جامع الترمذي حدیث نمبر: 2055
Jami at-Tirmidhi 2055
کتاب #29: کتاب: طب (علاج و معالجہ) کے احکام و مسائل
14: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الرُّقْيَةِ
باب: جھاڑ پھونک کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اكْتَوَى أَوِ اسْتَرْقَى فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے بدن داغا یا جھاڑ پھونک کرائی وہ توکل کرنے والوں میں سے نہ رہا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن مسعود ، ابن عباس اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2055]
💡 وضاحت:
۱؎: شرکیہ الفاظ یا ایسے الفاظ جن کے معنی و مفہوم واضح نہ ہوں ان کے ذریعہ جھاڑ پھونک ممنوع ہے، ماثور الفاظ کے ساتھ جھاڑ پھونک جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3489)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2055) ¤ إسناده ضعيف /جه 3489 ¤ مجاھد سمعه من عقار ولكن لم يضبطه جيدًا فثبته فيه حسان بن أبى وجزة وھو مجھول الحال
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الطب 23 (3489) (تحفة الأشراف: 11518) (صحیح)