس لئے کہ رات کو جانور والوں کو چاہئے کہ اپنے جانور باندھ کر رکھیں، جب انہوں نے چھوڑ دیا اور کسی کا نقصان کیا تو نقصان ان کو بھرنا پڑے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (3570) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 463
تخریج دارالدعوہ: انظرماقبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةَ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّ نَاقَةً لِآلِ الْبَرَاءِ أَفْسَدَتْ شَيْئًا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ براء کے گھر والوں کی ایک اونٹنی نے کسی کا نقصان کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ اسی کے برابر واپس لوٹانے کا فرمایا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2332M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظرماقبلہ (صحیح)
14: بَابُ : الْحُكْمِ فِيمَنْ كَسَرَ شَيْئًا
باب: اگر کسی نے کوئی چیز توڑ دی تو اس کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُوءَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَخْبِرِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " أَوَ مَا تَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ سورة القلم آية 4 قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَصْحَابِهِ فَصَنَعْتُ لَهُ طَعَامًا وَصَنَعَتْ لَهُ حَفْصَةُ طَعَامًا، قَالَتْ: فَسَبَقَتْنِي حَفْصَةُ، فَقُلْتُ لِلْجَارِيَةِ: انْطَلِقِي فَأَكْفِئِي قَصْعَتَهَا فَلَحِقَتْهَا وَقَدْ هَمَّتْ أَنْ تَضَعَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكْفَأَتْهَا فَانْكَسَرَتِ الْقَصْعَةُ وَانْتَشَرَ الطَّعَامُ، قَالَتْ: فَجَمَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِيهَا مِنَ الطَّعَامِ عَلَى النِّطَعِ فَأَكَلُوا ثُمَّ بَعَثَ بِقَصْعَتِي فَدَفَعَهَا إِلَى حَفْصَةَ، فَقَالَ: " خُذُوا ظَرْفًا مَكَانَ ظَرْفِكُمْ وَكُلُوا مَا فِيهَا"، قَالَتْ: فَمَا رَأَيْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
قبیلہ بنی سوءۃ کے ایک شخص کا بیان ہے کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا حال بیان کیجئیے ، تو وہ بولیں : کیا تم قرآن ( کی آیت ) : «وإنك لعلى خلق عظيم» ” یقیناً آپ بڑے اخلاق والے ہیں “ نہیں پڑھتے ؟ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے ، میں نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا ، اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ کے لیے کھانا تیار کیا ، حفصہ رضی اللہ عنہا مجھ سے پہلے کھانا لے آئیں ، میں نے اپنی لونڈی سے کہا : جاؤ ان کے کھانے کا پیالہ الٹ دو ، وہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی ، اور جب انہوں نے اپنا پیالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھنا چاہا ، تو اس نے اسے الٹ دیا جس سے پیالہ ٹوٹ گیا ، اور کھانا بکھر گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گرے ہوئے کھانے کو اور پیالہ میں جو بچا تھا سب کو دستر خوان پر اکٹھا کیا ، اور سب نے اسے کھایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا پیالہ اٹھایا ، اور اسے حفصہ کو دے دیا ، اور فرمایا : ” اپنے برتن کے بدلے میں برتن لے لو “ ، اور جو کھانا اس میں ہے وہ کھا لو ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر اس کا کوئی اثر نہیں دیکھا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2333]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ضعفه البوصيري لجھالة ’’رجل من بني سوأة“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 463
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: 17813، ومصباح الزجاجة: 817)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/111) (ضعیف الإسناد) (سند میں رجل من بنی سوء ة مبہم ہے، لیکن ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دوسری روایت نبوی میں اخلاق والا ٹکڑا ثابت ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 1213)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَأَرْسَلَتْ أُخْرَى بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ فَضَرَبَتْ يَدَ الرَّسُولِ فَسَقَطَتِ الْقَصْعَةُ فَانْكَسَرَتْ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِسْرَتَيْنِ فَضَمَّ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى فَجَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ وَيَقُولُ: " غَارَتْ أُمُّكُمْ كُلُوا"، فَأَكَلُوا حَتَّى جَاءَتْ بِقَصْعَتِهَا الَّتِي فِي بَيْتِهَا فَدَفَعَ الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ إِلَى الرَّسُولِ وَتَرَكَ الْمَكْسُورَةَ فِي بَيْتِ الَّتِي كَسَرَتْهَا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن میں سے ایک کے پاس تھے ، آپ کی کسی دوسری بیوی نے ایک کھانے کا پیالہ بھیجا ، پہلی بیوی نے ( غصہ سے کھانا لانے والے ) کے ہاتھ پر مارا ، اور پیالہ گر کر ٹوٹ گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا کر ایک کو دوسرے سے جوڑا اور اس میں کھانا اکٹھا کرنے لگے اور فرماتے جاتے تھے : تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ہے ( کہ میرے گھر اس نے کھانا کیوں بھیجا ) ، تم کھانا کھاؤ ، لوگوں نے کھایا ، پھر جن کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اپنا پیالہ لائیں ، تو آپ نے یہ صحیح سالم پیالہ قاصد کو عنایت کر دیا ، اور ٹوٹا ہوا پیالہ اس بیوی کے گھر میں رکھ چھوڑا جس نے اسے توڑا تھا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2334]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع 91 (3567)، سنن الترمذی/الأحکام 23 (1359)، سنن النسائی/عشرة النکاح 4 (3407)، (تحفة الأشراف: 633، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المظالم 34 (2481)، النکاح 107 (5225)، مسند احمد (3/105، 263)، سنن الدارمی/البیوع 58 (2640) (صحیح)
15: بَابُ : الرَّجُلِ يَضَعُ خَشَبَةً عَلَى جِدَارِ جَارِهِ
باب: پڑوسی کی دیوار پر دھرن (شہتیر) رکھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدَكُمْ جَارُهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ فَلَا يَمْنَعْهُ"، فَلَمَّا حَدَّثَهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ طَأْطَئُوا رُءُوسَهُمْ فَلَمَّا رَآهُمْ قَالَ: مَا لِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ وَاللَّهِ لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی سے اس کا پڑوسی اس کی دیوار پر شہ تیر ( دھرن یا کڑی ) رکھنے کی اجازت مانگے ، تو اس کو منع نہ کرے “ ، جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث لوگوں سے بیان کی تو لوگوں نے اپنے سروں کو جھکا لیا ، یہ دیکھ کر ابوہریرہ رضی اللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : کیوں ، کیا ہوا ؟ میں دیکھتا ہوں کہ تم اس حدیث سے منہ پھیر رہے ہو ، اللہ کی قسم ! میں تو اس کو تمہارے شانوں کے درمیان مار کر رہوں گا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2335]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ہر وقت تم کو سناؤں گا، یا تمہارے مونڈھوں کے بیچ میں اس حدیث کو لکھ کر لگا دوں گا، تاکہ ہر وقت ہر شخص دیکھے، یا تم اس کو چھپا نہ سکو، یا یہ مطلب ہے کہ تم تو دیوار پر کڑی رکھنے اور لکڑی گاڑ لینے کو گوارہ نہیں کرتے، میں تمہارے کندھوں پر بھی رکھوں گا، بعض روایتوں میں «اکنافکم» نون سے ہے یعنی تمہارے ہر طرف اس حدیث کو پھیلا دوں گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المظالم 20 (2463)، صحیح مسلم/المساقاة 29 (1609)، سنن ابی داود/الأقضیة 31 (3634)، سنن الترمذی/الأحکام 18 (1353)، (تحفة الأشراف: 13954)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة 26 (32)، مسند احمد (2/396، 240، 274، 396، 463) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ يَحْيَى أَخْبَرَهُ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنْ بَلْمُغِيرَةِ أَعْتَقَ أَحَدَهُمَا أَنْ لَا يَغْرِزَ خَشَبًا فِي جِدَارِهِ، فَأَقْبَلَ مُجَمِّعُ بْنُ يَزِيدَ وَرِجَالٌ كَثِيرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَمْنَعْ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ". فَقَالَ: يَا أَخِي إِنَّكَ مَقْضِيٌّ لَكَ عَلَيَّ وَقَدْ حَلَفْتُ فَاجْعَلْ أُسْطُوَانًا دُونَ حَائِطِي أَوْ جِدَارِي فَاجْعَلْ عَلَيْهِ خَشَبَكَ.
