سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2322
Sunan Ibn Majah 2322
کتاب #14: کتاب: قضا کے احکام و مسائل
7: بَابُ : الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ
باب: مدعی اپنے دعوے کے حق میں گواہی پیش کرے اور مدعیٰ علیہ (یعنی جس کے خلاف دعویٰ ہے) اس پر قسم کھائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ لِلْيَهُودِيِّ: " احْلِفْ"، قُلْتُ: إِذًا يَحْلِفَ فِيهِ فَيَذْهَبَ بِمَالِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ".
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی ، اس نے میرے حصہ کا انکار کر دیا ، تو میں اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس گواہ ہیں “ ؟ میں نے عرض کیا : نہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے کہا : ” تم قسم کھاؤ “ ، میں نے عرض کیا : تب تو وہ قسم کھا لے گا اور میرا مال ہڑپ کر جائے گا ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ( سورة آل عمران : 77 ) ” جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑا مال لیتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے بات تک نہیں کرے گا ، نہ قیامت کے دن ان پر رحمت کی نگاہ ڈالے گا ، نہ گناہوں سے ان کو پاک کرے گا ، اور ان کو نہایت درد ناک عذاب ہوتا رہے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2322]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المسافات 4 (2356، 2357)، الرہن 6 (2515، 2516)، الخصومات 4 (2416، 2417)، الأحکام 30 (7183، 7184)، صحیح مسلم/الایمان 61 (138)، سنن ابی داود/الأقضیة 25 (3621)، سنن الترمذی/البیوع 42 (1269)، (تحفة الأشراف: 158، 9244)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/211) (صحیح)