سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2345
Sunan Ibn Majah 2345
کتاب #14: کتاب: قضا کے احکام و مسائل
20: بَابُ : الْقَضَاءِ بِالْقُرْعَةِ
باب: قرعہ اندازی کے ذریعہ فیصلہ کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، " أَنَّ رَجُلًا كَانَ لَهُ سِتَّةُ مَمْلُوكِينَ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَأَعْتَقَهُمْ عِنْدَ مَوْتِهِ فَجَزَّأَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص کے چھ غلام تھے ، ان غلاموں کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا ، مرتے وقت اس نے ان سب کو آزاد کر دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حصے کئے ( دو دو کے تین حصے ) ( اور قرعہ اندازی کر کے ) دو کو ( جن کے نام قرعہ نکلا ) آزاد کر دیا ، اور چار کو بدستور غلام رکھا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2345]
💡 وضاحت:
۱؎: جب آدمی بیمار ہو تو اس کو چاہئے کہ وارثوں کا خیال رکھے، اور اپنی ساری دولت تقسیم نہ کر دے، اگر ایسا ہی ضروری ہو تو تہائی مال تک اللہ کی راہ میں دے دے، اور دو تہائی دولت وارثوں کے لئے چھوڑ دے، اگر ساری دولت کے صدقہ کی وہ وصیت کرے تو یہ وصیت تہائی مال ہی میں نافذ ہو گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا، دو غلاموں کو قرعہ ڈال کر آزاد کرایا، اور قرعہ اس واسطے ڈالا کہ وہ جھگڑا نہ کریں، اور وہ وارثوں کی ملکیت میں بدستور غلام رہے، دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے حق میں سخت کلمہ کہا کیونکہ اس نے وارثوں کا خیال نہیں رکھا تھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحدود 5 (1668)، سنن ابی داود/الحدود 25 (3958، 3959)، سنن الترمذی/الأحکام 27 (1364)، (تحفة الأشراف: 10880)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجنائز65 (1960)، مسند احمد (4/420، 435، 437، 440) (صحیح)