📖 جامع الترمذي (Jami at-Tirmidhi) • تمام کتب ↗

كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم

کتاب: طب (علاج و معالجہ) کے احکام و مسائل

کتاب #29 • کل احادیث: 67
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: باب مَا جَاءَ فِي الْحِمْيَةِ
باب: پرہیزی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ الظَّفَرِيُّ هُوَ أَخُو أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لِأُمِّهِ، وَمَحْمُودُ بْنُ لَبِيدٍ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَآهُ وَهُوَ غُلَامٌ صَغِيرٌ.
قتادہ بن نعمان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے دنیا سے اسی طرح بچاتا ہے ، جس طرح تم میں سے کوئی آدمی اپنے بیمار کو پانی سے بچاتا ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث محمود بن لبید کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل طریقہ سے آئی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں صہیب اور ام منذر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2036]
💡 وضاحت:
۱؎: اللہ کی نظر میں جب اس کا کوئی بندہ محبوب ہو جاتا ہے تو اس کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ اس کی دنیا ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ اپنے اس محبوب بندے کو دنیا سے ٹھیک اسی طرح بچاتا اور اسے محفوظ رکھتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بیمار کو کھانے اور پانی سے بچاتا ہے، کیونکہ اسے جو مرض لاحق ہے اس میں کھانا پانی اس کے لیے بےحد مضر اور نقصان دہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (5250 / التحقيق الثاني)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ الظَّفَرِيُّ هُوَ أَخُو أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لِأُمِّهِ، وَمَحْمُودُ بْنُ لَبِيدٍ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَآهُ وَهُوَ غُلَامٌ صَغِيرٌ.
اس سند سے محمود بن لبید سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ، اس میں قتادہ بن نعمان رضی الله عنہ کا تذکرہ نہیں ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- قتادہ بن نعمان ظفری ، ابو سعید خدری کے اخیافی ( ماں شریک ) بھائی ہیں ، ¤ ۲- محمود بن لبید نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے اور کم سنی میں آپ کو دیکھا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2036M]
قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (5250 / التحقيق الثاني)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَعْقُوبَ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ الْأَنْصَارِيَّةِ فِي حَدِيِثِهِ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: أَنْفَعُ لَكَ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَحَدَّثَنِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، هَذَا حَدِيثٌ جَيِّدٌ غَرِيبٌ.
ام منذر رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی رضی الله عنہ کے ساتھ میرے گھر تشریف لائے ، ہمارے گھر کھجور کے خوشے لٹکے ہوئے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کھانے لگے اور آپ کے ساتھ علی رضی الله عنہ بھی کھانے لگے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ سے فرمایا : علی ! ٹھہر جاؤ ، ٹھہر جاؤ ، اس لیے کہ ابھی ابھی بیماری سے اٹھے ہو ، ابھی کمزوری باقی ہے ، ام منذر کہتی ہیں : علی رضی الله عنہ بیٹھ گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھاتے رہے ، پھر میں نے ان کے لیے چقندر اور جو تیار کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : علی ! اس میں سے لو ( کھاؤ ) ، یہ تمہارے مزاج کے موافق ہے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف فلیح کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- یہ حدیث فلیح سے بھی مروی ہے جسے وہ ایوب بن عبدالرحمٰن سے روایت کرتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2037]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مریض اپنے مزاج و طبیعت کا خیال رکھتے ہوئے کھانے پینے کی چیزوں سے پرہیز کرے، ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا کہ مرض سے شفاء یابی کے بعد بھی بیمار احتیاط برتتے ہوئے نقصان دہ چیزوں کے کھانے پینے سے پرہیز کرے۔
قال الشيخ الألباني: حسن انظر ما بعده (2038)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَعْقُوبَ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ الْأَنْصَارِيَّةِ فِي حَدِيِثِهِ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: أَنْفَعُ لَكَ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَحَدَّثَنِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، هَذَا حَدِيثٌ جَيِّدٌ غَرِيبٌ.
اس سند سے بھی ام منذر انصاریہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ۔ اس کے بعد راوی نے یونس بن محمد کی حدیث جیسی حدیث بیان کی جسے وہ فلیح بن سلیمان سے روایت کرتے ہیں مگر اس میں «أوفق لك» کے بجائے «أنفع لك» ” تمہارے لیے زیادہ مفید ہے “ بیان کیا ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث جید غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2037M]
قال الشيخ الألباني: حسن انظر ما بعده (2038)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (حسن)
2: باب مَا جَاءَ فِي الدَّوَاءِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِ
باب: علاج کرنے کی ترغیب کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: قَالَتْ الْأَعْرَابُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَتَدَاوَى؟ قَالَ: " نَعَمْ يَا عِبَادَ اللَّهِ، تَدَاوَوْا، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ شِفَاءً، أَوْ قَالَ: دَوَاءً، إِلَّا دَاءً وَاحِدًا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُوَ؟ قَالَ: الْهَرَمُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
اسامہ بن شریک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اعرابیوں ( بدوؤں ) نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا ہم ( بیماریوں کا ) علاج کریں ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، اللہ کے بندو ! علاج کرو ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بیماری پیدا کی ہے اس کی دوا بھی ضرور پیدا کی ہے ، سوائے ایک بیماری کے “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ کون سی بیماری ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” بڑھاپا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن مسعود ، ابوہریرہ ، «ابو خزامہ عن أبیہ» ، اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2038]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ مرض کے ساتھ ساتھ رب العالمین نے دوا اور علاج کا بھی بندوبست فرمایا ہے، لیکن بڑھاپا ایسا مرض ہے جس کا کوئی علاج نہیں، یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس سے پناہ مانگتے تھے، یہ بھی معلوم ہوا کہ علاج و معالجہ کرنا مباح ہے اور مرض کی شفاء کے لیے اسباب تلاش کرنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3436)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الطب 1 (3855)، سنن ابن ماجہ/الطب 1 (3436) (تحفة الأشراف: 127) (صحیح)
3: باب مَا جَاءَ مَا يُطْعَمُ الْمَرِيضُ
باب: مریض کو کیا کھلایا جائے؟
مکمل مطالعہ →
وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو إِسْحَاق الطَّالْقَانِيُّ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کو تپ دق آتا تو آپ «حساء» ۱؎ تیار کرنے کا حکم دیتے ، «حساء» تیار کیا جاتا ، پھر آپ ان کو تھوڑا تھوڑا پینے کا حکم دیتے ، تو وہ اس میں سے پیتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ” «حساء» غمگین کے دل کو تقویت دیتا ہے ، اور مریض کے دل سے اسی طرح تکلیف دور کرتا ہے ، جس طرح تم میں سے کوئی پانی کے ذریعہ اپنے چہرے سے میل دور کرتا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2039]
💡 وضاحت:
۱؎: کتاب الطب میں روایت ہے کہ عائشہ رضی الله عنہا مریض اور میت پر غم کرنے والے کو تلبینہ پینے کا حکم دیتی تھیں اور کہتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے: تلبینہ مریض کے دل کو راحت اور سکون پہنچاتا ہے، اور غم کو کچھ ہلکا کرتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (3445) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (752)، المشكاة (4234) //
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأطعمة 24 (5417)، والطب 8 (5689، 5690)، صحیح مسلم/السلام 30 (2216) (تحفة الأشراف: 16539، 16744) (صحیح) (تحفة الأشراف میں ہے کہ ترمذی نے کہا: وقد روى الزهري عن عروة عن عائشة شيئا من هذا)
مکمل مطالعہ →
وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو إِسْحَاق الطَّالْقَانِيُّ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ.
