سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2321
Sunan Ibn Majah 2321
کتاب #14: کتاب: قضا کے احکام و مسائل
7: بَابُ : الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ
باب: مدعی اپنے دعوے کے حق میں گواہی پیش کرے اور مدعیٰ علیہ (یعنی جس کے خلاف دعویٰ ہے) اس پر قسم کھائے۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمُ ادَّعَى نَاسٌ دِمَاءَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَهُمْ وَلَكِنْ الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر لوگوں کو ان کے دعویٰ کے مطابق دے دیا جائے ، تو لوگ دوسروں کی جان اور مال کا ( ناحق ) دعویٰ کر بیٹھیں گے ، لیکن مدعیٰ علیہ کو قسم کھانا چاہیئے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2321]
💡 وضاحت:
۱؎: جب مدعی کے پاس گواہ نہ ہو اور مدعی علیہ قسم کھا لے تو وہ دعویٰ سے بری ہو گیا، اگر مدعی علیہ قسم اٹھانے پر تیار نہ ہو تو وہ دعویٰ کے مطابق مدعی کا حق ادا کرے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الرہن 6 (2514)، الشہادات 20 (2668)، تفسیر سورة آل عمران 3 (4552)، صحیح مسلم/الاقضیة 1 (1711)، سنن ابی داود/الاقضیة 23 (3619)، سنن الترمذی/الاحکام 12 (1342)، سنن النسائی/آداب القضاة 35 (5427)، (تحفة الأشراف: 5792)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/253، 288، 343، 351، 356، 363) (صحیح)