سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2361
Sunan Ibn Majah 2361
کتاب #14: کتاب: قضا کے احکام و مسائل
26: بَابُ : مَنْ وَجَدَ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ
باب: ایک شخص کا دیوالیہ ہو گیا اور کسی نے اپنا مال اس کے پاس پا لیا تو اس کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا الْيَمَانُ بْنُ عَدِيٍّ ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا امْرِئٍ مَاتَ وَعِنْدَهُ مَالُ امْرِئٍ بِعَيْنِهِ اقْتَضَى مِنْهُ شَيْئًا أَوْ لَمْ يَقْتَضِ فَهُوَ أُسْوَةٌ لِلْغُرَمَاءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص مر جائے ، اور اس کے پاس کسی کا مال بعینہ موجود ہو ، خواہ اس کی قیمت سے کچھ وصول کیا ہو یا نہیں ، وہ ہر حال میں دوسرے قرض خواہوں کے مانند ہو گا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2361]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ قال الدارقطني (3/ 29): ”اليمان بن عدي ضعيف الحديث“ ¤ و الحديث السابق (الأصل: 2360) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 464
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15268) (صحیح)