عکرمہ بن سلمہ کہتے ہیں بلمغیرہ ( بنی مغیرہ ) کے دو بھائیوں میں سے ایک نے یہ شرط لگائی کہ اگر میری دیوار میں تم دھرن لگاؤ تو میرا غلام آزاد ہے ، پھر مجمع بن یزید رضی اللہ عنہ اور بہت سے انصار آئے اور کہنے لگے : ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی ( دھرن ) گاڑنے سے منع نہ کرے “ ، یہ سن کر وہ کہنے لگا : میرے بھائی ! شریعت کا فیصلہ تمہارے موافق نکلا لیکن چونکہ میں قسم کھا چکا ہوں اس لیے تم میری دیوار کے ساتھ ایک ستون کھڑا کر کے اس پر لکڑی رکھ لو ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2336]
💡 وضاحت:
۱؎: «بلمغیرة» یعنی «بني المغیرة» اس میں ایک لغت یہ بھی ہے۔ تاکہ تمہارا کام نکل جائے اور میرا نقصان نہ ہو، ورنہ میرا غلام آزاد ہو جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عكرمة بن سلمة: مجھول (تقريب:4670) ¤ وأصل الحديث صحيح،انظر الحديث السابق (الأصل: 2335) وھو يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 463
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11217، ومصباح الزجاجة: 808)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/479، 480) (حسن) (سند میں ابن جریج مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اور ھشام بن یحییٰ مستور لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، اور عکرمہ بن سلمہ مجہول ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَمْنَعْ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً عَلَى جِدَارِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی ( دھرن ) گاڑنے سے منع نہ کرے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2337]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6211، ومصباح الزجاجة: 819)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/255) (صحیح) (سند میں ابن لھیعہ ہیں، اور عبد اللہ بن وہب کی ان سے روایت صحیح ہے، نیز ابن وہب کی متابعت بھی موجود ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2947)
16: بَابُ : إِذَا تَشَاجَرُوا فِي قَدْرِ الطَّرِيقِ
باب: راستے کی لمبائی چوڑائی کے بارے میں لوگوں میں جھگڑا ہو تو فیصلہ کیسے ہو گا؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ الضُّبَعِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْعَلُوا الطَّرِيقَ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” راستہ کو سات ہاتھ رکھو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2338]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ وہاں ہے جہاں ایک جگہ پر کئی لوگ رہتے ہوں اور راستہ کی لمبائی چوڑائی پہلے سے معلوم نہ ہو۔ اب اس میں جھگڑا کریں تو سات ہاتھ کے برابر راستہ چھوڑ دینا چاہئے، لیکن جو راستے پہلے سے بنے ہوئے ہیں اور ان کی لمبائی چوڑائی معلوم ہے، ان میں کسی کو تصرف کرنے مثلاً عمارت بنانے اور راستہ کی زمین تنگ کر دینے کا اختیار نہیں ہے، اور سات ہاتھ کا راستہ ضرورت کے لئے کافی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں صرف آدمی، گھوڑے اور اونٹ راستوں پر چلتے تھے، ان کے لئے اتنا لمبا چوڑا راستہ کافی تھا، لیکن عام راستے جہاں آمد و رفت عام ہو اور گاڑیاں اور بگھیاں بہت چلتی ہوں وہاں اگر یہ لمبائی اور چوڑائی تنگ ہو تو حاکم کو اختیار ہے جتنا راستہ ضروری معلوم ہو اس کی تحدید کر دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: دالأقضیة 31 (3633)، سنن الترمذی/الأحکام 20 (1356)، (تحفة الأشراف: 12223)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المظالم 29 (2473)، صحیح مسلم/المساقاة 31 (1613)، مسند احمد (2/466، 474) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاجْعَلُوهُ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم راستے کے سلسلہ میں اختلاف کرو تو اسے سات ہاتھ کا کر دو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2339]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6128، ومصباح الزجاجة: 820)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/235، 303، 317) (صحیح)
17: بَابُ : مَنْ بَنَى فِي حَقِّهِ مَا يَضُرُّ بِجَارِهِ
باب: جس نے اپنی جگہ میں کوئی ایسی عمارت بنائی جس سے پڑوسی کو نقصان ہے تو اس کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ خَالِدٍ النُّمَيْرِيُّ أَبُو الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنْ: " لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا : ” کسی کو نقصان پہنچانا جائز نہیں نہ ابتداء ً نہ مقابلۃ ً “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2340]
💡 وضاحت:
۱؎: مثلاً پڑوسی کے مکان کی طرف ایک نئی کھڑکی یا روشندان کھولے، یا پرنالہ یا نالی نکالے یا ایک پاخانہ گھر بنائے، ان امور میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر پڑوسی کو اس سے نقصان ہوتا ہو تو یہ تصرف صحیح نہ ہو گا، ورنہ صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ إسحاق بن يحيي: مجھول الحال،أرسل عن عبادة ¤ وله شواھد كثيرة جدًا ولم يصح منھا شئ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 463
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5065، ومصباح الزجاجة: 821)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/326، 327) (صحیح) (سند میں اسحاق مجہول الحال راوی ہے، اور اسحاق اور عبادہ رضی اللہ عنہ کے مابین انقطاع ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 250 و الإرواء: 896، و غایة المرام 68)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی کو نقصان پہنچانا جائز نہیں نہ ابتداء ً نہ مقابلۃ ً “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2341]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ جابر الجعفي: ضعيف رافضي ¤ وانظر الحديث السابق (2340) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 463
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6016، ومصباح الزجاجة: 822)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/313) (صحیح) (اس سند میں جابر جعفی ضعیف روای ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ لُؤْلُؤَةَ ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ ضَارَّ أَضَرَّ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ شَاقَّ شَقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ".
ابوصرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی کو نقصان پہنچائے گا اللہ تعالیٰ اسے نقصان پہنچائے گا ، اور جو کسی پر سختی کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر سختی کرے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2342]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (3635) ترمذي (1940) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 463
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأقضیة 31 (3635)، سنن الترمذی/البروالصلة 27 (1940)، (تحفة الأشراف: 12063)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/453) (حسن)
18: بَابُ : الرَّجُلاَنِ يَدَّعِيَانِ فِي خُصٍّ
باب: جھونپڑی کے دو دعوے دار ہوں تو فیصلہ کیسے ہو گا؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانٍ ، عَنْ نِمْرَانَ بْنِ جَارِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ قَوْمًا اخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُصٍّ كَانَ بَيْنَهُمْ فَبَعَثَ حُذَيْفَةَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ فَقَضَى لِلَّذِينَ يَلِيهِمُ الْقِمْطُ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ فَقَالَ: " أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ".
جاریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ ایک جھونپڑی کے متعلق جو ان کے بیچ میں تھی جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بھیجا ، انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جھونپڑی ان کی ہے جن سے رسی قریب ہے ، پھر جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے ، اور انہیں بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے ٹھیک اور اچھا فیصلہ کیا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2343]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ دهثم: ضعيف جدًا (الإصابة 218/1 ت 1048) وھو متروك (تقريب: 1831) ¤ ونمران مجهول (تقريب: 7187) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 463
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: 3181، ومصباح الزجاجة: 823) (ضعیف جدا) (سند میں نمران بن جاریہ مجہول الحال، اور دھشم بن قران متروک راوی ہیں)
19: بَابُ : مَنِ اشْتَرَطَ الْخَلاَصَ
باب: (خرید و فروخت میں) خلاصی کی شرط لگانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا بِيعَ الْبَيْعُ مِنْ رَجُلَيْنِ فَالْبَيْعُ لِلْأَوَّلِ"، قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: إِبْطَالُ الْخَلَاصِ.
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب مال دو آدمیوں کے ہاتھ بیچا جائے تو وہ مال اس شخص کا ہو گا جس نے پہلے خریدا “ ۱؎ ۔ ابوالولید کہتے ہیں کہ اس حدیث سے خلاصی کی شرط باطل ہوتی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2344]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اگر دوسرے خریدار نے اپنے بائع سے یہ شرط لگائی تھی کہ جس طرح تم سے ہو سکے یہ مال چھڑا کر مجھ کو دینا تو یہ شرط مفید نہ ہو گی اور بائع پہلے خریدار سے اس کے چھڑانے پر مجبور نہ کیا جائے گا، مسئلہ کی صورت یہ ہے کہ مثلاً زید کے پاس ایک گھوڑا تھا، زید نے اس کو عمرو کے ہاتھ بیچ دیا، اس کے بعد زید کے وکیل (ایجنٹ) نے اس کو بکر کے ہاتھ بیچ دیا اور بکر نے وکیل سے شرط لگائی کہ اس گھوڑے کو چھڑا کر میرے حوالہ کرنا تمہارے ذمہ ہے، اس نے قبول کیا جب بھی وہ گھوڑا عمرو ہی کو ملے گا کیونکہ اس کی بیع پہلی تھی اور بکر کی بیع دوبارہ صحیح نہیں ہوئی۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4582، 9918)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح 20 (1110)، سنن النسائی/البیوع 94 (4686)، مسند احمد (5/8، 11، 12، 18، 22)، سنن الدارمی/النکاح 15 (2239) (ضعیف) (سند میں حسن بصری مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اور عقیقہ کی حدیث کے علاوہ سمرہ رضی اللہ عنہ سے ان کا سماع ثابت نہیں ہے)
20: بَابُ : الْقَضَاءِ بِالْقُرْعَةِ
باب: قرعہ اندازی کے ذریعہ فیصلہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، " أَنَّ رَجُلًا كَانَ لَهُ سِتَّةُ مَمْلُوكِينَ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَأَعْتَقَهُمْ عِنْدَ مَوْتِهِ فَجَزَّأَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص کے چھ غلام تھے ، ان غلاموں کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا ، مرتے وقت اس نے ان سب کو آزاد کر دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حصے کئے ( دو دو کے تین حصے ) ( اور قرعہ اندازی کر کے ) دو کو ( جن کے نام قرعہ نکلا ) آزاد کر دیا ، اور چار کو بدستور غلام رکھا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2345]
💡 وضاحت:
۱؎: جب آدمی بیمار ہو تو اس کو چاہئے کہ وارثوں کا خیال رکھے، اور اپنی ساری دولت تقسیم نہ کر دے، اگر ایسا ہی ضروری ہو تو تہائی مال تک اللہ کی راہ میں دے دے، اور دو تہائی دولت وارثوں کے لئے چھوڑ دے، اگر ساری دولت کے صدقہ کی وہ وصیت کرے تو یہ وصیت تہائی مال ہی میں نافذ ہو گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا، دو غلاموں کو قرعہ ڈال کر آزاد کرایا، اور قرعہ اس واسطے ڈالا کہ وہ جھگڑا نہ کریں، اور وہ وارثوں کی ملکیت میں بدستور غلام رہے، دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے حق میں سخت کلمہ کہا کیونکہ اس نے وارثوں کا خیال نہیں رکھا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحدود 5 (1668)، سنن ابی داود/الحدود 25 (3958، 3959)، سنن الترمذی/الأحکام 27 (1364)، (تحفة الأشراف: 10880)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجنائز65 (1960)، مسند احمد (4/420، 435، 437، 440) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَجُلَيْنِ تَدَارَءَا فِي بَيْعٍ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ أَحَبَّا ذَلِكَ أَمْ كَرِهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بیع کے متعلق دو آدمیوں نے جھگڑا کیا ، اور ان میں کسی کے پاس گواہ نہیں تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم کھانے کے لیے قرعہ ڈالنے کا حکم دیا خواہ انہیں یہ فیصلہ پسند ہو یا ناپسند ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2346]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ ضعيف ¤ انظر الحديث السابق (2329) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 463
