📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: قضا کے احکام و مسائل (كتاب الأحكام) 🏷️ باب: باب: قاضیوں کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2310 Sunan Ibn Majah 2310
کتاب #14: کتاب: قضا کے احکام و مسائل
1: بَابُ : ذِكْرِ الْقُضَاةِ
باب: قاضیوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَبْعَثُنِي وَأَنَا شَابٌّ أَقْضِي بَيْنَهُمْ وَلَا أَدْرِي مَا الْقَضَاءُ، قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ اهْدِ قَلْبَهُ وَثَبِّتْ لِسَانَهُ"، قَالَ: فَمَا شَكَكْتُ بَعْدُ فِي قَضَاءٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن بھیجا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ مجھے ( قاضی بنا کر ) یمن بھیج رہے ہیں ، اور میں ( جوان ) ہوں ، لوگوں کے درمیان مجھے فیصلے کرنے ہوں گے ، اور میں یہ بھی نہیں جانتا کہ فیصلہ کیا ہوتا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا پھر فرمایا : ” اے اللہ ! اس کے دل کو ہدایت فرما ، اور اس کی زبان کو ثابت رکھ “ ، پھر اس کے بعد مجھے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں کبھی کوئی تردد اور شک نہیں ہوا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2310]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت سے علی رضی اللہ عنہ کے سینے پر جب ہلکی سی ضرب لگائی اور دعا فرمائی تو اس معجزے کا ظہور ہوا اور دعا کی قبولیت کی مثال سامنے آئی، یہ محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھی کے سینے پر ہاتھ رکھا اور دعا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے سینے کو علم قضا کے لیے کھول دیا، ایسا ہی معجزہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے سینے کو علم حدیث کے لیے کھول دیا، اور خود ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بھول جانے کی شکایت کی تو آپ نے ان کو ایک چادر دی جسے انہوں نے اپنے جسم سے لپیٹ لیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے حافظے کے تیز ہونے کی دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ ظاہر کیا اور اپنے محبوب نبی کی ایسی دعا قبول کی کہ ابوہریرہ صحابہ کرام میں احادیث شریفہ کے سب سے بڑے حافظ قرار پائے، جب کہ آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مصاحبت کا شرف بہت مختصر ملا کہ آپ غزوہ خیبر کے وقت محرم سن ۷ ہجری کو مدینہ آئے، اس طرح سے تقریباً سوا چار سال کی مدت آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزاری،اور پھر اللہ کا فضل ان پر اور اہل اسلام پر یہ ہوا کہ وہ یکسوئی کے ساتھ پوری زندگی حدیث کی خدمت کرتے رہے، یہاں تک کہ ۵۷ یا ۵۸ ہجری میں آپ کی وفات ہوئی رضی اللہ عنہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف ¤ أبو البختري سعيد بن فيروز لم يسمع من علي رضي اللّٰه عنه ولم يدركه،قاله أبو حاتم الرازي (المراسيل ص 74) فالسند منقطع وللحديث شاھد ضعيف عند أبي داود (3582) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 462
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10113)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأقضیة 6 (3582)، سنن الترمذی/الأحکام 5 (1331)، مسند احمد (1/83، 149) (صحیح) (سند میں ابو البختری سعید بن فیروز کا سماع علی رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر حسن یا صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 2600، ابوداود: 3582)
سنن ابن ماجه • حدیث #2310
2308 2309 2310 2311 2312

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#2308 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّ...
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص لوگوں کا قاضی ( ف...
#2309 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدّ...
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے عہدہ قضاء کا م...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