سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2297
Sunan Ibn Majah 2297
کتاب #13: کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
66: بَابُ : مَا لِلْعَبْدِ أَنْ يُعْطِيَ وَيَتَصَدَّقَ
باب: غلام کسی کو کیا دے سکتا ہے اور کیا صدقہ کر سکتا ہے؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ: كَانَ مَوْلَايَ يُعْطِينِي الشَّيْءَ، فَأُطْعِمُ مِنْهُ، فَمَنَعَنِي، أَوْ قَالَ: فَضَرَبَنِي، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سَأَلَهُ، فَقُلْتُ: لَا أَنْتَهِي أَوْ لَا أَدَعُهُ؟، فَقَالَ: " الْأَجْرُ بَيْنَكُمَا".
عمیر مولی آبی اللحم رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے مالک مجھے کوئی چیز دیتے تو میں اس میں سے اوروں کو بھی کھلا دیتا تھا تو انہوں نے مجھ کو ایسا کرنے سے روکا یا کہا : انہوں نے مجھے مارا ، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : یا اسی مالک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : میں نے عرض کیا : میں اس سے باز نہیں آ سکتا ، یا میں اسے چھوڑ نہیں سکتا ( کہ مسکین کو کھانا نہ کھلاؤں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم دونوں کو اس کا اجر ملے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2297]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الزکاة 26 (1025)، سنن النسائی/الزکاة 56 (2538)، (تحفة الأشراف: 10899) (صحیح)