سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2225
Sunan Ibn Majah 2225
کتاب #13: کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
36: بَابُ : النَّهْيِ عَنِ الْغِشِّ
باب: دھوکا دینا منع ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي الْحَمْرَاءِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِجَنَبَاتِ رَجُلٍ عِنْدَهُ طَعَامٌ فِي وِعَاءٍ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ، فَقَالَ: " لَعَلَّكَ غَشَشْتَهُ مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا".
ابوالحمراء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ ایک شخص کے پاس سے گزرے جس کے پاس ایک برتن میں گیہوں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس گیہوں میں ڈالا پھر فرمایا : ” شاید تم نے دھوکا دیا ہے ، جو ہمیں دھوکا دے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2225]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف جدًا ¤ أبو داود الأعمي متھم بالكذب ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 458
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11889، ومصباح الزجاجة: 781) (ضعیف جدا) (سند میں ابوداؤد نفیع بن الحارث الاعمی متروک الحدیث راوی ہیں، امام بخاری نے ابوالحمراء کے ترجمہ میں کہا کہ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ صحابی ہیں، ان کی حدیث صحیح نہیں ہے، یعنی ابوداؤد الاعمی کے متروک الحدیث ہونے کی وجہ سے، نیز ملاحظہ ہو: تہذیب الکمال للمزی 33/ 258)۔