سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2362
Sunan Ibn Majah 2362
کتاب #14: کتاب: قضا کے احکام و مسائل
27: بَابُ : كَرَاهِيَةِ الشَّهَادَةِ لِمَنْ لَمْ يُسْتَشْهَدْ
باب: بغیر طلب کئے خود سے گواہی دینے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: " قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَبْدُرُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : کون سے لوگ بہتر ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے زمانہ والے ، پھر جو لوگ ان سے نزدیک ہوں ، پھر وہ جو ان سے نزدیک ہوں ، پھر ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن کی گواہی ان کی قسم سے اور قسم گواہی سے سبقت کر جائے گی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2362]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی گواہی دینے اور قسم کھانے کے بڑے حریص ہوں گے، ہر وقت ا س کے لیے تیار رہیں گے ذرا بھی احتیاط سے کام نہیں لیں گے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الشہادات 9 (2652)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 52 (2533)، سنن الترمذی/المناقب 57 (3859)، (تحفة الأشراف: 9403)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 378، 417، 434، 438، 442) (صحیح)