ابن مبارک نے یہ حدیث «عن يونس عن الزهري عن عروة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2039M]
💡 وضاحت:
۱؎: کتاب الطب میں روایت ہے کہ عائشہ رضی الله عنہا مریض اور میت پر غم کرنے والے کو تلبینہ پینے کا حکم دیتی تھیں اور کہتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے: تلبینہ مریض کے دل کو راحت اور سکون پہنچاتا ہے، اور غم کو کچھ ہلکا کرتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (3445) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (752)، المشكاة (4234) //
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأطعمة 24 (5417)، والطب 8 (5689، 5690)، صحیح مسلم/السلام 30 (2216) (تحفة الأشراف: 16539، 16744) (صحیح) (تحفة الأشراف میں ہے کہ ترمذی نے کہا: وقد روى الزهري عن عروة عن عائشة شيئا من هذا)
4: باب مَا جَاءَ لاَ تُكْرِهُوا مَرْضَاكُمْ عَلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ
باب: ارشاد نبوی ہے: مریض کو کھانے پینے پر مجبور نہ کرو۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُكْرِهُوا مَرْضَاكُمْ عَلَى الطَّعَامِ فَإِنَّ اللَّهَ يُطْعِمُهُمْ وَيَسْقِيهِمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
عقبہ بن عامر جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے بیماروں کو کھانے پر مجبور نہ کرو ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں کھلاتا پلاتا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2040]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3444)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2040) إسناده ضعيف / جه 3444 ¤ بكر بن يونس بن بكير ضعيف (تق:754) ضعفه الجمھور ولحديثه شواھد ضعيفة عندالحاكم (410/4) وغيره
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الطب 4 (3444) (تحفة الأشراف: 9943) (صحیح)
5: باب مَا جَاءَ فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ
باب: کلونجی (شونیز) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ، فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ " إِلَّا السَّامَ، وَالسَّامُ: الْمَوْتُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ بُرَيْدَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ: هِيَ الشُّونِيزُ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ اس کالے دانہ ( کلونجی ) کو لازمی استعمال کرو اس لیے کہ اس میں «سام» کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء موجود ہے ، «سام» موت کو کہتے ہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں بریدہ ، ابن عمر اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- «الحبة السوداء» ، «شونيز» ( کلونجی ) کو کہتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2041]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3447)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الطب 7 (5688)، صحیح مسلم/السلام 29 (2215)، سنن ابن ماجہ/الطب 6 (3447) (تحفة الأشراف: 15148)، و مسند احمد (2/241، 261، 268، 343، 389، 423، 468، 484، 504، 510، 538) (صحیح)
6: باب مَا جَاءَ فِي شُرْبِ أَبْوَالِ الإِبِلِ
باب: علاج میں اونٹ کا پیشاب پینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، وَثَابِتٌ، وَقَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَاجْتَوَوْهَا، فَبَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ، وَقَالَ: " اشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، " قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ آئے ، انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہیں آئی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقہ کے اونٹوں کے ساتھ ( چراگاہ کی طرف ) روانہ کیا اور فرمایا : ” تم لوگ اونٹنیوں کے دودھ اور پیشاب پیو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2042]
💡 وضاحت:
۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ اور اونٹنی کا پیشاب علاج کی غرض سے انہیں پینے کا حکم دیا، اس سے معلوم ہوا کہ حلال جانوروں کا پیشاب پاک ہے، اگر ناپاک ہوتا تو اس کے پینے کی اجازت نہ ہوتی، کیونکہ حرام اور نجس چیز سے علاج درست نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح وقد مضى أتم منه (62)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم 72 (صحیح)
7: باب مَا جَاءَ فِيمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ أَوْ غَيْرِهِ
باب: زہر یا کسی اور ذریعہ سے خودکشی کرنے والے پر وارد وعید کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَرَاهُ رَفَعَهُ، قَالَ: " مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَتَوَجَّأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، خَالِدًا مُخَلَّدًا أَبَدًا، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ، فَسُمُّهُ فِي يَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا أَبَدًا ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے لوہے کے ہتھیار سے اپنی جان لی ، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے ہاتھ میں وہ ہتھیار ہو گا اور وہ اسے جہنم کی آگ میں ہمیشہ اپنے پیٹ میں گھونپکتا رہے گا ، اور جس نے زہر کھا کر خودکشی کی ، تو اس کے ہاتھ میں وہ زہر ہو گا ، اور وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ اسے پیتا رہے گا “ ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2043]
💡 وضاحت:
۱؎: اہل توحید کے سلسلہ میں متعدد روایات سے ثابت ہے کہ وہ جہنم میں اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر اس سے باہر آ جائیں گے، یہی وجہ ہے کہ علماء نے «خالدا مخلدا» کی مختلف توجیہیں کی ہیں: (۱) اس سے زجر و توبیخ مراد ہے، (۲) یہ اس شخص کی سزا ہے جس نے ایسا حلال و جائز سمجھ کر کیا ہو، (۳) اس عمل کی سزا یہی ہے لیکن اہل توحید پر اللہ کی نظر کرم ہے کہ یہ سزا دینے کے بعد پھر انہیں جہنم سے نکال لے گا، (۴) ہمیشہ ہمیش رہنے مراد لمبی مدت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3460)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الطب 56 (5778)، صحیح مسلم/الإیمان 47 (175)، سنن ابی داود/ الطب 11 (3872)، سنن النسائی/الجنائز 68 (1967)، سنن ابن ماجہ/الطب 11 (3460) (تحفة الأشراف: 12440)، و مسند احمد (2/254، 278، 488)، و سنن الدارمی/الدیات 10 (2407) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ، هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ، عُذِّبَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ " وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَهَكَذَا رَوَاهُ أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا أَصَحُّ لِأَنَّ الرِّوَايَاتِ إِنَّمَا تَجِيءُ بِأَنَّ أَهْلَ التَّوْحِيدِ يُعَذَّبُونَ فِي النَّارِ، ثُمَّ يُخْرَجُونَ مِنْهَا، وَلَمْ يُذْكَرْ أَنَّهُمْ يُخَلَّدُونَ فِيهَا.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے لوہے سے اپنی جان لی ، اس کے ہاتھ میں وہ ہتھیار ہو گا اور وہ اسے جہنم کی آگ میں ہمیشہ اپنے پیٹ میں گھونپکتا رہے گا ، اور جس نے زہر کھا کر خودکشی کی ، تو اس کے ہاتھ میں زہر ہو گا اور وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ اسے پیتا رہے گا ، اور جس نے پہاڑ سے گر کر خودکشی کی ، وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ گرتا رہے گا “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2044]
قال الشيخ الألباني: صحيح انظر ما قبله (2043)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 12466 و12526)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ، هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ، عُذِّبَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ " وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَهَكَذَا رَوَاهُ أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا أَصَحُّ لِأَنَّ الرِّوَايَاتِ إِنَّمَا تَجِيءُ بِأَنَّ أَهْلَ التَّوْحِيدِ يُعَذَّبُونَ فِي النَّارِ، ثُمَّ يُخْرَجُونَ مِنْهَا، وَلَمْ يُذْكَرْ أَنَّهُمْ يُخَلَّدُونَ فِيهَا.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ، جس طرح شعبہ کے طریق سے مروی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث صحیح ہے اور پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ، ¤ ۲- اسی طرح کئی لوگوں نے یہ حدیث «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے ، ¤ ۳- محمد بن عجلان نے «عن سعيد المقبري عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے ، آپ نے فرمایا : ” جس نے زہر کھا کر خودکشی کی ، وہ جہنم میں عذاب سے دو چار ہو گا “ ، اس حدیث میں راوی نے یہ نہیں ذکر کیا کہ ” وہ جہنم میں ہمیشہ رہے گا “ ، ابوالزناد نے بھی اسی طرح «عن الأعرج عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے ، یہ زیادہ صحیح ہے ، اس لیے کہ روایتوں میں آتا ہے کہ ” عذاب دیے جانے کے بعد اہل توحید کو جہنم سے نکالا جائے گا “ اور یہ مذکور نہیں ہے کہ ان کو ہمیشہ جہنم میں رکھا جائے گا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2044M]
قال الشيخ الألباني: صحيح انظر ما قبله (2043)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 12466 و12526)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: يَعْنِي السُّمَّ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبیث دوا استعمال کرنے سے منع فرمایا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ خبیث دوا سے وہ دوا مراد ہے جس میں زہر ہو ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2045]
💡 وضاحت:
۱؎: خبیث دوا میں وہ سب چیزیں داخل ہیں جو نجس ناپاک اور حرام ہوں اور انسانی طبائع جس سے نفرت کرتے ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3459)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الطب 11 (3870)، سنن ابن ماجہ/الطب 11 (3459) (تحفة الأشراف: 14346)، و مسند احمد (2/305، 446، 478) (صحیح)
8: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّدَاوِي بِالْمُسْكِرِ
باب: نشہ آور چیزوں سے دوا کرنے کی ممانعت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، وَشَبَابَةُ، عَنْ شُعْبَةَ بِمِثْلِهِ، قَالَ مَحْمُودٌ: قَالَ النَّضْرُ: طَارِقُ بْنُ سُوَيْدٍ، وَقَالَ شَبَابَةُ: سُوَيْدُ بْنُ طَارِقٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے جب سوید بن طارق یا طارق بن سوید نے آپ سے شراب کے بارے میں پوچھا تو آپ نے انہیں شراب سے منع فرمایا ، سوید نے کہا : ہم لوگ تو اس سے علاج کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ دوا نہیں بلکہ وہ تو خود بیماری ہے “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2046]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3500)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، وَشَبَابَةُ، عَنْ شُعْبَةَ بِمِثْلِهِ، قَالَ مَحْمُودٌ: قَالَ النَّضْرُ: طَارِقُ بْنُ سُوَيْدٍ، وَقَالَ شَبَابَةُ: سُوَيْدُ بْنُ طَارِقٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
اس سند سے بھی وائل رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ ( اس سند کے ایک راوی ) نضر نے طارق بن سوید کہا اور ( دوسرے راوی ) شبابہ نے سوید بن طارق کہا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2046M]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3500)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
9: باب مَا جَاءَ فِي السَّعُوطِ وَغَيْرِهِ
باب: ناک میں ڈالی جانے والی دوا وغیرہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَدُّوَيْهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ الشُّعَيْثِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ خَيْرَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ: السَّعُوطُ، وَاللَّدُودُ، وَالْحِجَامَةُ، وَالْمَشِيُّ "، فَلَمَّا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَدَّهُ أَصْحَابُهُ، فَلَمَّا فَرَغُوا، قَالَ: لُدُّوهُمْ، قَالَ: فَلُدُّوا كُلُّهُمْ غَيْرَ الْعَبَّاسِ ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس چیز سے علاج کرتے ہو اس میں سب سے بہتر «سعوط» ( ناک میں ڈالنے والی دوا ) ، «لدود» ( منہ کے ایک کنارہ سے ڈالی جانے والی دوا ) ، «حجامة» ( پچھنا لگانا حجامہ ) اور دست آور دوا ہے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو صحابہ نے آپ کے منہ کے ایک کنارہ میں دوا ڈالی ، جب وہ دوا ڈال چکے تو آپ نے فرمایا : ” موجود لوگوں کے بھی منہ میں دوا ڈالو “ ، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں : عباس رضی الله عنہ کے علاوہ تمام لوگوں کے منہ میں دوا ڈالی گئی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2047]