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأقضیة 22 (3616) وأنظر حدیث رقم: (2329)، (تحفة الأشراف: 14662)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/489، 524) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَافَرَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جاتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2347]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جس کے نام قرعہ نکلتا اس کو اپنے ساتھ لے جاتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الھبة 15 (2593)، المغازي 34 (4141)، النکاح 97 (5092)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 13 (2445)، التوبة 10 (2445)، سنن ابی داود/النکاح 39 (2138)، (تحفة الأشراف: 16678)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/151، 197، 269)، سنن الدارمی/النکاح 26 (2245)، الجہاد 31 (2467)، (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 1970) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: " أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَهُوَ بِالْيَمَنِ فِي ثَلَاثَةٍ قَدْ وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ فَسَأَلَ اثْنَيْنِ، فَقَالَ: أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ فَقَالَا: لَا، ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ، فَقَالَ: أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ فَقَالَا: لَا، فَجَعَلَ كُلَّمَا سَأَلَ اثْنَيْنِ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ قَالَا: لَا، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالَّذِي أَصَابَتْهُ الْقُرْعَةُ، وَجَعَلَ عَلَيْهِ ثُلُثَيِ الدِّيَةِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جب یمن میں تھے ، تو ان کے پاس یہ مقدمہ آیا کہ تین آدمیوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر میں صحبت کی تھی ، تو انہوں نے پہلے دو آدمیوں سے پوچھا : کیا تم دونوں اس بات کا اقرار کرتے ہو کہ یہ لڑکا اس تیسرے شخص کا ہے ؟ ان دونوں نے کہا : نہیں ، پھر دو کو الگ کیا ، اور ان سے پوچھا : کیا تم دونوں اقرار کرتے ہو کہ یہ لڑکا اس تیسرے شخص کا ہے ؟ اس طرح جب وہ دو دو سے پوچھتے کہ تم اس لڑکے کو تیسرے کا کہتے ہو ؟ تو وہ انکار کرتے ، آخر انہوں نے قرعہ اندازی کی ، اور جس کے نام قرعہ نکلا وہ لڑکا اس کو دلایا ، اور دو تہائی کی دیت اس پر لازم کر دی ، اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ ہنسے ، یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت ظاہر ہو گئے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2348]
💡 وضاحت:
۱؎: ہنسی کی وجہ یہ تھی کہ یہ فیصلہ عجیب طور کا تھا، اور دو تہائی دیت کی اس سے اس لئے دلوائی کہ دعوی کے مطابق اس لڑکے میں تینوں شریک تھے، اب قرعہ جھگڑا ختم کرنے کے لئے کیا، نہ نسب ثابت کرنے کے لئے، تو اس شخص کو بچہ کا دو تہائی کا بدلہ دوسرے دعویداروں کو دینا پڑا اور یہ علی رضی اللہ عنہ کی اپنی رائے تھی، لیکن ابوداود نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی صورت میں یہ حکم فرمایا: وہ بچہ اپنی ماں کے پاس رہے گا، اور کسی سے اس کا نسب ثابت نہ ہو گا، نہ وہ ان دعویداروں میں سے کسی مرد کا وارث ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطلاق 32 (2270)، سنن النسائی/الطلاق 50 (3518)، (تحفة الأشراف: 3670)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/373، 474) (صحیح)
21: بَابُ : الْقَافَةِ
باب: قیافہ شناسوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مَسْرُورًا وَهُوَ يَقُولُ: يَا عَائِشَةُ، " أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَيَّ فَرَأَى أُسَامَةَ وَزَيْدًا عَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَقَدْ بَدَتْ أَقْدَامُهُمَا، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش خوش تشریف لائے ، آپ فرما رہے تھے : ” عائشہ ! کیا تم نے دیکھا نہیں کہ مجزز مدلجی میرے پاس آیا ، اس نے اسامہ اور زید بن حارثہ کو ایک چادر میں سویا ہوا دیکھا ، وہ دونوں اپنے سر چھپائے ہوئے تھے ، اور دونوں کے پیر کھلے تھے ، تو کہا : یہ پاؤں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2349]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متبنی زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ گورے رنگ کے تھے، اور ان کے بیٹے اسامہ سانولے رنگ کے تھے، منافقوں نے یہ طوفان اٹھایا کہ اسامہ زید کے بیٹے نہیں ہیں، اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا رنج ہوا، جب قیافہ شناس نے دونوں کے پاؤں دیکھ کر ایک طرح کے بتلائے تو مزید اطمینان ہوا کہ اسامہ زید ہی کے بیٹے ہیں، ہر چند پہلے بھی اس کا یقین تھا مگر قیافہ شناس کے کہنے پر اور زیادہ یقین ہوا، منافقوں کا منہ بند ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشی حاصل ہوئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المناقب 23 (3355)، فضائل الصحابہ 17 (3731)، الفرائض 31 (6771)، صحیح مسلم/الرضاع 11 (1459)، سنن ابی داود/الطلاق 31 (2267)، سنن الترمذی/الولاء 5 (2129)، سنن النسائی/الطلاق 51 (3423، 3524)، (تحفة الأشراف: 16433)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/82، 226) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ قُرَيْشًا أَتَوْا امْرَأَةً كَاهِنَةً فَقَالُوا لَهَا: أَخْبِرِينَا أَشْبَهَنَا أَثَرًا بِصَاحِبِ الْمَقَامِ، فَقَالَتْ: إِنْ أَنْتُمْ جَرَرْتُمْ كِسَاءً عَلَى هَذِهِ السِّهْلَةِ ثُمَّ مَشَيْتُمْ عَلَيْهَا أَنْبَأْتُكُمْ، قَالَ: " فَجَرُّوا كِسَاءً ثُمَّ مَشَى النَّاسُ عَلَيْهَا فَأَبْصَرَتْ أَثَرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: هَذَا أَقْرَبُكُمْ إِلَيْهِ شَبَهًا ثُمَّ مَكَثُوا بَعْدَ ذَلِكَ عِشْرِينَ سَنَةً أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے ایک کاہنہ کے پاس آ کرکہا : ہمیں بتاؤ کہ ہم میں سے کون مقام ابراہیم کے صاحب ( ابراہیم علیہ السلام ) سے زیادہ مشابہ ہے ؟ ، وہ بولی : اگر تم ایک کمبل لے کر اسے اس نرم اور ہموار زمین پر گھسیٹو پھر اس پر چلو تو میں بتاؤں ، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے کمبل کو زمین پر پھیرا ( تاکہ زمین کے نشانات مٹ جائیں ) پھر لوگ اس پر چلے ، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کے نشانات دیکھے ، تو بولی : یہ شخص تم میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ ہے ، پھر اس واقعہ پر بیس سال یا جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا گزرے ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت عطا کی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2350]
قال الشيخ الألباني: منكر ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سلسلة سماك عن عكرمة: ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 463
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماحہ، (تحفة الأشراف: 6130، ومصباح الزجاجة: 824)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/332) (منکر ضعیف)ط (سماک بن حرب کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے)
22: بَابُ : تَخْيِيرِ الصَّبِيِّ بَيْنَ أَبَوَيْهِ
باب: بچے کو اختیار دینا کہ ماں باپ میں سے جس کے پاس رہنا چاہے رہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ غُلَامًا بَيْنَ أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَقَالَ: " يَا غُلَامُ هَذِهِ أُمُّكَ وَهَذَا أَبُوكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑکے کو اختیار دیا کہ وہ اپنے باپ کے پاس رہے یا ماں کے پاس اور فرمایا : ” بچے ! یہ تیری ماں ہے اور یہ تیرا باپ ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2351]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی تو جس کے ساتھ چاہے جا سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطلاق 35 (2277)، سنن الترمذی/الأحکام 21 (1357)، سنن النسائی/الطلاق 5 (3526)، (تحفة الأشراف: 15463)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/447)، سنن الدارمی/الطلاق 15 (2339) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ أَبَوَيْهِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا كَافِرٌ وَالْآخَرُ مُسْلِمٌ، فَخَيَّرَهُ فَتَوَجَّهَ إِلَى الْكَافِرِ فَقَالَ: " اللَّهُمَّ اهْدِهِ". فَتَوَجَّهَ إِلَى الْمُسْلِمِ فَقَضَى لَهُ بِهِ.
