سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2311
Sunan Ibn Majah 2311
کتاب #14: کتاب: قضا کے احکام و مسائل
2: بَابُ : التَّغْلِيظِ فِي الْحَيْفِ وَالرِّشْوَةِ
باب: ظلم اور رشوت پر وارد وعید کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ حَاكِمٍ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَلَكٌ آخِذٌ بِقَفَاهُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَإِنْ قَالَ: أَلْقِهِ أَلْقَاهُ فِي مَهْوَاةٍ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو حاکم بھی لوگوں کے درمیان فیصلے کرتا ہے ، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ ایک فرشتہ اس کی گدی پکڑے ہوئے ہو گا ، پھر وہ فرشتہ اپنا سر آسمان کی طرف اٹھائے گا ، اگر حکم ہو گا کہ اس کو پھینک دو ، تو وہ اسے ایک ایسی کھائی میں پھینک دے گا جس میں وہ چالیس برس تک گرتا چلا جائے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2311]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ مجالد: ضعيف ¤ والسند ضعفه البو صيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 462
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9566، ومصباح الزجاجة: 813)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/430) (ضعیف) (سند میں مجالد بن سعید ضعیف راوی ہے)