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (4473 / التحقيق الثاني)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2047،2048) إسناده ضعيف ¤ عباد بن منصور: ضعيف (تقدم: 662) ولبعض الحديث شواھد عند البخاري (5712) وغيره
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف وانظر حدیث رقم 1757 (لم یذکرہ المزي بھذا اللفظ، وإنما ذکرہ بلفظ ما مضی برقم 1757 (ضعیف) (سند میں عباد بن منصور مدلس اور مختلط راوی ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ خَيْرَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ: اللَّدُودُ، وَالسَّعُوطُ، وَالْحِجَامَةُ، وَالْمَشِيُّ، وَخَيْرُ مَا اكْتَحَلْتُمْ بِهِ: الْإِثْمِدُ، فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ "، قَالَ: وَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُكْحُلَةٌ يَكْتَحِلُ بِهَا عِنْدَ النَّوْمِ ثَلَاثًا فِي كُلِّ عَيْنٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ 75، وَهُوَ حَدِيثُ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس چیز سے تم علاج کرتے ہو ان میں سب سے بہتر منہ کے ایک کنارہ سے ڈالی جانے والی دوا ، ناک میں ڈالنے کی دوا ، پچھنا اور دست آور دوا ہے اور تمہارا اپنی آنکھوں میں لگانے کا سب سے بہتر سرمہ اثمد ہے ، اس لیے کہ وہ بینائی ( نظر ) کو بڑھاتا ہے اور بال اگاتا ہے “ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے سوتے وقت ہر آنکھ میں تین سلائی لگاتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ عباد بن منصور کی یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2048]
قال الشيخ الألباني: ضعيف إلا فقرة الاكتحال بالإثمد فصحيحة، ابن ماجة (3495 - 3497 - 3499)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2047،2048) إسناده ضعيف ¤ عباد بن منصور: ضعيف (تقدم: 662) ولبعض الحديث شواھد عند البخاري (5712) وغيره
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (ضعیف)
10: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّدَاوِي بِالْكَىِّ
باب: بدن داغ کر علاج کرنے کی کراہت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: " نُهِينَا عَنِ الْكَيِّ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدن داغنے سے منع فرمایا ۱؎ ، پھر بھی ہم بیماری میں مبتلا ہوئے تو ہم نے بدن داغ لیا ، لیکن ہم کامیاب و کامران نہیں ہوئے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2049]
💡 وضاحت:
۱؎: داغ کر علاج کرنے کی ممانعت نہی تنزیہی پر محمول ہے یعنی نہ داغنا بہتر ہے، ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ ممانعت عمران بن حصین کے ساتھ مخصوص ہے، کیونکہ اس بات کا امکان ہے کہ وہ کسی ایسے مرض میں مبتلا رہے ہوں جس میں بدن داغنے سے انہیں فائدہ کے بجائے نقصان پہنچنے والا ہو، دیکھئیے اگلی حدیث۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3490)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: " نُهِينَا عَنِ الْكَيِّ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
اس سند سے بھی عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں : ہم کو بدن داغنے سے منع کیا گیا ہے ۔ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن مسعود ، عقبہ بن عامر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2049M]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3490)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
11: باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
باب: بدن داغنے کی رخصت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَوَى أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ مِنَ الشَّوْكَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أُبَيٍّ، وَجَابِرٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسعد بن زرارہ کے بدن کو سرخ پھنسی کی بیماری میں داغا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابی اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2050]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ علاج کے طور پر بدن کو داغنا جائز ہے لیکن بلا ضرورت محض بیماری کے اندیشہ سے ایسا کرنا مکروہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (5434 / التحقيق الثانى)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1549) (صحیح)
12: باب مَا جَاءَ فِي الْحِجَامَةِ
باب: پچھنا لگوانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَجِمُ فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَالْكَاهِلِ، وَكَانَ يَحْتَجِمُ لِسَبْعَ عَشْرَةَ وَتِسْعَ عَشْرَةَ وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گردن کی دونوں جانب موجود دو پوشیدہ رگوں اور کندھے پر پچھنا لگواتے تھے ، اور آپ مہینہ کی سترہویں ، انیسویں اور اکیسویں تاریخ کو پچھنا لگواتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن عباس اور معقل بن یسار رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2051]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3483)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2051) إسناده ضعيف / د 3860، جه 3483
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الطب 4 (3860)، سنن ابن ماجہ/الطب 21 (3482) (تحفة الأشراف: 1147)، و مسند احمد (3/119) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلِ بْنِ قُرَيْشٍ الْيَامِّيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ أُسْرِيَ بِهِ: " أَنَّهُ لَمْ يَمُرَّ عَلَى مَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا أَمَرُوهُ: أَنْ مُرْ أُمَّتَكَ بِالْحِجَامَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات کا حال بیان کیا کہ آپ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرے انہوں نے آپ کو یہ حکم ضرور دیا کہ اپنی امت کو پچھنا لگوانے کا حکم دیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث ابن مسعود کی روایت سے حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2052]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3477)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2052) إسناده ضعيف ¤ عبدالرحمن بن إسحاق الكو فى الواسطي: ضعيف (تقدم: 741) وللحديث شواھد ضعيفة
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9364)، وانظر: مسند احمد (1/254) (صحیح) (سند میں عبدالرحمن بن اسحاق واسطی ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَال: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، يَقُولُ: كَانَ لِابْنِ عَبَّاسٍ غِلْمَةٌ ثَلَاثَةٌ حَجَّامُونَ، فَكَانَ اثْنَانِ مِنْهُمْ يُغِلَّانِ عَلَيْهِ وَعَلَى أَهْلِهِ، وَوَاحِدٌ يَحْجُمُهُ وَيَحْجُمُ أَهْلَهُ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نِعْمَ الْعَبْدُ الْحَجَّامُ، يُذْهِبُ الدَّمَ وَيُخِفُّ الصُّلْبَ، وَيَجْلُو عَنِ الْبَصَرِ ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ: وَقَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عُرِجَ بِهِ مَا مَرَّ عَلَى مَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا: عَلَيْكَ بِالْحِجَامَةِ ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ: " إِنَّ خَيْرَ مَا تَحْتَجِمُونَ فِيهِ: يَوْمَ سَبْعَ عَشْرَةَ، وَيَوْمَ تِسْعَ عَشْرَةَ، وَيَوْمَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ: " إِنَّ خَيْرَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ: السَّعُوطُ، وَاللَّدُودُ، وَالْحِجَامَةُ، وَالْمَشِيُّ ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَدَّهُ الْعَبَّاسُ وَأَصْحَابُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَدَّنِي؟ فَكُلُّهُمْ أَمْسَكُوا، فَقَالَ: لَا يَبْقَى أَحَدٌ مِمَّنْ فِي الْبَيْتِ إِلَّا لُدَّ غَيْرَ عَمِّهِ الْعَبَّاسِ، قَالَ عَبْدٌ: قَالَ: النَّضْرُ اللَّدُودُ الْوَجُورُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ.
عکرمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی الله عنہما کے پاس پچھنا لگانے والے تین غلام تھے ، ان میں سے دو ابن عباس اور ان کے اہل و عیال کے لیے غلہ حاصل کرتے تھے اور ایک غلام ان کو اور ان کے اہل و عیال کو پچھنا لگاتا تھا ، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پچھنا لگانے والا غلام کیا ہی اچھا ہے ، وہ ( فاسد ) خون کو دور کرتا ہے ، پیٹھ کو ہلکا کرتا ہے ، اور آنکھ کو صاف کرتا ہے “ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم معراج میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرے انہوں نے یہ ضرور کہا کہ تم پچھنا ضرور لگواؤ ، آپ نے فرمایا : ” تمہارے پچھنا لگوانے کا سب سے بہتر دن مہینہ کی سترہویں ، انیسویں اور اکیسویں تاریخ ہے “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا : ” سب سے بہتر علاج جسے تم اپناؤ وہ ناک میں ڈالنے کی دوا ، منہ کے ایک طرف سے ڈالی جانے والی دوا ، پچھنا اور دست آور دوا ہے “ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں عباس اور صحابہ کرام نے دوا ڈالی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” میرے منہ میں کس نے دوا ڈالی ہے ؟ “ تمام لوگ خاموش رہے تو آپ نے فرمایا : ” گھر میں جو بھی ہو اس کے منہ میں دوا ڈالی جائے ، سوائے آپ کے چچا عباس کے “ ۔ راوی عبد کہتے ہیں : نضر نے کہا : «لدود» سے مراد «وجور» ہے ( حلق میں ڈالنے کی ایک دوا ) ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف عباد منصور ہی کی روایت سے جانتے ہیں ۔ ¤ ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2053]
قال الشيخ الألباني: (كان لابن عباس..) ضعيف الإسناد، (نعم العبد..) ضعيف، (إن خير ما تحتجمون..) **، (إن خير ما تداويتم..) ضعيف، (لا يبقى ممن ...) صحيح - دون قوله " لده العباس " بل هو منكر لمخالفته لقوله صلى الله عليه وسلم في حديث عائشة نحوه بلفظ " غير (نعم العبد....)، ابن ماجة (3478) // ضعيف سنن ابن ماجة (762)، ضعيف الجامع الصغير (5966) //، (إن خير ما تداويتم.....) مضى (2048)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2053) إسناده ضعيف / جه 3478 ¤ عباد بن منصور: ضعيف (تقدم: 662)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الطب 20 (3478) (تحفة الأشراف: 6138) (ضعیف) (سند میں عباد بن منصور مدلس اور مختلط راوی ہیں)
13: باب مَا جَاءَ فِي التَّدَاوِي بِالْحِنَّاءِ
باب: مہندی سے علاج کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ فَائِدٍ مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ مَوْلَاهُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَدَّتِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ.
سلمی رضی الله عنہا سے ( جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتی تھیں ) کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلوار اور چاقو یا پتھر اور کانٹے سے جو زخم بھی لگتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس پر مہندی رکھنے کا ضرور حکم دیتے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے فائد ہی کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- بعض لوگوں نے اس حدیث کی فائد سے روایت کرتے ہوئے سند میں «عن علي بن عبيد الله ، عن جدته سلمى» کی بجائے «عن عبيد الله ابن علي عن جدته سلمى» بیان کیا ہے ، «عبيد الله بن علي» ہی زیادہ صحیح ہے ، «سلمیٰ» کو «سُلمیٰ» بھی کہا گیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2054]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3502)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2054) إسناده ضعيف / د 3858، جه 3502 (ح 2055، انظر ص 317)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ فَائِدٍ مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ مَوْلَاهُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَدَّتِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ.