رافع بن سنان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے ماں اور باپ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے گئے ، ان میں سے ایک کافر تھے اور ایک مسلمان ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( رافع ) کو اختیار دیا ( کہ جس کے ساتھ جانا چاہیں جا سکتے ہیں ) وہ کافر کی طرف متوجہ ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی : ” اے اللہ ! اس کو ہدایت دے “ ، پھر وہ مسلمان کی طرف متوجہ ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی ( مسلمان ) کے پاس ان کے رہنے کا فیصلہ فرما دیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2352]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: حدیث عبد الحمید بن سلمة عن أبیہ عن جدہ، علی أن إسم أبویہ لایعرفان تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشرا ف: 15586، مصباح الزجاجة: 852)، وحدیث عبد الحمید بن سملة عن جدہ رافع بن سنان أخرجہ: سنن ابی داود/الطلاق 26 (2244)، سنن النسائی/الطلاق 52 (3525)، (تحفة الأشراف: 3594) (صحیح) (سند میں عبدالحمید بن سلمہ عن أبیہ عن جدہ تینوں مجہول ہیں، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 41 19)
23: بَابُ : الصُّلْحِ
باب: صلح کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا صُلْحًا حَرَّمَ حَلَالًا أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا".
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” مسلمانوں کے مابین صلح جائز ہے ، سوائے ایسی صلح کے جو حلال کو حرام کر دے یا حرام کو حلال “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2353]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی خلاف شرع صلح جائز نہیں، باقی جس میں شرع کی مخالفت نہ ہو وہ صلح ہر طرح سے جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأحکام 17 (1352)، (تحفة الأشراف: 10775) (صحیح)
24: بَابُ : الْحَجْرِ عَلَى مَنْ يُفْسِدُ مَالَهُ
باب: جو شخص اپنا مال برباد کرتا ہو تو اس پر حجر (پابندی لگانا) درست ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، وَكَانَ يُبَايِعُ وَأَنَّ أَهْلَهُ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ احْجُرْ عَلَيْهِ فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَال: " إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ هَا وَلَا خِلَابَةَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کچھ کم عقل تھا ، اور وہ خرید و فروخت کرتا تھا تو اس کے گھر والے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس کو اپنے مال میں تصرف سے روک دیجئیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا ، اور اس کو خرید و فروخت کرنے سے منع کیا ، اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ خرید و فروخت نہ کروں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا جب خرید و فروخت کرو تو یہ کہہ لیا کرو کہ دھوکا دھڑی کی بات نہیں چلے گی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2354]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی مجھ کو دھوکہ مت دو، اگر فریب ثابت ہو گا تو معاملہ فسخ کرنے کا مجھ کو اختیار ہو گا، دوسری روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ مجھ کو تین دن تک اختیار ہے (طبرانی اور بیہقی)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع 68 (3501)، سنن الترمذی/البیوع 28 (1250)، سنن النسائی/البیوع 10 (4490)، (تحفة الأشراف: 1175)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/217) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانٍ ، قَالَ: هُوَ جَدِّي مُنْقِذُ بْنُ عَمْرٍو وَكَانَ رَجُلًا قَدْ أَصَابَتْهُ آمَّةٌ فِي رَأْسِهِ فَكَسَرَتْ لِسَانَهُ، وَكَانَ لَا يَدَعُ عَلَى ذَلِكَ التِّجَارَةَ، وَكَانَ لَا يَزَالُ يُغْبَنُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهُ: " إِذَا أَنْتَ بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ، ثُمَّ أَنْتَ فِي كُلِّ سِلْعَةٍ ابْتَعْتَهَا بِالْخِيَارِ ثَلَاثَ لَيَالٍ، فَإِنْ رَضِيتَ فَأَمْسِكْ وَإِنْ سَخِطْتَ فَارْدُدْهَا عَلَى صَاحِبِهَا".
محمد بن یحییٰ بن حبان کہتے ہیں کہ میرے دادا منقذ بن عمرو ہیں ، ان کے سر میں ایک زخم لگا تھا جس سے ان کی زبان بگڑ گئی تھی ، اس پر بھی وہ تجارت کرنا نہیں چھوڑتے تھے ، اور ہمیشہ ٹھگے جاتے تھے ، بالآخر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” جب تم کوئی چیز بیچو تو یوں کہہ دیا کرو : دھوکا دھڑی نہیں چلے گی ، پھر تمہیں ہر اس سامان میں جسے تم خریدتے ہو تین دن کا اختیار ہو گا ، اگر تمہیں پسند ہو تو رکھ لو اور اگر پسند نہ آئے تو اسے اس کے مالک کو واپس کر دو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2355]
💡 وضاحت:
۱؎: پس یہ اختیار خاص کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منقذ کو دیا تھا، اگر کسی کے عقل میں فتور ہو تو حاکم ایسا اختیار دے سکتا ہے، نیز مسرف اور بے وقوف پر حجر کرنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 19428، ومصباح الزجاجة: 826) (حسن) (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور راویت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شاہد سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، کما تقدم، تراجع الألبانی: رقم: 102)
25: بَابُ : تَفْلِيسِ الْمُعْدَمِ وَالْبَيْعِ عَلَيْهِ لِغُرَمَائِهِ
باب: مفلس آدمی کو دیوالیہ قرار دے کر اس کا مال بیچ کر قرض خواہوں کو ادائیگی کرنا۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ"، فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ" يَعْنِي الْغُرَمَاءَ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک شخص کو اس کے خریدے ہوئے پھلوں میں گھاٹا ہوا ، اور وہ بہت زیادہ مقروض ہو گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا : ” تم لوگ اسے صدقہ دو “ چنانچہ لوگوں نے اسے صدقہ دیا ، لیکن اس سے اس کا قرض پورا ادا نہ ہو سکا ، بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو مل گیا وہ لے لو ، اس کے علاوہ تمہارے لیے کچھ نہیں ہے “ یعنی قرض خواہوں کے لیے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2356]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ اب وہ مفلس ہو گیا تو قرض خواہوں کو اس سے زیادہ کچھ نہیں پہنچتا کہ اس کے پاس جو مال ہو وہ لے لیں، مگر مکان رہنے کا اور ضروری کپڑا اور سردی کا کپڑا، اور سد رمق کے موافق خوراک اس کی اور اس کے گھر والوں کی یہ چیزیں قرض میں نہیں لی جائیں گی۔ (الروضۃ الندیۃ)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساقاة 4 (1556)، سنن ابی داود/البیوع 60 (3469)، سنن الترمذی/الزکاة 24 (655)، سنن النسائی/البیوع 28 (4534)، 93 (4682)، (تحفة الأشراف: 4270)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/36، 56، 58) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ هُرْمُزٍ ، عَنْ سَلَمَةَ الْمَكِّيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلَعَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ مِنْ غُرَمَائِهِ ثُمَّ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى الْيَمَنِ فَقَالَ مُعَاذٌ: " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَخْلَصَنِي بِمَالِي ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِي".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو ان کے قرض خواہوں سے چھٹکارا دلوایا ، اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کا عامل بنا دیا ، معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا : دیکھو ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے مال کے ذریعہ مجھے میرے قرض خواہوں سے چھٹکارا دلوایا ، پھر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامل بھی بنا دیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2357]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عبد اللّٰه بن مسلم بن هرمز: ضعيف ¤ وسلمة المكي: مجهول (التحرير: 2518 م) ¤ وقال البوصيري: ”لايعرف حاله“ والسند ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 464
