سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2320
Sunan Ibn Majah 2320
کتاب #14: کتاب: قضا کے احکام و مسائل
6: بَابُ : مَنِ ادَّعَى مَا لَيْسَ لَهُ وَخَاصَمَ فِيهِ
باب: جس نے دوسرے کے مال پر دعویٰ کر کے اس میں جھگڑا کیا اس پر وارد وعید کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ سَوَاءٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَعَانَ عَلَى خُصُومَةٍ بِظُلْمٍ أَوْ يُعِينُ عَلَى ظُلْمٍ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی جھگڑے میں کسی کی ناحق مدد کرے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس سے ناراض رہے گا یہاں تک کہ وہ ( اس سے ) باز آ جائے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2320]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کام سے توبہ کر لے اور اس کو چھوڑ دے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأقضیة 14 (3598)، (تحفة الأشراف: 8445) (صحیح) (سند میں مطر الوارق ضعیف راوی ہیں، لیکن حدیث متابعات کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 7/ 350 و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 437، 1021)