ہم سے محمد بن علی نے «زيد ابن حباب عن فائد مولى عبيد الله بن علي عن مولاه عبيد الله بن علي عن جدته عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی اسی معنی کی حدیث بیان کی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2054M]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3502)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
14: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الرُّقْيَةِ
باب: جھاڑ پھونک کی کراہت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اكْتَوَى أَوِ اسْتَرْقَى فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے بدن داغا یا جھاڑ پھونک کرائی وہ توکل کرنے والوں میں سے نہ رہا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن مسعود ، ابن عباس اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2055]
💡 وضاحت:
۱؎: شرکیہ الفاظ یا ایسے الفاظ جن کے معنی و مفہوم واضح نہ ہوں ان کے ذریعہ جھاڑ پھونک ممنوع ہے، ماثور الفاظ کے ساتھ جھاڑ پھونک جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3489)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2055) ¤ إسناده ضعيف /جه 3489 ¤ مجاھد سمعه من عقار ولكن لم يضبطه جيدًا فثبته فيه حسان بن أبى وجزة وھو مجھول الحال
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الطب 23 (3489) (تحفة الأشراف: 11518) (صحیح)
15: باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
باب: جھاڑ پھونک کی اجازت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْحُمَةِ وَالنَّمْلَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ بُرَيْدَةَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَجَابِرٍ، وَعَائِشَةَ، وَطَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ، وَعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، وَأَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچھو کے ڈنک ، نظر بد اور پسلی میں نکلنے والے دانے کے سلسلے میں ، جھاڑ پھونک کی اجازت دی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2056]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْحُمَةِ وَالنَّمْلَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ بُرَيْدَةَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَجَابِرٍ، وَعَائِشَةَ، وَطَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ، وَعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، وَأَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ.
اس سند سے انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچھو کے ڈنک اور پسلی میں نکلنے والے دانے کے سلسلے میں جھاڑ پھونک کرانے کی اجازت دی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث میرے نزدیک اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جسے معاویہ بن ہشام نے سفیان سے روایت کی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں بریدہ ، عمران بن حصین ، جابر ، عائشہ ، طلق بن علی ، عمرو بن حزم اور ابوخزامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2056M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ بُرَيْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جھاڑ پھونک صرف نظر بد اور پسلی میں نکلنے والے دانے کی وجہ سے ہی جائز ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ شعبہ نے یہ حدیث «عن حصين عن الشعبي عن بريدة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی کے مثل روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2057]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ ان دونوں کے علاوہ کسی اور بیماری میں جھاڑ پھونک جائز نہیں ہے، کیونکہ ان کے علاوہ میں جھاڑ پھونک احادیث سے ثابت ہے، اس لیے اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ان دونوں میں جھاڑ بھونک زیادہ مفید اور کار آمد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (4557)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الطب 17 (3884)، وأخرجہ البخاري في الطب 17 (5705) موقوفا علی عمران بن حصین رضي اللہ عنہ (تحفة الأشراف: 10830)، وانظر مسند احمد (4/436، 438، 446) (صحیح)
16: باب مَا جَاءَ فِي الرُّقْيَةِ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ
باب: معوذتین (سورۃ الفلق و سورۃ الناس) کے ذریعہ جھاڑ پھونک کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنَ الْجَانِّ وَعَيْنِ الْإِنْسَانِ حَتَّى نَزَلَتِ الْمُعَوِّذَتَانِ، فَلَمَّا نَزَلَتَا أَخَذَ بِهِمَا وَتَرَكَ مَا سِوَاهُمَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں اور انسان کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے ، یہاں تک کہ معوذتین ( سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ) نازل ہوئیں ، جب یہ سورتیں اتر گئیں تو آپ نے ان دونوں کو لے لیا اور ان کے علاوہ کو چھوڑ دیا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2058]
💡 وضاحت:
۱؎: ان دونوں سورتوں یعنی «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» کے بہت سارے فائدے ہیں، انہیں صبح و شام تین تین بار پڑھنے والا إن شاء اللہ مختلف قسم کی بلاؤں اور آفتوں سے محفوظ رہے گا، ان سورتوں کے نازل ہونے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دونوں کے ذریعہ پناہ مانگا کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3511)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2058) إسناده ضعيف / ن 5496، جه 3511 ¤ الجريري اختلط (د 1555) ولم أجد راويًا عنه فى ھذا الحديث قبل اختلاطه
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الاستعاذة 37 (5496)، سنن ابن ماجہ/الطب 33 (3511) (تحفة الأشراف: 4327) (صحیح)
17: باب مَا جَاءَ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ
باب: نظر بد کی وجہ سے جھاڑ پھونک کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا.
عبید بن رفاعہ زرقی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ اسماء بنت عمیس رضی الله عنہا نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جعفر طیار رضی الله عنہ کے لڑکوں کو بہت جلد نظر بد لگ جاتی ہے ، کیا میں ان کے لیے جھاڑ پھونک کراؤں ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، اس لیے کہ اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت کر سکتی تو اس پر نظر بد ضرور سبقت کرتی “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث «عن أيوب عن عمرو بن دينار عن عروة بن عامر عن عبيد بن رفاعة عن أسماء بنت عميس عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے بھی مروی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں عمران بن حصین اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2059]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3510)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا.
اس سند سے بھی اسماء بنت عمیس رضی الله عنہا سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ © فائدہ ۱؎ : معلوم ہوا کہ نظر بد کا اثر بے انتہائی نقصان دہ اور تکلیف دہ ہے ، یہاں تک کہ اگر کوئی چیز خلاف تقدیر پیش آ سکتی اور ضرر پہنچا سکتی تو وہ نظر بد ہوتی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2059M]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3510)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
18: باب
باب: نظر بد کی وجہ سے جھاڑ پھونک پر ایک اور باب۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول حسن اور حسین رضی الله عنہما پر یہ کلمات پڑھ کر جھاڑ پھونک کرتے تھے : «أعيذكما بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة» ” میں تمہارے لیے اللہ کے مکمل اور پورے کلمات کے وسیلے سے ہر شیطان اور ہلاک کرنے والے زہریلے کیڑے اور نظر بد سے پناہ مانگتا ہوں “ ، اور آپ فرماتے تھے : ” اسماعیل اور اسحاق کے لیے اسی طرح ابراہیم علیہم السلام پناہ مانگتے تھے “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2060]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3525)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
اس سند سے بھی ابن عباس رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2060M]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3525)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
19: باب مَا جَاءَ أَنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ وَالْغَسْلُ لَهَا
باب: نظر بد کے حق ہونے اور اس کے لیے غسل کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ أَبُو غَسَّانَ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي حَيَّةُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا شَيْءَ فِي الْهَامِ وَالْعَيْنُ حَقٌّ ".
حابس تمیمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : الو ( کے سلسلے میں لوگوں کے اعتقاد ) کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور نظر بد کا اثر حقیقی چیز ہے ( یعنی سچ ہے ) ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2061]
قال الشيخ الألباني: ضعيف، لكن قوله: " العين حق " صحيح.، الضعيفة (4804)، الصحيحة (1248) // ضعيف الجامع الصغير (6295)، صحيح الجامع الصغير (7503) //
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3272)، وانظر مسند احمد (4/67) (صحیح) (سند میں حیہ بن حابس متابعت کے باب میں مقبول راوی ہیں، اس لیے حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، تراجع الالبانی/5، السراج المنیر 5590)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاق الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ، وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَحَدِيثُ حَيَّةَ بْنِ حَابِسٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَرَوَى شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ حَيَّةَ بْنِ حَابِسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَحَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، لَا يَذْكُرَانِ فِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت ( پہل ) کر سکتی تو اس پر نظر بد ضرور سبقت ( پہل ) کرتی ، اور جب لوگ تم سے غسل کرائیں تو تم غسل کر لو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- حیہ بن حابس کی روایت ( جو اوپر مذکور ہے ) غریب ہے ، ¤ ۳- شیبان نے اسے «عن يحيى بن أبي كثير عن حية بن حابس عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کیا ہے جب کہ علی بن مبارک اور حرب بن شداد نے اس سند میں ابوہریرہ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے ، ¤ ۴- اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2062]
