📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: قضا کے احکام و مسائل (كتاب الأحكام) 🏷️ باب: باب: غصہ کی حالت میں حاکم و قاضی فیصلہ نہ کرے۔
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2316 Sunan Ibn Majah 2316
کتاب #14: کتاب: قضا کے احکام و مسائل
4: بَابُ : لاَ يَحْكُمُ الْحَاكِمُ وَهُوَ غَضْبَانُ
باب: غصہ کی حالت میں حاکم و قاضی فیصلہ نہ کرے۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَقْضِي الْقَاضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ"، قَالَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ: لَا يَنْبَغِي لِلْحَاكِمِ أَنْ يَقْضِيَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قاضی غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے “ ۱؎ ۔ ہشام کی روایت کے الفاظ ہیں : ” حاکم کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2316]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو غصہ کی حالت میں زبیر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ایک انصاری کے ساتھ کیا تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی کیونکہ آپ حالت غضب اور رضا دونوں میں معصوم تھے، اور ظاہر یہ ہے کہ ممانعت تحریمی ہے، اس پر جمہور علماء نے یہ کہا ہے کہ اگر کوئی غصہ کی حالت میں فیصلہ کرے اور وہ فیصلہ حق ہو تو صحیح ہو گا، علامہ ابن القیم کہتے ہیں کہ مفتی سخت غصہ، یا زیادہ بھوک، یا زیادہ قلق، یا پریشان کن خوف و ڈر، یا نیند کا غلبہ، یا پاخانہ پیشاب کی حاجت میں فتوی نہ دے، اسی طرح جب دل اور طرف لگا ہوا ہو، بلکہ جب آدمی یہ محسوس کرے کہ مذکورہ امور کی وجہ سے وہ اعتدال کی حالت سے باہر چلا گیا ہے، اور اس کی تحقیق و جستجو کی قدرت متاثر ہو گئی ہے، تو اس کو فتویٰ سے رک جانا چاہئے، اس پر بھی اگر وہ ان حالتوں میں فتویٰ دیتا ہے تو اس کا فتویٰ صحیح ہے لیکن اگر ایسی حالت میں فیصلہ کرتا ہے، تو کیا اس کا فیصلہ نافذ ہو گا، یا نہیں نافذ ہو گا؟ اس بارے میں امام احمد کے مذہب میں تین اقوال ہیں: پہلا یہ کہ نافذ ہو گا، دوسرا یہ کہ نافذ نہیں ہو گا، تیسرا یہ کہ مسئلہ کو سمجھنے کے بعد اگر غصہ ہو تو اس میں نافذ ہو گا، اور اگر مسئلہ کے سمجھنے سے پہلے غصہ ہو تو نافذ نہیں ہو گا۔ (ملاحظہ ہو: الروضۃ الندیۃ۳/۲۳۳)
قال الشيخ الألباني: صحيح باللفظ الأول
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأحکام 13 (7158)، صحیح مسلم/الأقضیة 7 (1717)، سنن ابی داود/الأقضیة 9 (3589)، سنن الترمذی/الأحکام 7 (1334)، سنن النسائی/آداب القضاة 17 (5408)، 31 (5423)، (تحفة الأشراف: 11676)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/36، 37، 38، 46، 52) (صحیح)
سنن ابن ماجه • حدیث #2316
2314 2315 2316 2317 2318
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