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2268، ومصباح الزجاجة: 827) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن مسلم بن ہرمز ضعیف اور سلمہ المکی مجہول الحال ہیں)
26: بَابُ : مَنْ وَجَدَ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ
باب: ایک شخص کا دیوالیہ ہو گیا اور کسی نے اپنا مال اس کے پاس پا لیا تو اس کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ جَمِيعًا، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ وَجَدَ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے بعینہ اپنا مال اس شخص کے پاس پا لیا جو مفلس ( دیوالیہ ) ہو گیا ہو ، تو وہ دوسرے قرض خواہوں سے اس مال کا زیادہ حقدار ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2358]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الاستقراض 14 (2402)، صحیح مسلم/المساقاة 5 (1559)، سنن ابی داود/البیوع 76 (3519، 3520)، سنن الترمذی/البیوع 26 (1262)، سنن النسائی/البیوع 93 (4680)، (تحفة الأشراف: 14861)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 42 (88، مسند احمد (2/228، 258، 410، 468، 474، 508)، سنن الدارمی/البیوع 51 (2632) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ سِلْعَةً فَأَدْرَكَ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا عِنْدَ رَجُلٍ وَقَدْ أَفْلَسَ وَلَمْ يَكُنْ قَبَضَ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا، فَهِيَ لَهُ وَإِنْ كَانَ قَبَضَ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَهُوَ أُسْوَةٌ لِلْغُرَمَاءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے کوئی سامان بیچا پھر اس نے اس کو بعینہ اس ( مشتری ) کے پاس پایا جو دیوالیہ ہو گیا ہے ، اور بائع کو ابھی تک اس کی قیمت میں سے کچھ نہیں ملا تھا ، تو وہ سامان بائع کو ملے گا ، اور اگر وہ اس کی قیمت میں سے کچھ لے چکا ہے تو وہ دیگر قرض خواہوں کے مانند ہو گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2359]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کو بیچ کر قرض خواہوں کا قرضہ حصے کے طور پر اس سے ۱دا کریں گے، بائع کو بھی اپنے حصہ کے موافق ملے گا، حدیث سے یہ نکلا کہ اگر مشتری نے اسباب میں کچھ تصرف کیا ہو یعنی اس حال پر باقی نہ رہا جو بائع کے وقت پر تھا تب بھی وہ بائع کو نہ ملے گا بلکہ اس کو بیچ کر سب قرض خواہوں کو حصہ ادا کریں گے، بائع بھی اپنے حصہ کے موافق لے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: وانظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ رَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ خَلْدَةَ الزُّرَقِيِّ وَكَانَ قَاضِيًا بِالْمَدِينَةِ، قَالَ: جِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي صَاحِبٍ لَنَا قَدْ أَفْلَسَ، فَقَالَ: هَذَا الَّذِي قَضَى فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ مَاتَ أَوْ أَفْلَسَ فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِمَتَاعِهِ إِذَا وَجَدَهُ بِعَيْنِهِ".
ابن خلدہ زرقی ( وہ مدینہ کے قاضی تھے ) کہتے ہیں کہ ہم اپنے ایک ساتھی کے سلسلے میں جس کا دیوالیہ ہو گیا تھا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، تو انہوں نے کہا : ایسے ہی شخص کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا تھا : ” جو شخص مر جائے یا جس کا دیوالیہ ہو جائے ، تو سامان کا مالک ہی اپنے سامان کا زیادہ حقدار ہے ، جب وہ اس کو بعینہ اس کے پاس پائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2360]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع 76 (3523)، (تحفة الأشراف: 14269) (ضعیف) (سند میں ابو المعتمر بن عمرو بن رافع مجہول ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا الْيَمَانُ بْنُ عَدِيٍّ ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا امْرِئٍ مَاتَ وَعِنْدَهُ مَالُ امْرِئٍ بِعَيْنِهِ اقْتَضَى مِنْهُ شَيْئًا أَوْ لَمْ يَقْتَضِ فَهُوَ أُسْوَةٌ لِلْغُرَمَاءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص مر جائے ، اور اس کے پاس کسی کا مال بعینہ موجود ہو ، خواہ اس کی قیمت سے کچھ وصول کیا ہو یا نہیں ، وہ ہر حال میں دوسرے قرض خواہوں کے مانند ہو گا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2361]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال الدارقطني (3/ 29): ”اليمان بن عدي ضعيف الحديث“ ¤ و الحديث السابق (الأصل: 2360) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 464
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15268) (صحیح)
27: بَابُ : كَرَاهِيَةِ الشَّهَادَةِ لِمَنْ لَمْ يُسْتَشْهَدْ
باب: بغیر طلب کئے خود سے گواہی دینے کی کراہت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: " قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَبْدُرُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : کون سے لوگ بہتر ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے زمانہ والے ، پھر جو لوگ ان سے نزدیک ہوں ، پھر وہ جو ان سے نزدیک ہوں ، پھر ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن کی گواہی ان کی قسم سے اور قسم گواہی سے سبقت کر جائے گی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2362]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی گواہی دینے اور قسم کھانے کے بڑے حریص ہوں گے، ہر وقت ا س کے لیے تیار رہیں گے ذرا بھی احتیاط سے کام نہیں لیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الشہادات 9 (2652)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 52 (2533)، سنن الترمذی/المناقب 57 (3859)، (تحفة الأشراف: 9403)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 378، 417، 434، 438، 442) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بنُ الْجَرَّاحِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالْجَابِيَةِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِينَا مِثْلَ مُقَامِي فِيكُمْ فَقَالَ: " احْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى يَشْهَدَ الرَّجُلُ وَمَا يُسْتَشْهَدُ وَيَحْلِفَ وَمَا يُسْتَحْلَفُ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مقام جابیہ میں خطبہ دیا ، اس خطبہ میں انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بیچ کھڑے ہوئے جیسے میں تمہارے بیچ کھڑا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے صحابہ کی شان کے سلسلے میں میرا خیال رکھو پھر ان لوگوں کی شان کے سلسلے میں جو ان کے بعد ہوں ، پھر جو ان کے بعد ہوں ، پھر جھوٹ عام ہو جائے گا یہاں تک کہ ایک شخص گواہی دے گا اور کوئی اس سے گواہی نہ چاہے گا ، اور قسم کھائے گا اور کوئی اس سے قسم نہ چاہے گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2363]
💡 وضاحت:
۱؎: مقام جابیہ شام کی ایک بستی کا نام ہے۔ میرا خیال رکھو یعنی کم از کم میری رعایت کرتے ہوئے انہیں کوئی ایذا نہ پہنچاؤ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10418، ومصباح الزجاجة: 828)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/26) (صحیح) (سند میں عبد الملک بن عمیر مدلس ہیں، اور راویت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، الصحیحة: 431، 1116)
28: بَابُ : الرَّجُلِ عِنْدَهُ الشَّهَادَةُ لاَ يَعْلَمُ بِهَا صَاحِبُهَا
باب: گواہ موجود ہے لیکن صاحب معاملہ کو اس کی خبر نہیں ہے تو گواہ کیا کرے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبدِ الرَّحْمَنِ الْجُعْفِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَاب: الْعُكْلِيُّ ، أَخْبَرَنِي أُبَيُّ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، حَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ يَقُولُ: إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَيْرُ الشُّهُودِ مَنْ أَدَّى شَهَادَتَهُ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا".