💡 وضاحت:
۱؎: زمانہ جاہلیت میں نظر بد کا ایک علاج یہ تھا کہ جس آدمی کی نظر لگنے کا اندیشہ ہوتا اس سے غسل کرواتے، اور اس پانی سے نظر لگنے والے کو غسل دیتے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کو سند جواز عطا فرمایا، اور فرمایا کہ اگر کسی سے ایسے غسل کی طلب کی جائے تو وہ برا نہ مانے اور غسل کر کے غسل کیا ہوا پانی نظر بد لگنے والے کو دیدے۔ مگر اس غسل کا طریقہ عام غسل سے سے قدرے مختلف ہے، تفصیل کے لیے ہماری کتاب مسنون وظائف واذکار اور شافی طریقہ علاج کا مطالعہ کریں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (1251 - 1252)، الكلم الطيب (242)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/السلام 16 (2188)، (تحفة الأشراف: 5716) (صحیح)
20: باب مَا جَاءَ فِي أَخْذِ الأَجْرِ عَلَى التَّعْوِيذِ
باب: تعویذ (جھاڑ پھونک) پر اجرت لینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَنَزَلْنَا بِقَوْمٍ، فَسَأَلْنَاهُمُ الْقِرَى فَلَمْ يَقْرُونَا، فَلُدِغَ سَيِّدُهُمْ فَأَتَوْنَا، فَقَالُوا: هَلْ فِيكُمْ مَنْ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ، قُلْتُ: نَعَمْ أَنَا، وَلَكِنْ لَا أَرْقِيهِ حَتَّى تُعْطُونَا غَنَمًا، قَالَ: فَإِنَّا نُعْطِيكُمْ ثَلَاثِينَ شَاةً، فَقَبِلْنَا، فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ الْحَمْدُ لِلَّهِ سَبْعَ مَرَّاتٍ فَبَرَأَ، وَقَبَضْنَا الْغَنَمَ، قَالَ: فَعَرَضَ فِي أَنْفُسِنَا مِنْهَا شَيْءٌ، فَقُلْنَا: لَا تَعْجَلُوا حَتَّى تَأْتُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَيْهِ ذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي صَنَعْتُ، قَالَ: " وَمَا عَلِمْتَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ، اقْبِضُوا الْغَنَمَ وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَأَبُو نَضْرَةَ اسْمُهُ الْمُنْذِرُ بْنُ مَالِكِ بْنِ قُطَعَةَ، وَرَخَّصَ الشَّافِعِيُّ لِلْمُعَلِّمِ أَنْ يَأْخُذَ عَلَى تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ أَجْرًا، وَيَرَى لَهُ أَنْ يَشْتَرِطَ عَلَى ذَلِكَ، وَاحْتَجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَجَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ هُوَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ، وَهُوَ أَبُو بِشْرٍ، وَرَوَى شُعْبَةُ، وَأَبُو عَوَانَةَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا ، ہم نے ایک قوم کے پاس پڑاؤ ڈالا اور ان سے ضیافت کی درخواست کی ، لیکن ان لوگوں نے ہماری ضیافت نہیں کی ، اسی دوران ان کے سردار کو بچھو نے ڈنک مار دیا ، چنانچہ انہوں نے ہمارے پاس آ کر کہا : کیا آپ میں سے کوئی بچھو کے ڈنک سے جھاڑ پھونک کرتا ہے ؟ میں نے کہا : ہاں ، میں کرتا ہوں ، لیکن اس وقت تک نہیں کروں گا جب تک کہ تم مجھے کچھ بکریاں نہ دے دو ، انہوں نے کہا : ہم تم کو تیس بکریاں دیں گے ، چنانچہ ہم نے قبول کر لیا اور میں نے سات بار سورۃ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کیا تو وہ صحت یاب ہو گیا اور ہم نے بکریاں لے لیں ۱؎ ، ہمارے دل میں بکریوں کے متعلق کچھ خیال آیا ۲؎ ، لہٰذا ہم نے کہا : جلدی نہ کرو ، یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ جائیں ، جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو میں نے جو کچھ کیا تھا آپ سے بیان کر دیا ، آپ نے فرمایا : ” تم نے کیسے جانا کہ سورۃ فاتحہ رقیہ ( جھاڑ پھونک کی دعا ) ہے ؟ تم لوگ بکریاں لے لو اور اپنے ساتھ اس میں میرا بھی حصہ لگاؤ “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- شعبہ ، ابو عوانہ ہشام اور کئی لوگوں نے یہ حدیث «عن أبي المتوكل عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے ، ¤ ۳- تعلیم قرآن پر معلم کے لیے اجرت لینے کو امام شافعی نے جائز کہا ہے اور وہ معلم کے لیے اجرت کی شرط لگانے کو درست سمجھتے ہیں ، انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2063]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی یہ خیال آیا کہ یہ ہمارے لیے حلال ہیں یا نہیں۔
۲؎: جمہور علماء کا کہنا ہے کہ اذان، قضاء، امامت، اور تعلیم قرآن کی اجرت لی جا سکتی ہے، کیونکہ صحیح بخاری میں کتاب اللہ کی تعلیم کی بابت اجرت لینے سے متعلق ابن عباس کی روایت اور سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کر کے اس کی اجرت لینے سے متعلق ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی یہ حدیث جو صحیح بخاری میں بھی ہے، اسی طرح صحیحین میں سہل بن سعد رضی الله عنہ کی حدیث جس میں ہے کہ آپ نے ایک شخص کے نکاح میں قرآن کی چند آیات کو مہر قرار دیا یہ ساری کی ساری روایات اس کے جواز پر دلیل ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2156)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الإجارة 16 (2276)، وفضائل القرآن 9 (5007)، والطب 33 (5736)، و39 (5749)، صحیح مسلم/السلام 23 (2201)، سنن ابی داود/ الطب 19 (3900)، سنن ابن ماجہ/التجارات 7 (2156) (تحفة الأشراف: 4307)، و مسند احمد (3/44) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا الْمُتَوَكِّلِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا بِحَيٍّ مِنَ الْعَرَبِ، فَلَمْ يَقْرُوهُمْ وَلَمْ يُضَيِّفُوهُمْ، فَاشْتَكَى سَيِّدُهُمْ فَأَتَوْنَا، فَقَالُوا: هَلْ عِنْدَكُمْ دَوَاءٌ: قُلْنَا: نَعَمْ، وَلَكِنْ لَمْ تَقْرُونَا وَلَمْ تُضَيِّفُونَا، فَلَا نَفْعَلُ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلًا، فَجَعَلُوا عَلَى ذَلِكَ قَطِيعًا مِنَ الْغَنَمِ، قَالَ: فَجَعَلَ رَجُلٌ مِنَّا يَقْرَأُ عَلَيْهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَبَرَأَ، فَلَمَّا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ قَالَ: " وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ "، وَلَمْ يَذْكُرْ نَهْيًا مِنْهُ، وَقَالَ: " كُلُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ هُوَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کچھ صحابہ ( جن میں شامل میں بھی تھا ) عرب کے ایک قبیلہ کے پاس سے گزرے ، انہوں نے ان کی مہمان نوازی نہیں کی ، اسی دوران ان کا سردار بیمار ہو گیا ، چنانچہ ان لوگوں نے ہمارے پاس آ کر کہا : آپ لوگوں کے پاس کوئی علاج ہے ؟ ہم نے کہا : ہاں ، لیکن تم نے ہماری مہمان نوازی نہیں کی ہے اس لیے ہم اس وقت تک علاج نہیں کریں گے جب تک تم ہمارے لیے اجرت نہ متعین کر دو ، انہوں نے اس کی اجرت میں بکری کا ایک گلہ مقرر کیا ، ہم میں سے ایک آدمی ( یعنی میں خود ) اس کے اوپر سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کرنے لگا تو وہ صحت یاب ہو گیا ، پھر جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس واقعہ کو بیان کیا تو آپ نے فرمایا : ” تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ سورۃ فاتحہ جھاڑ پھونک ( کی دعا ) ہے ؟ ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے آپ سے اس پر کوئی نکیر ذکر نہیں کی ، آپ نے فرمایا : ” کھاؤ اور اپنے ساتھ اس میں میرا بھی حصہ لگاؤ “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث صحیح ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث اعمش کی اس روایت سے جو جعفر بن ایاس کے واسطہ سے آئی ہے زیادہ صحیح ہے ، ¤ ۳- کئی لوگوں نے یہ حدیث «عن أبي بشر جعفر بن أبي وحشية عن أبي المتوكل عن أبي سعيد» کی سند سے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2064]
قال الشيخ الألباني: صحيح انظر ما قبله (2063)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 4249) (صحیح)
21: باب مَا جَاءَ فِي الرُّقَى وَالأَدْوِيَةِ
باب: جھاڑ پھونک اور دوا سے علاج کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ كِلْتَا الرِّوَايَتَيْنِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَنْ أَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ، عَنْ ابْنِ أَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ ابْنِ عُيَيْنَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَهَذَا أَصَحُّ، وَلَا نَعْرِفُ لِأَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ.
ابوخزامہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : اللہ کے رسول ! جس دم سے ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں ، جس دوا سے علاج کرتے ہیں اور جن بچاؤ کی چیزوں سے ہم اپنا بچاؤ کرتے ہیں ( ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ ) کیا یہ اللہ کی تقدیر میں کچھ تبدیلی کرتی ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ سب بھی اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر ہی کا حصہ ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2065]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ان کی توفیق حسب تقدیر الٰہی ہوتی ہے، اس لیے اسباب کو اپنانا چاہیئے، لیکن یہ اعتقاد نہ ہو کہ ان سے تقدیر بدل جاتی ہے، کیونکہ اللہ اپنے فیصلہ کو نہیں بدلتا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (3437) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (749)، وسيأتي برقم (379 / 2252) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2065) إسناده ضعيف / جه 3437 وسيأتي:2148 ¤ ابن أبى خزامة مجھول الحال، وثقه التزمزي وحده
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (ضعیف)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ كِلْتَا الرِّوَايَتَيْنِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَنْ أَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ، عَنْ ابْنِ أَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ ابْنِ عُيَيْنَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَهَذَا أَصَحُّ، وَلَا نَعْرِفُ لِأَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ.
