سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2214
Sunan Ibn Majah 2214
کتاب #13: کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
32: بَابُ : النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا
باب: استعمال کے لائق ہونے سے پہلے درخت کے کچے پھل کو بیچنا منع ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَةَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پختگی ظاہر ہونے سے پہلے پھلوں کو نہ بیچو ، آپ نے اس سے بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو منع کیا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2214]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی درخت پر جو پھل لگے ہوں ان کا بیچنا اس وقت تک جائز نہیں، جب تک کہ وہ پھل استعمال کے قابل نہ ہو جائیں، موجودہ دور میں کئی سالوں کے لئے باغات بیچ لیے جاتے ہیں جب کہ نہ پھول کا پتہ ہے نہ پھل کا، یہ بالکل حرام ہے، مسلمانوں کو اس طرح کی تجارت سے بچنا چاہئے اور حدیث کے مطابق جب پھل قابل استعمال ہو تب بیچنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/البیوع 26 (4526)، (تحفة الأشراف: 8302)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة 8 (1486)، البیوع 82 (2183)، 85 (2194)، 87 (2199)، صحیح مسلم/البیوع 13 (1534)، 14 (1534)، سنن ابی داود/البیوع 23 (3367)، سنن الترمذی/البیوع 15 (1226)، موطا امام مالک/البیوع 8 (10)، مسند احمد (2/7، 8، 16، 46، 56، 59، 61، 80، 133)، سنن الدارمی/البیوع 21 (2597) (صحیح)