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” بہتر گواہ وہ ہے جو پوچھے جانے سے پہلے گواہی دیدے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2364]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی گواہ نہ ہونے کے سبب جب کسی مسلمان کا حق مارا جا رہا ہو، یا اس کے مال یا جان کو نقصان لاحق ہو رہا ہو، تو ایسی صورت میں بغیر بلائے قاضی کے پاس جا کر گواہی دے دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأقضیة 9 (1719)، سنن ابی داود/الأقضیة 13 (3596)، سنن الترمذی/الشہادات 1 (2295، 2296)، (تحفة الأشراف: 3754)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة 2 (3) (صحیح)
29: بَابُ : الإِشْهَادِ عَلَى الدُّيُونِ
باب: قرض پر گواہ بنانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْجُبَيْرِيُّ ، وَجَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى حَتَّى بَلَغَ فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا سورة البقرة آية 282 ـ 283 فَقَالَ: هَذِهِ نَسَخَتْ مَا قَبْلَهَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے آیت کریمہ : «يا أيها الذين آمنوا إذا تداينتم بدين إلى أجل مسمى» کی تلاوت کی ، یہاں تک کہ «فإن أمن بعضكم بعضا» یعنی اے ایمان والو ! جب تم آپس میں ایک دوسرے سے میعاد مقرر پر قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو ، اور لکھنے والے کو چاہیئے کہ تمہارا آپس کا معاملہ عدل سے لکھے ، کاتب کو چاہیئے کہ لکھنے سے انکار نہ کرے جیسے اللہ تعالیٰ نے اسے سکھایا ہے ، پس اسے بھی لکھ دینا چاہیئے اور جس کے ذمہ حق ہو وہ لکھوائے اور اپنے اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے ، اور حق میں سے کچھ گھٹائے نہیں ، ہاں جس شخص کے ذمہ حق ہے وہ اگر نادان ہو یا کمزور ہو یا لکھوانے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کا ولی عدل کے ساتھ لکھوا دے ، اور اپنے میں سے دو مرد گواہ رکھ لو ، اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جنہیں تم گواہوں میں سے پسند کر لو ، تاکہ ایک کی بھول چوک کو دوسری یاد دلا دے ، اور گواہوں کو چاہیئے کہ وہ جب بلائے جائیں تو انکار نہ کریں اور قرض کو جس کی مدت مقرر ہے خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو لکھنے میں کاہلی نہ کرو ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بات بہت انصاف والی ہے اور گواہی کو بھی درست رکھنے والی اور شک و شبہ سے بھی زیادہ بچانے والی ہے ، ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ معاملہ نقد تجارت کی شکل میں ہو جو آپس میں تم لین دین کر رہے ہو تو تم پر اس کے نہ لکھنے میں کوئی گناہ نہیں ، خرید و فروخت کے وقت بھی گواہ مقرر کر لیا کرو ، اور ( یاد رکھو کہ ) نہ تو لکھنے والے کو نقصان پہنچایا جائے نہ گواہ کو اور اگر تم یہ کرو گے تو یہ تمہاری کھلی نافرمانی ہے ، اللہ تعالیٰ سے ڈرو ، اللہ تمہیں تعلیم دے رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے ۔ اور اگر تم سفر میں ہو اور لکھنے والا نہ پاؤ تو رہن قبضہ میں رکھ لیا کرو ، ہاں اگر آپس میں ایک دوسرے سے مطمئن ہو تو جیسے امانت دی گئی ہے وہ اسے ادا کر دے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے جو اس کا رب ہے ، اور گواہی کو نہ چھپاؤ اور جو اسے چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اسے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے ( سورۃ البقرہ : ۲۸۲ ، ۲۸۳ ) تک پہنچے تو فرمایا : اس آیت نے اس پہلی والی آیت کو منسوخ کر دیا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2365]
💡 وضاحت:
۱؎: اور بعض علماء نے کہا کہ سابقہ آیت منسوخ نہیں ہے اس لئے کہ وہ استحبابی حکم تھا، واجب نہ تھا اور مستحب یہی ہے کہ جب قرض لیا جائے تو اس کو لکھیں اور گواہ بنا لیں کیونکہ زندگی کا اعتبار نہیں ہے ایسا نہ ہو کہ دائن (قرض خواہ) یا مدیون (مقروض) مر جائے اور ان کے وارثوں میں جھگڑا ہو یا مدیون کے ذمہ قرض رہ جائے اس کے وارث ادا نہ کریں تو عاقبت کا مواخذہ رہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4364، ومصباح الزجاجة: 829) (حسن)
30: بَابُ : مَنْ لاَ تَجُوزُ شَهَادَتُهُ
باب: جن لوگوں کی گواہی جائز نہیں ہے ان کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلَا خَائِنَةٍ وَلَا مَحْدُودٍ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہ خائن مرد کی گواہی جائز ہے اور نہ خائن عورت کی ، اور نہ اس کی جس پر اسلام میں حد نافذ ہوئی ہو ، اور نہ اس کی جو اپنے بھائی کے خلاف کینہ و عداوت رکھے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2366]
💡 وضاحت:
۱؎: جس سے وہ کینہ رکھتا ہو اس کی گواہی جائز نہیں ہے، البتہ اگر اس کے فائدہ کے لئے گواہی دے تو قبول ہو گی، اہل حدیث کے نزدیک اس شخص کی شہادت جو عادل نہ ہو مقبول نہیں ہے، اس لئے کہ قرآن میں ہے: «وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ» (سورة الطلاق:2)، اور اپنے میں سے دو عادل کوگواہ کر لو غرض یہ کہ شہادت میں ضروری ہے کہ شاہد مسلمان ہو، آزاد ہو، مکلف ہو، یعنی عاقل بالغ ہو، عادل ہو، صاحب مروت ہو متہم نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ حجاج بن أرطاة ضعيف مدلس ¤ وللحديث شواھد ضعيفة وأصل الحديث صحيح بلفظ: ((لا تجوز شھادة خائن ولا خائنة ولا زان ولا زانية ولا ذ ي غمر علي أخيه)) (أبو داود: 3601) وسنده قوي ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 464
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8674)، ومصباح الزجاجة: 830)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/181، 203، 208) (حسن) (سند میں حجاج مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن ترمذی میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 2669)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ بَدَوِيٍّ عَلَى صَاحِبِ قَرْيَةٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” بدوی ( دیہات میں رہنے والے ) کی گواہی شہری ( بستی میں رہنے والے ) کے خلاف جائز نہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2367]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأقضیة 17 (3602)، (تحفة الأشراف: 14231) (صحیح)
31: بَابُ : الْقَضَاءِ بِالشَّاهِدِ وَالْيَمِينِ