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- دونوں روایتیں سفیان ابن عیینہ سے مروی ہیں ، ان کے بعض شاگردوں نے سند میں «عن أبي خزامة ، عن أبيه» کہا ہے اور بعض نے «عن ابن أبي خزامة ، عن أبيه» کہا ہے ، ابن عیینہ کے علاوہ دوسرے لوگوں نے اسے «عن الزهري ، عن أبي خزامة ، عن أبيه» روایت کی ہے ، یہ زیادہ صحیح ہے ، ¤ ۳- ہم اس روایت کے علاوہ ابوخزامہ سے ان کی دوسری کوئی روایت نہیں جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2065M]
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (3437) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (749)، وسيأتي برقم (379 / 2252) //
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (ضعیف)
22: باب مَا جَاءَ فِي الْكَمْأَةِ وَالْعَجْوَةِ
باب: صحرائے عرب میں زیر زمین پائی جانے والی ایک ترکاری (فقعہ) اور عجوہ کھجور کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ وَهُوَ ابْنُ أَبِي السَّفَرِ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَفِيهَا شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ، وَالْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَجَابِرٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَهُوَ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عجوہ ( کھجور ) جنت کا پھل ہے ، اس میں زہر سے شفاء موجود ہے اور صحرائے عرب کا «فقعہ» ۱؎ ایک طرح کا «من» ( سلوی والا «من» ) ہے ، اس کا عرق آنکھ کے لیے شفاء ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- یہ محمد بن عمرو کی روایت سے ہے ، ہم اسے صرف محمد بن عمر ہی سعید بن عامر کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ محمد بن عمرو سے روایت کرتے ہیں ، ¤ ۳- اس باب میں سعید بن زید ، ابوسعید اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2066]
💡 وضاحت:
۱؎: یہاں حدیث میں وارد لفظ «الکمأۃ» کا ترجمہ کھمبی قطعاً درست نہیں ہے «الکمأۃ» کو عربوں کی عامی زبان میں «فقعہ» کہا جاتا ہے، یہ «فقعہ» موسم سرما کی بارشوں کے بعد صحرائے نجد و نفود کبریٰ، مملکت سعودیہ کے شمال اور ملک عراق کے جنوب میں پھیلے ہوئے بہت بڑے صحراء میں زیر زمین پھیلتا ہے، اس کی رنگت اور شکل و صورت آلو جیسی ہوتی ہے، جب کہ کھمبی زمین سے باہر اور ہندوستان کے ریتلے علاقوں میں ہوتی ہے، ابن القیم، ابن حجر اور دیگر علماء امت نے «الکمأۃ» کی جو تعریف لکھی ہے اس کے مطابق بھی «الکمأۃ» درحقیقت «فقعہ» ہے کھمبی نہیں، (تفصیل کے لیے فتح الباری اور تحفۃ الأحوذی کا مطالعہ کر لیں، نیز اس پر تفصیلی کلام ابن ماجہ کے حدیث نمبر (۳۴۵۵) کے حاشیہ میں ملاحظہ کریں، اور جہاں بھی «کمأۃ» کا ترجمہ کھمبی لکھا ہے، اس کی جگہ «فقعہ» لکھ لیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، المشكاة (4235 / التحقيق الثانى)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الطب 8 (3455) (تحفة الأشراف: 15027) و مسند احمد (2/301، 305، 325، 356، 421، 488، 490، 511) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ. ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
سعید بن زید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صحرائے عرب کا فقعہ ایک طرح کا «من» ( سلوی والا «من» ) ہے اور اس کا عرق آنکھ کے لیے شفاء ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2067]
قال الشيخ الألباني: صحيح، الروض النضير (444)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تفسیر البقرة 4 (4478)، وتفسیر الأعراف 2 (4639)، والطب 20 (5708)، صحیح مسلم/الأشربة والأطعمة 28 (2049)، سنن ابن ماجہ/الطب 8 (3454) (تحفة الأشراف: 4465)، و مسند احمد (1/187، 188) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: الْكَمْأَةُ جُدَرِيُّ الْأَرْضِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے کہا : کھنبی زمین کی چیچک ہے ، ( یہ سن کر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صحرائے عرب کا «فقعہ» ایک طرح کا «من» ہے ، اس کا عرق آنکھ کے لیے شفاء ہے ، اور عجوہ کھجور جنت کے پھلوں میں سے ایک پھل ہے ، وہ زہر کے لیے شفاء ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2068]
قال الشيخ الألباني: صحيح بما قبله (2067)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم 2066 (تحفة الأشراف: 13496) (صحیح) (سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں، لیکن اوپر کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: حُدِّثْتُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: " أَخَذْتُ ثَلَاثَةَ أَكْمُؤٍ، أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا فَعَصَرْتُهُنَّ فَجَعَلْتُ مَاءَهُنَّ فِي قَارُورَةٍ فَكَحَلْتُ بِهِ جَارِيَةً لِي فَبَرَأَتْ ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے تین ، پانچ یا سات کھنبی لی ، ان کو نچوڑا ، پھر اس کا عرق ایک شیشی میں رکھا اور اسے ایک لڑکی کی آنکھ میں ڈالا تو وہ صحت یاب ہو گئی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2069]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد مع وقفه
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2069) إسناده ضعيف / السند منقطع
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (ضعیف) (سند میں قتادہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہ کے درمیان انقطاع ہے، نیز یہ موقوف ہے، یعنی ابوہریرہ کا کلام ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ بْنِ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: حُدِّثْتُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: " الشُّونِيزُ دَوَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ "، قَالَ قَتَادَةُ: يَأْخُذُ كُلَّ يَوْمٍ إِحْدَى وَعِشْرِينَ حَبَّةً فَيَجْعَلُهُنَّ فِي خِرْقَةٍ فَلْيَنْقَعْهُ فَيَتَسَعَّطُ بِهِ كُلَّ يَوْمٍ فِي مَنْخَرِهِ الْأَيْمَنِ قَطْرَتَيْنِ، وَفِي الْأَيْسَرِ قَطْرَةً، وَالثَّانِي: فِي الْأَيْسَرِ قَطْرَتَيْنِ، وَفِي الْأَيْمَنِ قَطْرَةً، وَالثَّالِثُ: فِي الْأَيْمَنِ قَطْرَتَيْنِ، وَفِي الْأَيْسَرِ قَطْرَةً.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کلونجی موت کے علاوہ ہر بیماری کی دوا ہے ۔ قتادہ ہر روز کلونجی کے اکیس دانے لیتے ، ان کو ایک پوٹلی میں رکھ کر پانی میں بھگوتے پھر ہر روز داہنے نتھنے میں دو بوند اور بائیں میں ایک بوند ڈالتے ، دوسرے دن بائیں میں دو بوندیں اور داہنی میں ایک بوند ڈالتے اور تیسرے روز داہنے میں دو بوند اور بائیں میں ایک بوند ڈالتے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2070]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد مع وقفه، لكن، الصحيحة مرفوعا دون قول قتادة: " يأخذ ... "، الصحيحة (1905)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (ضعیف) (اس سند میں بھی قتادہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہ کے درمیان انقطاع ہے، نیز یہ موقوف ہے، یعنی ابوہریرہ کا کلام ہے، لیکن ابوہریرہ کا یہ قول مرفوع حدیث سے ثابت ہے، الصحیحة 1905)
23: باب مَا جَاءَ فِي أَجْرِ الْكَاهِنِ
باب: کاہن (نجومی) کی اجرت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت ، زانیہ عورت کی کمائی اور کاہن کے نذرانے لینے سے منع فرمایا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2071]
💡 وضاحت:
۱؎: غیب کا علم صرف رب العالمین کے لیے خاص ہے، اس کا دعویٰ کرنا بہت بڑا گناہ ہے، اسی لیے اس دعویٰ کی آڑ میں کاہن اور نجومی باطل اور غلط طریقے سے جو مال لوگوں سے حاصل کرتے ہیں، وہ حرام ہے، زنا معصیت اور فحش کے اعمال میں سے سب سے بدترین عمل ہے، اس لیے اس سے حاصل ہونے والی اجرت ناپاک اور حرام ہے، کتا ایک نجس جانور ہے اس کی نجاست کا حال یہ ہے کہ جس برتن میں یہ منہ ڈال دے شریعت نے اسے سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا ہے، اسی لیے کتے کی خرید و فروخت اور اس سے فائدہ اٹھانا منع ہے، سوائے اس کے کہ گھر، جائیداد اور جانوروں کی حفاظت کے لیے ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2159)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم 1133، 1276 (صحیح)
24: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّعْلِيقِ
باب: تعویذ گنڈا لٹکانے کی حرمت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ.
عیسیٰ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عکیم ابومعبد جہنی کے ہاں ان کی عیادت کرنے گیا ، ان کو «حمرة» کا مرض تھا ۱؎ ہم نے کہا : کوئی تعویذ وغیرہ کیوں نہیں لٹکا لیتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : موت اس سے زیادہ قریب ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کوئی چیز لٹکائی وہ اسی کے سپرد کر دیا گیا “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ عبداللہ بن عکیم کی حدیث کو ہم صرف محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی روایت سے جانتے ہیں ، عبداللہ بن عکیم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نہیں سنی ہے لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھے ، وہ کہتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کے پاس لکھ کر بھیجا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2072]
💡 وضاحت:
۱؎: «حمرہ» ایک قسم کا وبائی مرض ہے جس کی وجہ سے بخار آتا ہے، اور بدن پر سرخ دانے پڑ جاتے ہیں۔
۲؎: جو چیزیں کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہیں وہ حرام ہیں، چنانچہ تعویذ گنڈا اور جادو منتر وغیرہ اسی طرح حرام کے قبیل سے ہیں، تعویذ میں آیات قرآنی کا ہونا اس کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتی، کیونکہ حدیث میں مطلق لٹکانے کو ناپسند کیا گیا ہے، یہ حکم عام ہے اس کے لیے کوئی دوسری چیز مخص نہیں ہے۔ بلکہ ایک حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی تعویذ، گنڈا یا کوئی منکا وغیرہ لٹکایا اُس نے شرک کیا۔
قال الشيخ الألباني: حسن غاية المرام (297)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2072) إسناده ضعيف ¤ محمد بن عبدالرحمن بن أبى ليلي: ضعيف (تقدم:194) وللحديث شاھد ضعيف عند النسائي (112/7 ح4084)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ.
اس سند سے بھی عبداللہ بن عکیم سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اس باب میں عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2072M]
قال الشيخ الألباني: حسن غاية المرام (297)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
25: باب مَا جَاءَ فِي تَبْرِيدِ الْحُمَّى بِالْمَاءِ
باب: پانی سے بخار کو ٹھنڈا کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْحُمَّى فَوْرٌ مِنَ النَّارِ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَامْرَأَةِ الزُّبَيْرِ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.
رافع بن خدیج رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بخار جہنم کی گرمی سے ہوتا ہے ، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اس باب میں اسماء بنت ابوبکر ، ابن عمر ، زبیر کی بیوی ، ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ( عائشہ رضی الله عنہا کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2073]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3473)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/بدء الخلق 10 (3262)، والطب 28 (5726)، صحیح مسلم/السلام 26 (2212)، سنن ابن ماجہ/الطب 19 (3473) (تحفة الأشراف: 3562)، و مسند احمد (3/464)، و (4/141)، وسنن الدارمی/الرقاق 55 (2811) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي حَدِيثِ أَسْمَاءَ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا، وَكِلَا الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بخار جہنم کی گرمی سے ہوتا ہے ، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2074]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الطب 28 (5724)، صحیح مسلم/السلام 26 (2211)، سنن ابن ماجہ/الطب 19 (3474)، (تحفة الأشراف: 15744) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي حَدِيثِ أَسْمَاءَ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا، وَكِلَا الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ.
