جامع الترمذي حدیث نمبر: 2039
Jami at-Tirmidhi 2039
کتاب #29: کتاب: طب (علاج و معالجہ) کے احکام و مسائل
3: باب مَا جَاءَ مَا يُطْعَمُ الْمَرِيضُ
باب: مریض کو کیا کھلایا جائے؟
وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو إِسْحَاق الطَّالْقَانِيُّ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ.
ابن مبارک نے یہ حدیث «عن يونس عن الزهري عن عروة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2039M]
💡 وضاحت:
۱؎: کتاب الطب میں روایت ہے کہ عائشہ رضی الله عنہا مریض اور میت پر غم کرنے والے کو تلبینہ پینے کا حکم دیتی تھیں اور کہتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے: تلبینہ مریض کے دل کو راحت اور سکون پہنچاتا ہے، اور غم کو کچھ ہلکا کرتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (3445) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (752)، المشكاة (4234) //
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأطعمة 24 (5417)، والطب 8 (5689، 5690)، صحیح مسلم/السلام 30 (2216) (تحفة الأشراف: 16539، 16744) (صحیح) (تحفة الأشراف میں ہے کہ ترمذی نے کہا: وقد روى الزهري عن عروة عن عائشة شيئا من هذا)