جامع الترمذي حدیث نمبر: 2038
Jami at-Tirmidhi 2038
کتاب #29: کتاب: طب (علاج و معالجہ) کے احکام و مسائل
2: باب مَا جَاءَ فِي الدَّوَاءِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِ
باب: علاج کرنے کی ترغیب کا بیان۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: قَالَتْ الْأَعْرَابُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَتَدَاوَى؟ قَالَ: " نَعَمْ يَا عِبَادَ اللَّهِ، تَدَاوَوْا، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ شِفَاءً، أَوْ قَالَ: دَوَاءً، إِلَّا دَاءً وَاحِدًا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُوَ؟ قَالَ: الْهَرَمُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
اسامہ بن شریک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اعرابیوں ( بدوؤں ) نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا ہم ( بیماریوں کا ) علاج کریں ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، اللہ کے بندو ! علاج کرو ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بیماری پیدا کی ہے اس کی دوا بھی ضرور پیدا کی ہے ، سوائے ایک بیماری کے “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ کون سی بیماری ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” بڑھاپا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن مسعود ، ابوہریرہ ، «ابو خزامہ عن أبیہ» ، اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2038]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ مرض کے ساتھ ساتھ رب العالمین نے دوا اور علاج کا بھی بندوبست فرمایا ہے، لیکن بڑھاپا ایسا مرض ہے جس کا کوئی علاج نہیں، یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس سے پناہ مانگتے تھے، یہ بھی معلوم ہوا کہ علاج و معالجہ کرنا مباح ہے اور مرض کی شفاء کے لیے اسباب تلاش کرنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3436)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الطب 1 (3855)، سنن ابن ماجہ/الطب 1 (3436) (تحفة الأشراف: 127) (صحیح)