اس سند سے اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہا سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اسماء کی حدیث میں اس حدیث سے کچھ زیادہ باتیں ہیں ، ¤ ۲- دونوں حدیثیں صحیح ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2074M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الطب 28 (5724)، صحیح مسلم/السلام 26 (2211)، سنن ابن ماجہ/الطب 19 (3474)، (تحفة الأشراف: 15744) (صحیح)
26: باب كَانَ يُعَلِّمُهُمْ مِنَ الْحُمَّى وَمِنَ الأَوْجَاعِ كُلِّهَا
باب: بخار کے علاج سے متعلق ایک اور باب۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ مِنَ الْحُمَّى وَمِنَ الْأَوْجَاعِ كُلِّهَا أَنْ يَقُولَ: " بِسْمِ اللَّهِ الْكَبِيرِ، أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ مِنْ شَرِّ كُلِّ عِرْقٍ نَعَّارٍ، وَمِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، وَإِبْرَاهِيمُ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، وَيُرْوَى: عِرْقٌ يَعَّارٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو بخار اور ہر قسم کے درد میں یہ دعا پڑھنا سکھاتے تھے ، «بسم الله الكبير أعوذ بالله العظيم من شر كل عرق نعار ومن شر حر النار» ” میں بڑے اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور عظمت والے اللہ کے واسطے سے ہر بھڑکتی رگ اور آگ کی گرمی کے شر سے پناہ مانگتا ہوں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف ابراہیم بن اسماعیل بن ابوحبیبہ کی روایت سے جانتے ہیں اور ابراہیم بن اسماعیل ضعیف الحدیث سمجھے جاتے ہیں ، ¤ ۳- بعض احادیث میں «عرق نعار» کے بجائے «عرق يعار» بھی مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2075]
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (1554) // ضعيف الجامع الصغير (4587) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2075) إسناده ضعيف / جه 3526 ¤ إبراھيم بن إسماعيل: ضعيف (تقدم:1462)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الطب 37 (3526) (تحفة الأشراف: 6076) (ضعیف) (سند میں ابراہیم بن اسماعیل ضعیف راوی ہیں)
27: باب مَا جَاءَ فِي الْغِيلَةِ
باب: ایام رضاعت میں بیوی سے جماع کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ ابْنَةِ وَهْبٍ وَهِيَ جُدَامَةُ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَرَدْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيَالِ، فَإِذَا فَارِسُ وَالرُّومُ يَفْعَلُونَ وَلَا يَقْتُلُونَ أَوْلَادَهُمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ مَالِكٌ: وَالْغِيَالُ أَنْ يَطَأَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تُرْضِعُ.
جدامہ بنت وہب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” میں نے ارادہ کیا کہ ایام رضاعت میں صحبت کرنے سے لوگوں کو منع کر دوں ، پھر میں نے دیکھا کہ فارس اور روم کے لوگ ایسا کرتے ہیں ، اور ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- مالک نے یہ حدیث «عن أبي الأسود عن عروة عن عائشة عن جدامة بنت وهب عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں اسماء بنت یزید سے بھی روایت ہے ، ¤ ۴- مالک کہتے ہیں : «غيلہ» یہ ہے کہ کوئی شخص ایام رضاعت میں اپنی بیوی سے جماع کرے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2076]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2011)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/النکاح 34 (1442)، سنن ابی داود/ الطب 16 (3882)، سنن النسائی/النکاح 54 (3326)، سنن ابن ماجہ/النکاح 6 (2011) (تحفة الأشراف: 15786)، وط/الرضاع 3 (16)، و مسند احمد (6/361، 434)، وسنن الدارمی/النکاح 33 (2263) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّ الرُّومَ وَفَارِسَ يَصْنَعُونَ ذَلِكَ فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ "، قَالَ مَالِكٌ: وَالْغِيلَةُ، أَنْ يَمَسَّ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تُرْضِعُ، قَالَ عِيسَى بْنُ أَحْمَدَ: وَحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.
جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” میں نے ارادہ کیا تھا کہ ایام رضاعت میں جماع کرنے سے لوگوں کو منع کروں ، پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور اس سے ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ہے “ ۔ مالک کہتے ہیں : «غيلہ» یہ ہے کہ کوئی شخص ایام رضاعت میں اپنی بیوی سے جماع کرے ۔ عیسیٰ بن احمد کہتے ہیں : ہم سے اسحاق بن عیسیٰ نے بیان کیا وہ کہتے ہیں : مجھ سے مالک نے ابوالاسود کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث بیان کی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2077]
قال الشيخ الألباني: صحيح انظر ما قبله (2076)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
28: باب مَا جَاءَ فِي دَوَاءِ ذَاتِ الْجَنْبِ
باب: ذات الجنب (نمونیہ) کے علاج کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَنْعَتُ الزَّيْتَ وَالْوَرْسَ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ "، قَالَ قَتَادَةُ: وَيَلُدُّهُ مِنَ الْجَانِبِ الَّذِي يَشْتَكِيهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ اسْمُهُ مَيْمُونٌ هُوَ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ.
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذات الجنب ۱؎ کی بیماری میں زیتون کا تیل اور ورس ۲؎ تشخیص کرتے تھے ، قتادہ کہتے ہیں : اس کو منہ میں ڈالا جائے گا ، اور منہ کی اس جانب سے ڈالا جائے گا جس جانب مرض ہو ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- ابوعبداللہ کا نام میمون ہے ، وہ ایک بصریٰ شیخ ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2078]
💡 وضاحت:
۱؎: پسلی کا ورم جو اکثر مہلک ہوتا ہے۔ ۲؎: ایک زرد رنگ کی خوشبودار گھاس ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (3467) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (761)، وفيه زيادة: القسط //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2078) إسناده ضعيف / جه 3467 ¤ ميمون أبو عبدالله: ضعيف (تق:7051)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الطب 17 (3467) (تحفة الأشراف: 3684) (سند میں میمون ابوعبد اللہ ضعیف راوی ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُذْرِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي رَزِينٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، قَال: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، قَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَدَاوَى مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ بِالْقُسْطِ الْبَحْرِيِّ وَالزَّيْتِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مَيْمُونٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَقَدْ رَوَى عَنْ مَيْمُونٍ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ، وَذَاتُ الْجَنْبِ يَعْنِي السِّلَّ.
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ذات الجنب کا علاج قسط بحری ( عود ہندی ) اور زیتون کے تیل سے کریں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف میمون کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ زید بن ارقم سے روایت کرتے ہیں ، ¤ ۳- میمون سے کئی لوگوں نے یہ حدیث روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2079]
قال الشيخ الألباني: ضعيف انظر ما قبله (2078)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2079) إسناده ضعيف / انظر الحديث السابق:2078
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (ضعیف)
29: باب امْسَحْ بِيَمِينِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَقُلْ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُوَّتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وأحاذر
باب: سابقہ موضوع سے متعلق ایک اور باب۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ السُّلَمِيِّ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِي وَجَعٌ قَدْ كَانَ يُهْلِكُنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " امْسَحْ بِيَمِينِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ، وَقُلْ: أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُوَّتِهِ وَسُلْطَانِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ "، قَالَ: فَفَعَلْتُ، فَأَذْهَبَ اللَّهُ مَا كَانَ بِي، فَلَمْ أَزَلْ آمُرُ بِهِ أَهْلِي، وَغَيْرَهُمْ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عثمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لیے میرے پاس تشریف لائے ، اس وقت مجھے ایسا درد تھا کہ لگتا تھا وہ مار ڈالے گا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے داہنے ہاتھ سے سات مرتبہ درد کی جگہ چھوؤ اور یہ دعا پڑھو «أعوذ بعزة الله وقدرته وسلطانه من شر ما أجد» ” میں اللہ کی عزت اور اس کی قدرت اور طاقت کے وسیلے سے اس تکلیف کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جو مجھے لاحق ہے “ ۔ میں نے ویسا ہی کیا اور اللہ تعالیٰ نے میری تکلیف دور کر دی ، چنانچہ میں ہمیشہ اپنے گھر والوں کو اور دوسروں کو یہ دعا پڑھنے کا مشورہ دیتا ہوں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2080]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3522)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/السلام 34 (2202)، سنن ابی داود/ الطب 19 (3891)، سنن ابن ماجہ/الطب 36 (3522) (تحفة الأشراف: 9774)، وط/العین 4 (9)، و مسند احمد (4/21، 217) (صحیح)
30: باب مَا جَاءَ فِي السَّنَا
باب: سنا کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهَا: " بِمَ تَسْتَمْشِينَ؟ " قَالَتْ: بِالشُّبْرُمِ، قَالَ: " حَارٌّ جَارٌّ " قَالَتْ: ثُمَّ اسْتَمْشَيْتُ بِالسَّنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَنَّ شَيْئًا كَانَ فِيهِ شِفَاءٌ مِنَ الْمَوْتِ لَكَانَ فِي السَّنَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، يَعْنِي: دَوَاءَ الْمَشِيِّ.
