سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2264
Sunan Ibn Majah 2264
کتاب #13: کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
53: بَابُ : بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ
باب: «رطب» (تازہ کھجور) کو سوکھی کھجور کے بدلے بیچنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَإِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ مَوْلًى لِبَنِي زُهْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ اشْتِرَاءِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ؟، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: أَيَّتُهُمَا أَفْضَلُ، قَالَ: الْبَيْضَاءُ فَنَهَانِي عَنْهُ، وَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ اشْتِرَاءِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ، فَقَالَ: " أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ.
بنی زہرۃ کے غلام زید ابوعیاش کہتے ہیں کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے پوچھا : سالم جَو کو چھلکا اتارے ہوئے جَو کے بدلے خریدنا کیسا ہے ؟ سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : دونوں میں سے کون بہتر ہے ؟ کہا : سالم جو ، تو سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے اس سے روکا ، اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب تر کھجور کو خشک کھجور سے بیچنے کے بارے میں پوچھا گیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” کیا تر کھجور سوکھ جانے کے بعد ( وزن میں ) کم ہو جاتی ہے ؟ لوگوں نے کہا : ہاں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2264]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/البیوع 18 (3359، 3360)، سنن الترمذی/البیوع 14 (1225)، سنن النسائی/البیوع 34 (4549)، (تحفة الأشراف: 3854)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 12 (22)، مسند احمد (1/175، 179) (صحیح)