باب: ایک گواہ اور مدعی کی قسم سے فیصلہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدِينِيُّ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّهْرِيُّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور ( مدعی کی ) قسم سے فیصلہ فرمایا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2368]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ اس صورت میں ہے جب مدعی کے پاس صرف ایک گواہ ہو تو اس سے دوسرے گواہ کی جگہ قسم کو قبول کر لیا جائے گا، جمہور کا یہی مذہب ہے، ان کا کہنا ہے کہ مالی معاملات میں ایک گواہ اور ایک قسم جائز ہے البتہ غیر مالی معاملات میں دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے، امام ابوحنیفہ کے نزدیک مالی معاملات ہوں یا غیر مالی معاملات دونوں صورتوں میں دو گواہوں کا ہونا لازمی ہے، اس باب کی ساری احادیث ان کے خلاف حجت ہیں ان کا استدلال: «وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ» (سورة الطلاق:2) اور «وَاسْتَشْهِدُواْ شَهِيدَيْنِ من رِّجَالِكُمْ» (سورة البقرة: 282) سے ہے لیکن ان کا استدلال کامل نہیں بالخصوص جبکہ وہ مفہوم مخالف کے قائل نہیں (تفصیل کے لیے دیکھئے اعلام الموقعین ج ۱ ص۳۲، ۲۸)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأقضیة 21 (3610، 3611)، سنن الترمذی/الأحکام 13 (1343)، (تحفة الأشراف: 12640) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور ( مدعی کی ) قسم سے فیصلہ فرمایا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2369]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأحکام 13 (1344)، (تحفة الأشراف: 2607)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/305) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْهَرَوِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَكِّيُّ ، أَخْبَرَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشَّاهِدِ وَالْيَمِينِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور ( مدعی کی ) قسم سے فیصلہ فرمایا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2370]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأقضیة 2 (1712)، سنن ابی داود/الأقضیة 21 (3608)، (تحفة الأشراف: 6299)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/248، 315، 323) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، عَنْ سُرَّقٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَجَازَ شَهَادَةَ الرَّجُلِ وَيَمِينَ الطَّالِبِ".
سرق ( ابن اسد جہنی ) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی کی قسم کے ساتھ ایک شخص کی گواہی کو جائز رکھا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2371]
💡 وضاحت:
۱؎: ابن الجوزی نے التحقیق میں کہا کہ اس حدیث کے راوی بیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور قسم پر فیصلہ فرمایا اور جمہور صحابہ اور تابعین کا یہی قول ہے کہ مدعی سے قسم لی جائے، اگر وہ قسم کھا لے تو اس کا دعوی ثابت ہو گیا، اور اگر قسم کھانے سے انکار کرے تو اب مدعی علیہ سے قسم لیں گے، اگر اس نے قسم کھا لی تو مدعی کا دعوی ساقط ہو گیا، اور اگر انکار کیا تو مدعی کا دعوی ثابت ہو گیا، اور پھر مدعی کا حق مدعی علیہ سے دلوایا جائے گا، الا یہ کہ وہ معاف کر دے، مگر یہ امر اموال کے دعوی میں ہو گا (یعنی ایک شاہد اور قسم پر فیصلہ) جب کہ حدود، نکاح، طلاق، عتاق،سرقہ اور قذف وغیرہ میں دو گواہ ضروری ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ رجل من أھل مصر مجھول وضعفه البوصيري من أجله ¤ ولأصل الحديث شاھد صحيح تقدم قبله (الأصل: 2370) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 464
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3822، ومصباح الزجاجة: 831)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/321) (صحیح) (سند میں مصری تابعی مبہم راوی ہیں، لیکن سابقہ شواہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
32: بَابُ : شَهَادَةِ الزُّورِ
باب: جھوٹی گواہی دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْعُصْفُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَسَدِيِّ ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا، فَقَالَ: " عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ بِالْإِشْرَاكِ بِاللَّهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ {30} حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ سورة الحج آية 30-31".
خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھائی ، جب فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے “ ، یہ جملہ آپ نے تین بار دہرایا ، پھر آیت کریمہ : «واجتنبوا قول الزور حنفاء لله غير مشركين به» ” جھوٹ بولنے سے بچو ، اللہ کے لیے سیدھے چلو ، اس کے ساتھ شرک نہ کرو “ ( سورة الحج : ۳۰-۳۱ ) کی تلاوت فرمائی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2372]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (3599) ترمذي (2299،2300) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 464
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأقضیة 15 (3599)، سنن الترمذی/الشہادات 3 (2310)، (تحفة الأشراف: 3525) (ضعیف) (سند میں سفیان کے والد زیاد عصفری اور حبیب بن نعمان دونوں مجہول ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُرَاتِ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَنْ تَزُولَ قَدَمُ شَاهِدِ الزُّورِ حَتَّى يُوجِبَ اللَّهُ لَهُ النَّارَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جھوٹی گواہی دینے والے کے پاؤں ( قیامت کے دن ) نہیں ٹلیں گے ، جب تک اللہ اس کے لیے جہنم کو واجب نہ کر دے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2373]
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ محمد بن فرات: كذبوه (تقريب: 6217) ¤ والحديث ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 464
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7417، ومصباح الزجاجة: 832، ومصباح الزجاجة: 832) (موضوع) (محمد بن الفرات کی امام احمد نے تکذیب کی ہے، نیز ملاحظہ: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1259)
33: بَابُ : شَهَادَةِ أَهْلِ الْكِتَابِ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ
باب: اہل کتاب کی ایک دوسرے کے خلاف گواہی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَجَازَ شَهَادَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ بَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب کی آپس میں ایک دوسرے کے خلاف گواہی کو جائز رکھا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2374]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (4452) ¤ وضعفه البوصيري من أجل مجالدبن سعيد (ضعيف،انظر الحديث السابق:11) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 464
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2356، ومصباح الزجاجة: 833) (ضعیف) (سند میں مجالد بن سعید ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 2668)
← پچھلی کتاب #16 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #18 →