اسماء بنت عمیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ ” اسہال کے لیے تم کیا لیتی ہو ؟ “ میں نے کہا : «شبرم» ۱؎ ، آپ نے فرمایا : ” وہ گرم اور بہانے والا ہے “ ۔ اسماء کہتی ہیں : پھر میں نے «سنا» ۲؎ کا مسہل لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر کسی چیز میں موت سے شفاء ہوتی تو «سنا» میں ہوتی “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اس سے ( یعنی «سنا» سے ) مراد دست آور دواء ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2081]
💡 وضاحت:
۱؎: گرم اور سخت قسم کا چنے کے برابر ایک طرح کا دانہ ہوتا ہے۔
۲؎: ایک دست لانے والی دوا کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (4537) // هذا وهم في أصل الشيخ ناصر. وإنما هو رقم مشكاة المصابيح والشيخ ناصر لم يحل على المشكاة. وأما رقم " ضعيف سنن ابن ماجة " فهو (760 - 3461) ومن منا لا يسهو - وانظر " ضعيف الجامع الصغير (4807) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2081) إسناده ضعيف ¤ في سماع عتبة من أسماء رضي الله عنھا نظر وانظر ضعيف سنن ابن ماجه (3461)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الطب 12 (3461) (تحفة الأشراف: 15759) (ضعیف) (اس کی سند میں سخت اضطراب ہے ”زرعة بن عبداللہ، زرعة بن عبدالرحمن“، ”عتبة بن عبداللہ، عبید اللہ“ بہر حال یہ آدمی مجہول ہے)
31: باب مَا جَاءَ فِي التَّدَاوِي بِالْعَسَلِ
باب: شہد سے علاج کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَخِي اسْتَطْلَقَ بَطْنُهُ، فَقَالَ: اسْقِهِ عَسَلًا، فَسَقَاهُ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ سَقَيْتُهُ عَسَلًا فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْقِهِ عَسَلًا "، فَسَقَاهُ ثُمَّ جَاءَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ سَقَيْتُهُ عَسَلًا فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَدَقَ اللَّهُ وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ، اسْقِهِ عَسَلًا، فَسَقَاهُ عَسَلًا فَبَرَأَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی نے آ کر عرض کیا : میرے بھائی کو دست آ رہا ہے ، آپ نے فرمایا : ” اسے شہد پلاؤ “ ، چنانچہ اس نے اسے پلایا ، پھر آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے اسے شہد پلایا لیکن اس سے دست میں اور اضافہ ہو گیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے شہد پلاؤ “ ، اس نے اسے شہد پلایا ، پھر آپ کے پاس آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے اسے شہد پلایا لیکن اس سے دست میں اور اضافہ ہو گیا ہے ، ابو سعید خدری کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ( اپنے قول میں ) سچا ہے ، اور تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے ، اس کو شہد پلاؤ “ ، چنانچہ اس نے شہد پلایا تو ( اس بار ) اچھا ہو گیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2082]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الطب 4 (5684)، و 24 (5716)، صحیح مسلم/السلام 31 (2217)، (تحفة الأشراف: 4251)، و مسند احمد (3/19) (صحیح)
32: باب
باب: شفاء حاصل کرنے سے متعلق ایک اور باب۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ، قَال: سَمِعْتُ الْمِنْهَالَ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَعُودُ مَرِيضًا لَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ فَيَقُولُ سَبْعَ مَرَّاتٍ: أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ، إِلَّا عُوفِيَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو مسلمان بندہ کسی ایسے مریض کی عیادت کرے جس کی موت کا ابھی وقت نہ ہوا ہو اور سات بار یہ دعا پڑھے «أسأل الله العظيم رب العرش العظيم أن يشفيك» ” میں عظمت والے اللہ اور عظیم عرش کے مالک سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہیں اچھا کر دے “ تو ضرور اس کی شفاء ہو جاتی ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف منہال بن عمرو کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2083]
قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (1553)، الكلم الطيب (149)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الجنائز 12 (3106) (تحفة الأشراف: 5628)، و مسند احمد (1/239) (صحیح)
33: باب
باب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشْقَرُ الرِّبَاطِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا مَرْزُوقٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الشَّامِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، أَخْبَرَنَا ثَوْبَانُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمُ الْحُمَّى فَإِنَّ الْحُمَّى قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ فَلْيُطْفِئْهَا عَنْهُ بِالْمَاءِ فَلْيَسْتَنْقِعْ نَهْرًا جَارِيًا لِيَسْتَقْبِلَ جَرْيَةَ الْمَاءِ، فَيَقُولُ: بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ وَصَدِّقْ رَسُولَكَ، بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَلْيَغْتَمِسْ فِيهِ ثَلَاثَ غَمَسَاتٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي ثَلَاثٍ فَخَمْسٌ، وَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي خَمْسٍ فَسَبْعٌ، فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي سَبْعٍ، فَتِسْعٌ فَإِنَّهَا لَا تَكَادُ تُجَاوِزُ تِسْعًا بِإِذْنِ اللَّهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
ثوبان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کو بخار آئے اور بخار آگ کا ایک ٹکڑا ہے تو وہ اسے پانی سے بجھا دے ، ایک بہتی نہر میں اترے اور پانی کے بہاؤ کی طرف اپنا رخ کرے پھر یہ دعا پڑھے : «بسم الله اللهم اشف عبدك وصدق رسولك» ” اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں ، اے اللہ ! اپنے بندے کو شفاء دے اور اپنے رسول کی اس بات کو سچا بنا “ وہ اس عمل کو فجر کے بعد اور سورج نکلنے سے پہلے کرے ، وہ اس نہر میں تین دن تک تین غوطے لگائے ، اگر تین دن میں اچھا نہ ہو تو پانچ دن تک ، اگر پانچ دن میں اچھا نہ ہو تو سات دن تک اور اگر سات دن میں اچھا نہ ہو تو نو دن تک ، اللہ کے حکم سے اس کا مرض نو دن سے آگے نہیں بڑھے گا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2084]
قال الشيخ الألباني: ضعيف، الضعيفة (2339) // ضعيف الجامع الصغير (375) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2084) إسناده ضعيف ¤ سعيد بن زرعة: مستور (تق:2306)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2087) (ضعیف) (سند میں ”سعید بن زرعہ حمصی“ مجہول الحال ہیں)
34: باب التَّدَاوِي بِالرَّمَادِ
باب: راکھ سے علاج کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سُئِلَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، وَأَنَا أَسْمَعُ، بِأَيِّ شَيْءٍ دُووِيَ جُرْحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: " مَا بَقِيَ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، كَانَ عَلِيٌّ يَأْتِي بِالْمَاءِ فِي تُرْسِهِ، وَفَاطِمَةُ تَغْسِلُ عَنْهُ الدَّمَ، وَأُحْرِقَ لَهُ حَصِيرٌ، فَحَشَا بِهِ جُرْحُهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوحازم کہتے ہیں کہ سہل بن سعد رضی الله عنہ سے پوچھا گیا اور میں سن رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کا کس چیز سے علاج کیا گیا ؟ انہوں نے کہا : اس چیز کو مجھ سے زیادہ جاننے والا اب کوئی باقی نہیں ہے ، علی رضی الله عنہ اپنی ڈھال میں پانی لا رہے تھے ، جب کہ فاطمہ رضی الله عنہا آپ کے زخم سے خون دھو رہی تھیں اور میں آپ کے لیے ٹاٹ جلا رہا تھا ، پھر اسی کی راکھ سے آپ کا زخم بھرا گیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2085]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء 72 (243)، والجھاد 80 (2903)، و 85 (2911)، و163 (3037)، والمغازي 24 (4075)، والنکاح 122 (5248)، والطب 27 (5722)، صحیح مسلم/الجھاد 37 (1790)، سنن ابن ماجہ/الطب 15 (3464) (تحفة الأشراف: 4688) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا مَثَلُ الْمَرِيضِ إِذَا بَرَأَ وَصَحَّ كَالْبَرْدَةِ تَقَعُ مِنَ السَّمَاءِ فِي صَفَائِهَا وَلَوْنِهَا ".
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب مریض صحت یاب اور تندرست ہو جائے تو شفافیت اور رنگ میں اس کی مثال اس اولے کی طرح ہے جو آسمان سے گرتا ہے “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2086]
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2086) إسناده ضعيف جدًا ¤ الوليد بن محمد: متروك (تق: 7453)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: لم یذکرہ) (موضوع) (سند میں ولید بن محمد موقری متروک الحدیث ہے، اور اس کی ملاقات بھی زہری سے نہیں ہے)
35: باب
باب: مریض کی عیادت سے متعلق ایک اور باب۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّكُّونِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلْتُمْ عَلَى الْمَرِيضِ فَنَفِّسُوا لَهُ فِي أَجَلِهِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَرُدُّ شَيْئًا وَيُطَيِّبُ نَفْسَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم مریض کے پاس جاؤ تو موت کے سلسلے میں اس کا غم دور کرو ۱؎ یہ تقدیر تو نہیں بدلتا ہے لیکن مریض کا دل خوش کر دیتا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2087]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کے لیے درازی عمر اور صحت یابی کی دعا کرو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (1438) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (303)، المشكاة (1572)، ضعيف الجامع الصغير (488)، الضعيفة (184) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2087) إسناده ضعيف /جه 1438 ¤ موسي بن محمد: منكر الحديث (تقدم: 1823)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز 1 (1438) (تحفة الأشراف: 4292) (ضعیف جداً) (سند میں موسیٰ بن محمد بن ابراہیم تیمي منکر الحدیث راوی ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا مِنْ وَعَكٍ كَانَ بِهِ، فَقَالَ: أَبْشِرْ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: " هِيَ نَارِي أُسَلِّطُهَا عَلَى عَبْدِي الْمُذْنِبِ لِتَكُونَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی عیادت کی جسے تپ دق کا مرض تھا ، آپ نے فرمایا : ” خوش ہو جاؤ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے : یہ میری آگ ہے جسے میں اپنے گنہگار بندے پر مسلط کرتا ہوں تاکہ یہ جہنم کی آگ میں سے اس کا حصہ بن جائے “ ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2088]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی وہ آخرت میں جہنم کی آگ سے محفوظ رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مریض کی عیادت کے وقت یوں بھی فرماتے تھے: «لابأس طهور إن شاء الله» ۔
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الطب 18 (3470) (تحفة الأشراف: 15439/ولم ینسبہ للترمذي)، و مسند احمد (2/440) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانِ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: " كَانُوا يَرْتَجُونَ الْحُمَّى لَيْلَةً كَفَّارَةً لِمَا نَقَصَ مِنَ الذُّنُوبِ ".
حسن بصری کہتے ہیں کہ ایک رات صحابہ یہ امید ظاہر کر رہے تھے کہ بخار چھوٹے گناہوں کے لیے کفارہ ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2089]
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2089) إسناده ضعيف ¤ سفيان الثوري و شيخه ھشام بن حسان مدلسان وعنعنا (تقدما: 746،460)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (صحیح الإسناد)
← پچھلی کتاب #28 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #30 →