سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2309
Sunan Ibn Majah 2309
کتاب #14: کتاب: قضا کے احکام و مسائل
1: بَابُ : ذِكْرِ الْقُضَاةِ
باب: قاضیوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَأَلَ الْقَضَاءَ وُكِلَ إِلَى نَفْسِهِ وَمَنْ جُبِرَ عَلَيْهِ نَزَلَ إِلَيْهِ آلِكْ فَسَدَّدَهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے عہدہ قضاء کا مطالبہ کیا ، وہ اپنے نفس کے حوالہ کر دیا جاتا ہے ، اور جو اس کے لیے مجبور کیا جائے تو اس کے لیے ایک فرشتہ اترتا ہے جو اسے درست بات کی رہنمائی کرتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2309]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (3578) ترمذي (1323،1324) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 462
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأقضیة 1 (3578)، سنن الترمذی/الأحکام 1 (1323)، (تحفة الأشراف: 256)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/118، 220) (ضعیف) (سند میں عبدالأعلی ضعیف راوی ہے)