جامع الترمذي حدیث نمبر: 2082
Jami at-Tirmidhi 2082
کتاب #29: کتاب: طب (علاج و معالجہ) کے احکام و مسائل
31: باب مَا جَاءَ فِي التَّدَاوِي بِالْعَسَلِ
باب: شہد سے علاج کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَخِي اسْتَطْلَقَ بَطْنُهُ، فَقَالَ: اسْقِهِ عَسَلًا، فَسَقَاهُ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ سَقَيْتُهُ عَسَلًا فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْقِهِ عَسَلًا "، فَسَقَاهُ ثُمَّ جَاءَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ سَقَيْتُهُ عَسَلًا فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَدَقَ اللَّهُ وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ، اسْقِهِ عَسَلًا، فَسَقَاهُ عَسَلًا فَبَرَأَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی نے آ کر عرض کیا : میرے بھائی کو دست آ رہا ہے ، آپ نے فرمایا : ” اسے شہد پلاؤ “ ، چنانچہ اس نے اسے پلایا ، پھر آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے اسے شہد پلایا لیکن اس سے دست میں اور اضافہ ہو گیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے شہد پلاؤ “ ، اس نے اسے شہد پلایا ، پھر آپ کے پاس آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے اسے شہد پلایا لیکن اس سے دست میں اور اضافہ ہو گیا ہے ، ابو سعید خدری کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ( اپنے قول میں ) سچا ہے ، اور تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے ، اس کو شہد پلاؤ “ ، چنانچہ اس نے شہد پلایا تو ( اس بار ) اچھا ہو گیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2082]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الطب 4 (5684)، و 24 (5716)، صحیح مسلم/السلام 31 (2217)، (تحفة الأشراف: 4251)، و مسند احمد (3/19) (صحیح)