سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2348
Sunan Ibn Majah 2348
کتاب #14: کتاب: قضا کے احکام و مسائل
20: بَابُ : الْقَضَاءِ بِالْقُرْعَةِ
باب: قرعہ اندازی کے ذریعہ فیصلہ کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: " أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَهُوَ بِالْيَمَنِ فِي ثَلَاثَةٍ قَدْ وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ فَسَأَلَ اثْنَيْنِ، فَقَالَ: أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ فَقَالَا: لَا، ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ، فَقَالَ: أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ فَقَالَا: لَا، فَجَعَلَ كُلَّمَا سَأَلَ اثْنَيْنِ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ قَالَا: لَا، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالَّذِي أَصَابَتْهُ الْقُرْعَةُ، وَجَعَلَ عَلَيْهِ ثُلُثَيِ الدِّيَةِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جب یمن میں تھے ، تو ان کے پاس یہ مقدمہ آیا کہ تین آدمیوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر میں صحبت کی تھی ، تو انہوں نے پہلے دو آدمیوں سے پوچھا : کیا تم دونوں اس بات کا اقرار کرتے ہو کہ یہ لڑکا اس تیسرے شخص کا ہے ؟ ان دونوں نے کہا : نہیں ، پھر دو کو الگ کیا ، اور ان سے پوچھا : کیا تم دونوں اقرار کرتے ہو کہ یہ لڑکا اس تیسرے شخص کا ہے ؟ اس طرح جب وہ دو دو سے پوچھتے کہ تم اس لڑکے کو تیسرے کا کہتے ہو ؟ تو وہ انکار کرتے ، آخر انہوں نے قرعہ اندازی کی ، اور جس کے نام قرعہ نکلا وہ لڑکا اس کو دلایا ، اور دو تہائی کی دیت اس پر لازم کر دی ، اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ ہنسے ، یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت ظاہر ہو گئے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2348]
💡 وضاحت:
۱؎: ہنسی کی وجہ یہ تھی کہ یہ فیصلہ عجیب طور کا تھا، اور دو تہائی دیت کی اس سے اس لئے دلوائی کہ دعوی کے مطابق اس لڑکے میں تینوں شریک تھے، اب قرعہ جھگڑا ختم کرنے کے لئے کیا، نہ نسب ثابت کرنے کے لئے، تو اس شخص کو بچہ کا دو تہائی کا بدلہ دوسرے دعویداروں کو دینا پڑا اور یہ علی رضی اللہ عنہ کی اپنی رائے تھی، لیکن ابوداود نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی صورت میں یہ حکم فرمایا: وہ بچہ اپنی ماں کے پاس رہے گا، اور کسی سے اس کا نسب ثابت نہ ہو گا، نہ وہ ان دعویداروں میں سے کسی مرد کا وارث ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطلاق 32 (2270)، سنن النسائی/الطلاق 50 (3518)، (تحفة الأشراف: 3670)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/373، 474) (صحیح)